گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات

2026-06-08
گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 9 نشستوں پر میدان مار لیا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے اتوار کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے، پولنگ بغیر کسی وقفےکے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے9، آزاد امیدواروں نے5، مسلم لیگ (ن) نے 3 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشت حاصل کرلی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 1،4،5،7،9،10،11،12،19 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جبکہ جی بی اے20، 22 اور 18 پر ن لیگ اور جی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم جیتی اور جی بی اے 3،23،24,21 اور 6 پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔ اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے تمام 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پاکستان مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام 88 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5381 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6582 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4667 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم ليگن کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے12 شگر کے تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8682 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4300 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3865 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1302 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 1069 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے تمام 34 پولنگ اسٹیشنز میں سے 33 کے نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے کفایت الرحمن 5527 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 5059 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے تمام 78 پولنگ اسٹیشنز غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8210 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے تمام 69 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے عبدالجہاں 6917 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6758 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے آزاد امیدوار امان علی 9938 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6643 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4119 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
بی ایل اے سے مبینہ تعلق رکھنے والے بینک ملازم کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد
2026-07-29
سپریم کورٹ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے مبینہ تعلق رکھنے والے ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن نے مزید دستاویزات جمع کرانے کے لیے التوا کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کیس میں مزید دستاویزات جمع کرانی ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزم کا بی ایل اے سے رابطہ کیسے جوڑ دیا؟ ملزم ایک بینک کا ملازم تھا، گاڑی کی رقم منتقل کرنا بینک ملازم کا جرم کیسے بن گیا؟ بینک مینیجر نے تو صرف رقم منتقل کی، بینک افسر کو کیا معلوم کہ گاڑی کسی دھماکے میں استعمال ہوگی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خودکش بمبار سے ملزم کے تعلق سے متعلق دستاویزات پیش کرنی ہیں۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بتائیں بلال کا بی ایل اے سے کیا تعلق ہے؟ ملزم کے خلاف سی ٹی ڈی کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
رکھنی اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.0 ریکارڈ
2026-07-29
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے رکھنی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.0 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز رکھنی سے 5 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔ زلزلے کی گہرائی 37 کلو میٹر زیرِ زمین ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دریائے چناب بپھرنے لگا، پانی کی سطح بلند ہونے قریبی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایات جاری
2026-07-28
احمد پور شرقیہ: دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ہیڈ پنجند کے مقام پر سیلابی صورتحال شدت اختیار کرنے لگی جس پر ضلعی انتظامیہ نے قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ہیڈ پنجند پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 44 ہزار 809 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 30 ہزار 559 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے باعث نشیبی علاقوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی خطرات کے پیش نظر دریائے چناب کے کنارے آباد علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب بیٹ احمد، چک کہل، بیٹ بھٹو اور دیگر نشیبی علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نقل مکانی کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی ادارے اور ضلعی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کی صورت میں ریسکیو اور امدادی اقدامات مزید تیز کر دیے جائیں گے۔
دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا
2026-07-28
کراچی: دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام (MSC Mirjam) کراچی پورٹ پہنچ گیا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق 400 میٹر طویل اور 19 ہزار 500 ٹی ای یوز گنجائش رکھنے والا جہاز کامیابی سے SAPT-2 پر برتھ کر دیا گیا۔جہاز سے کراچی پورٹ پر 1,500 کنٹینرز کی لوڈنگ اور آف لوڈنگ ہوگی، جبکہ جہاز کی اگلی منزل صلالہ، سلطنتِ عمان ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ حکام کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے کنٹینر بردار جہاز کی کامیاب ہینڈلنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی پورٹ عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ ہے اور بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
لاہور: وزیر داخلہ محسن نقوی کی منصورہ میں حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات
2026-07-27
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جماعت اسلامی پاکستان کے قائمقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ عوامی مسائل کے حل سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی مسلسل کاوشوں کے باعث کشیدگی میں دوبارہ کمی آئی ہے۔ وزیر داخلہ نے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال پر حافظ نعیم الرحمان سے اظہارِ افسوس بھی کیا اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے سوگوار خاندان، جماعت کے قائدین اور کارکنان کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق قتل کیس: ملزم سعد عباسی کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
2026-07-27
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم سعد عباسی کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے 3 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو مزید سات روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس سے قبل پراسیکیوشن نے ملزم کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ سماعت کے دوران گرفتار ملزم سعد عباسی کو گزشتہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین کیانی نے عدالت کو بتایا کہ قتل میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے، جسے ملزم نے واردات کے بعد چھپا دیا تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اب ملزم سے موبائل فون برآمد کرنا اور مزید تفتیش کرنا باقی ہے، جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے ملزم کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پاکستان میں پہلی بار زمینی شوراب میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق
2026-07-25
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے ایک اہم سائنسی پیش رفت کرتے ہوئے ملک میں پہلی بار زمینی شوراب (فارمیشن واٹر/برائن) میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے، جس کی مقدار عالمی سطح پر پائے جانے والے معروف لیتھیم بردار جیوتھرمل شورابوں کے مساوی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اہم دریافت او جی ڈی سی کے پائلٹ جیوتھرمل پروگرام کے تحت ایک بلند درجہ حرارت کے کنویں سے حاصل ہونے والے فارمیشن واٹر کے جدید جیو کیمیائی تجزیے کے دوران سامنے آئی۔ او جی ڈی سی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس نوعیت کی یہ پہلی دریافت ہے، جس کے بعد ملک ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو جیوتھرمل شوراب کو لیتھیم کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ لیتھیم ایک نہایت اہم معدنیات ہے جو دنیا بھر میں صاف توانائی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ برقی گاڑیوں کی بیٹریوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے بڑے نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
آپریشن العزم؛ بلوچستان میں فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہوگئی
2026-07-25
بلوچستان میں فورسز کی آپریشن العزم کے تحت کارروائیوں میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 13 ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور اس دوران مستونگ کےعلاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں فتنہ الخوارج کومسلسل تباہی کا سامنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کے آپریشن العزم میں اب تک ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان کی متعدد کمین گاہوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ کامیاب آپریشن کے دوران اسلحہ، بارود اور آئی ای ڈی تیار کرنے کا مواد بھی برآمدکیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔
لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
2026-07-24
لاہور میں آج زیادہ تر موسم ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ سورج اور بادلوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ مون سون سسٹم کے تحت آج صبح لاہور میں سب سے زیادہ بارش فرخ آباد میں 40 اور گلشن راوی میں 34 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ سگیاں پل پر 34 اور سمن آباد میں 14 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی آگئی اور موسم خوش گوار ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے، مون سون کی بارشوں کا یہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہے گا۔
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
2026-07-24
اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی ، جس کے مطابق نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا ۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں۔ اس بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔ کیس میں درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب مرکزی اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ اٹارنی جنرل کا موقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا ۔ کیس کی سماعت میں نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے بھی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کیا تھا۔ اعتراض میں ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا کہا گیا تھا۔ 30 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری نیب کیسز کے حق اختیار سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کے بعد 30 صفحات پر مبنی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کی تمام فوجداری اپیلیں /زیر التوا درخواستیں آئینی عدالت منتقل کی جائیں۔ دوران سماعت وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ کے ضمانت فیصلہ کا حوالہ بھی دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اختیار سماعت کا نکتہ اٹھائے بغیر فیصلے کی وجوہات متعلقہ نیب ہی بتا سکتا ہے۔ اعتراض نہ اٹھانے کی کوتاہی کے باوجود قانون ہی اختیار سماعت طے کرتا ہے۔ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل سن سکتیں ہے۔ نیب کیسز کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ ضمانت سپریم کورٹ/مرکزی اپیل آئینی عدالت سنے۔ فورمز کا تضاد رکھا گیا تو قانون کے برخلاف ہوگا۔ کسی درخواست گزار کی ترجیح یا رضا مندی پر قانونی فورم ایجاد نہیں کیا جا سکتا کہ سائل اپنی مرضی سے فورم شاپنگ کرے۔
