سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جاسکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات

2026-09-15
اسلام آباد: 26 اگست کے پمز نرسری آتشزدگی کے واقعے کی تحقیق کے لیے وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی۔ یہ رپورٹ وزیراعظم شہبازشریف کے حکم سے جاری کی گئی ہے، جس کے مطابق پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 15 نومولود میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حوالے سے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج اور تباہ کن صورت اختیار کرنے کے عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا کے انتظامات، انفرادری اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور ضروری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی گئی۔ علاوہ ازیں سی سی ٹی وی ریکارڈ سے پمز نرسری میں ہنگامی صورتحال کے غیرمعمولی سرعت سے پیدا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جہاں فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی ۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود رہے۔ تقریباً 6:39:15 بجے تک گہرے دھویں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا۔ شواہد اس عمومی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سے ممکنہ کارروائی کی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ ممکنہ طور پر غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث پیدا ہوئی، کیبل انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتشگیر مواد کو آگ لگ گئی۔ رپورٹ کے مطابق شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے کے امکان، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی کو آگ لگنے کی وجہ قرار دینے یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکان کی تائید نہیں کرتے۔ انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی موجود نہیں۔ انکوائری کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی نوعیت کی خرابی تھی۔ برقی خرابی کی درست نوعیت اور اس کی روک تھام میں ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کیا جانا ضروری ہے۔ مینٹی نینس ریکارڈ کے مطابق نرسری کے اے سی یونٹس کی سروسنگ کی گئی تھی۔ ریکارڈ کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کے جامع برقی حفاظتی جانچ کا موثر نظام موجود نہیں تھا۔ اہم بات ہے کہ برقی آلات کا فعال ہونا اس امر کے مترادف نہیں کہ اس کی برقی تنصیب بھی آگ سے مکمل طور پر محفوظ تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلات کو فعال رکھنے اور ان کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے درمیان اہم ادارہ جاتی خلا موجود تھا۔ نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا۔ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے۔ متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، چنانچہ ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سرعت کے ساتھ ممکن نہیں تھا۔ اس موقع پر صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی بہت محدود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور نومولود بچوں کے انخلاء کے ایس او پیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتا لگانے، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے چند سیکنڈز میں کارروائی کی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی ای ایس ریکارڈ کے مطابق ایکسٹرنل نوٹیفیکیشن (بیرونی امداد) 06:54 بجے جبکہ ڈسپیچ 06:55 بجے اور آپریشنل آمد 07:01 بجے ثابت ہوتی ہے۔ لہذا بنیادی تشویش 6:38 بجے پر آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان کا وقفہ ناقابل قبول ہے ۔ پمز کوئی آزمودہ Incident Command System قائم کرنے کا ثبوت نہیں پیش کر سکا جو آگ کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلاء، خطرے کی روک تھام، رسائی کے انتظام اور مربوط امدادی کارروائی کو فعال کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز نرسری کا سانحہ معلوم شدہ مگر مکمل طور پر نظرانداز کیے گئے خطرات کے پس منظر میں پیش آیا،جو اسپتال انتظامیہ سے پیش بندی کے متقاضی تھے ۔ سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت اور وفاقی محتسب کی 2015ء کی سفارشات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پمز نے 2025ء میں ہی فرسودہ فائر سیفٹی انفرا اسٹرکچر کا اعتراف کیا تھا۔ 6 جولائی 2026ء کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ میں پہلے ہی آگ کا بروقت پتا لگانے، الارم، برقی معائنہ، انخلاء، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا چکی تھی۔ سابقہ تنبیہات کو نرسری سانحہ سے قبل جامع، مقررہ مدت اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اے سی یونٹ نمبر 2 کی مخصوص خرابی قبل ازوقت متعین نہ بھی ہوئی ہو، موثر فائر سیفٹی کے لیے مربوط اور مضبوط تیاری کی ضرورت واضح تھی جس کو اسپتال انتظامیہ نے یکسرنظراندازکیا۔ کمیٹی کے مطابق اس معاملے میں نظامی اورادارہ جاتی ناکامی ثابت ہوئی تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین دستیاب شواہد کی بنیاد پرمتعلقہ قواعد کے مطابق کیاجائے گا۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سکیورٹی چین کے فرائض بالکل واضح ہیں لیکن ان کے مطابق ایس او پیزموجودنہیں۔ طبی عملے کی لازمی موجودگی یا نگرانی اہم ہے۔ انجینئرنگ،برقی اور ایچ وی اے سے کی مینٹی نینس اور ریپیئر کے معاملات مزید تفتیش کے متقاضی ہیں۔ آگ لگنے کا غالباً ذریعہ اے سی یونٹ نمبر 2 کا برقی انتظام تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹرز کی ذمہ داری کا تعین صرف انہیں تفویض کردہ حقیقی فرائض اورمزید تفتیش کی بنیاد پر کیا جائے۔ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم کا ارتکاب ثابت نہیں ہوتا،جو مزید فوجداری تفتیش کا متقاضی ہے۔ شواہد 4 ممکنہ پہلوؤں پر ایسی مزید تحقیقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا مینٹی نینس میں قابل مواخذہ غفلت، لازمی ہنگامی راستے میں قابل مواخذہ رکاوٹ، مخصوص سابقہ تنبیہ کے باوجود کارروائی میں ناکامی اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ قابل مواخذہ تاخیرکی مزید فوجداری تحقیقات کی جائیں۔ رپورٹ کے مطابق فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ فرائض، خطرے سے آگاہی، کارروائی کا اختیار، غفلت کی نوعیت اور شدت، ناکام حفاظتی اقدام اور اس کے نتیجے میں کردار اور قابل اطلاق قانون کے تحت جرم کے عناصر کا فوجداری تحقیقات میں احاطہ ضروری ہے۔ جن فرنٹ لائن اہلکاروں کی امدادی کارروائی شواہد سے ثابت ہے، انہیں محض اس لیے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ سانحہ کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔ انکوائری کمیٹی نے فوری فائر سیفٹی، انسانی جانوں کے تحفظ اور برقی حفاظتی آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے۔ فائر ڈیٹیکشن، الارم، آگ بجھانے اور محفوظ انخلا کے مؤثر نظام یقینی بنانے کی بھی سفارش موجود ہے۔ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے مخصوص ایس او پی اور حقیقت پسندانہ فائر و ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ برقی حفاظتی اقدامات اور اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے مؤثر انتظامی نظام قائم کیا جائے۔ پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی اسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور موثر کمپلائنس کے نظام کو یقینی بنایا جائے، جس میں ہر خامی کے لیے ذمہ دار افسر، مقررہ مدت، مطلوبہ وسائل، عبوری حفاظتی اقدام، آزادانہ تصدیق اور باضابطہ تکمیل کا واضح طریقہ کار موجود ہو۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ کسی اقدام کا محض منظور یا زیر عمل ہونا اس کے نفاذ کا ثبوت نہیں۔ حفاظتی اقدام اسی وقت نافذ تصور ہوگا جب خطرہ عملی طور پر ختم ہو اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی ہو جائے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق مقامی برقی خرابی سے آگ لگنے کا امکان قوی ہے، آتش گیر مواد اور آکسیجن نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔ نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچوں، محدود انخلا کی صلاحیت نے امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا۔ نومولود بچوں کے لیے باقاعدہ مشق شدہ ہنگامی نظام کی عدم موجودگی نے ریسکیو کو محدود کیا اور ادارہ جاتی سطح پر ہنگامی کارروائی میں تاخیر نے ردعمل کو مزید کمزور کیا۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے موجود انتظامی، مینٹی نینس اور ریگولیٹری خامیوں نے مختلف کمزوریوں کو برقرار رہنے دیا۔ 14نومولود صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی سے نہیں بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کے موثر ہونے کی کبھی تصدیق نہ کئے جانے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نے 26 اگست 2026ء کو پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے چیئرمین سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان تھے جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹرخورشید، بیرسٹر نبیل احمد اعوان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور ڈپٹی کمشنر آئی سی ٹی اس کے ارکان تھے۔ کمیٹی کو ضرورت کے مطابق مزید ماہرین کو شریک کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رشید اے چوتانی کو ماہر رکن کے طور پرامریکا سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ کمیٹی نے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ پیش کی ، جو 28 اگست کو جمع کرائی گئی۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا زیرو ڈرافٹ 3 ستمبر، پہلا ڈرافٹ 4 ستمبر اور حتمی ڈرافٹ 6 ستمبر کو تیار کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام اراکین کی آراء اور تجاویز کو حتمی رپورٹ میں شامل کیا۔ کمیٹی نے نومولود بچوں کے انخلا اور فائر و لائف سیفٹی تقاضوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ انکوائری کمیٹی نے انفرادی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور اصلاحی اقدامات کی سفارشات تیار کیں۔ انکوائری صرف آگ لگنے کے مقام کی نشاندہی تک محدود نہیں تھی، مکمل حفاظتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے روک تھام، تیاری، ڈیٹیکشن، اطلاع، انخلا، امداد، نگرانی اور جواب دہی کے مکمل سلسلے کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 52 نکاتی منظم تحقیقی فریم ورک کے تحت وجوہ و اسباب اور جواب دہی کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ثابت شدہ حقیقت، ممکنہ تکنیکی نتیجے، بادی النظر ذمہ داری اورحل طلب معاملے میں فرق رکھا۔ ماہر فرانزک شواہد کی موجودگی میں ابتدائی گواہانہ بیانات کو تکنیکی ثبوت نہیں سمجھا گیا۔
شادی کی تقریب میں اسلحے کی نمائش اور فلمی انداز میں اندھا دھند فائرنگ، ویڈیو وائرل
2026-09-18
پشاور: لوئر دیر کے علاقے اوچ میں شادی کی تقریب کے دوران اسلحے کی نمائش اور فلمی انداز میں اندھا دھند فائرنگ کرنے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اندھا دھند فائرنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والے ملزمان پولیس کے شکنجے میں آ گئے، گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرکے قانونی کارروائی جاری ہے۔ گرفتار ملزمان میں علی رحمان، ابدار، عثمان اور محمد توقیر شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق شادی کی تقریبات میں ہوائی فائرنگ غیر قانونی اور خطرناک عمل ہے، شہری خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ سے اجتناب کریں۔
راولپنڈی: گھر سے یونیورسٹی طالبہ کی پھندا لگی لاش برآمد
2026-09-18
راولپنڈی: تھانہ نصیر آباد کے علاقے اعوان ٹاؤن میں گھر سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طالبہ کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے بھائی نے اطلاع دی کہ اس کی بہن کمرے میں سوئی ہوئی تھی، صبح دیکھا تو وہ دوپٹے کے ذریعے پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق لڑکی نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے۔ پولیس نے فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ خودکشی ہے یا کوئی اور معاملہ، حتمی صورتحال فرانزک رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتیں، گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بڑا اضافہ
2026-09-18
کراچی: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے کرایوں میں بھی بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل دیا۔ ویڈیو پیغام میں ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ہم 7 فیصد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھانے کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ گزشتہ 7روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 26روپے 88 پیسے اور پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 20 روپے اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی اور مسلسل اضافے کی پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز مذمت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ اور تبدیلی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے، اسے فوری واپس لیا جائے۔ ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے ہمارا ٹرانسپورٹرز بے روز گار ہو رہا ہے، ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی دی جائے اور ٹول ٹیکس ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکسیز میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 8 اگست سے 17 اگست تک کی ملک گیر ہڑتال میں جو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے معاہدے کیے گئے ان پر عمل درآمد کروایا جائے، ہم نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو 40 دن کا ٹائم دیا تھا جو اگلے ہفتے ٹائم ختم ہو رہا ہے۔ صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ مقررہ وقت پر معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز ملک گیر ہڑتال کریں گے۔ اگر گڈز ٹرانسپورٹرز کو حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں ملتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی ان قیمتوں میں ہم ٹرانسپورٹ نہیں چلا سکتے۔
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جاسکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
2026-09-15
اسلام آباد: 26 اگست کے پمز نرسری آتشزدگی کے واقعے کی تحقیق کے لیے وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی۔ یہ رپورٹ وزیراعظم شہبازشریف کے حکم سے جاری کی گئی ہے، جس کے مطابق پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 15 نومولود میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حوالے سے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج اور تباہ کن صورت اختیار کرنے کے عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا کے انتظامات، انفرادری اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور ضروری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی گئی۔ علاوہ ازیں سی سی ٹی وی ریکارڈ سے پمز نرسری میں ہنگامی صورتحال کے غیرمعمولی سرعت سے پیدا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جہاں فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی ۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود رہے۔ تقریباً 6:39:15 بجے تک گہرے دھویں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا۔ شواہد اس عمومی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سے ممکنہ کارروائی کی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ ممکنہ طور پر غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث پیدا ہوئی، کیبل انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتشگیر مواد کو آگ لگ گئی۔ رپورٹ کے مطابق شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے کے امکان، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی کو آگ لگنے کی وجہ قرار دینے یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکان کی تائید نہیں کرتے۔ انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی موجود نہیں۔ انکوائری کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی نوعیت کی خرابی تھی۔ برقی خرابی کی درست نوعیت اور اس کی روک تھام میں ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کیا جانا ضروری ہے۔ مینٹی نینس ریکارڈ کے مطابق نرسری کے اے سی یونٹس کی سروسنگ کی گئی تھی۔ ریکارڈ کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کے جامع برقی حفاظتی جانچ کا موثر نظام موجود نہیں تھا۔ اہم بات ہے کہ برقی آلات کا فعال ہونا اس امر کے مترادف نہیں کہ اس کی برقی تنصیب بھی آگ سے مکمل طور پر محفوظ تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلات کو فعال رکھنے اور ان کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے درمیان اہم ادارہ جاتی خلا موجود تھا۔ نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا۔ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے۔ متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، چنانچہ ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سرعت کے ساتھ ممکن نہیں تھا۔ اس موقع پر صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی بہت محدود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور نومولود بچوں کے انخلاء کے ایس او پیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتا لگانے، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے چند سیکنڈز میں کارروائی کی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی ای ایس ریکارڈ کے مطابق ایکسٹرنل نوٹیفیکیشن (بیرونی امداد) 06:54 بجے جبکہ ڈسپیچ 06:55 بجے اور آپریشنل آمد 07:01 بجے ثابت ہوتی ہے۔ لہذا بنیادی تشویش 6:38 بجے پر آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان کا وقفہ ناقابل قبول ہے ۔ پمز کوئی آزمودہ Incident Command System قائم کرنے کا ثبوت نہیں پیش کر سکا جو آگ کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلاء، خطرے کی روک تھام، رسائی کے انتظام اور مربوط امدادی کارروائی کو فعال کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز نرسری کا سانحہ معلوم شدہ مگر مکمل طور پر نظرانداز کیے گئے خطرات کے پس منظر میں پیش آیا،جو اسپتال انتظامیہ سے پیش بندی کے متقاضی تھے ۔ سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت اور وفاقی محتسب کی 2015ء کی سفارشات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پمز نے 2025ء میں ہی فرسودہ فائر سیفٹی انفرا اسٹرکچر کا اعتراف کیا تھا۔ 6 جولائی 2026ء کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ میں پہلے ہی آگ کا بروقت پتا لگانے، الارم، برقی معائنہ، انخلاء، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا چکی تھی۔ سابقہ تنبیہات کو نرسری سانحہ سے قبل جامع، مقررہ مدت اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اے سی یونٹ نمبر 2 کی مخصوص خرابی قبل ازوقت متعین نہ بھی ہوئی ہو، موثر فائر سیفٹی کے لیے مربوط اور مضبوط تیاری کی ضرورت واضح تھی جس کو اسپتال انتظامیہ نے یکسرنظراندازکیا۔ کمیٹی کے مطابق اس معاملے میں نظامی اورادارہ جاتی ناکامی ثابت ہوئی تاہم انفرادی ذمہ داری کا تعین دستیاب شواہد کی بنیاد پرمتعلقہ قواعد کے مطابق کیاجائے گا۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سکیورٹی چین کے فرائض بالکل واضح ہیں لیکن ان کے مطابق ایس او پیزموجودنہیں۔ طبی عملے کی لازمی موجودگی یا نگرانی اہم ہے۔ انجینئرنگ،برقی اور ایچ وی اے سے کی مینٹی نینس اور ریپیئر کے معاملات مزید تفتیش کے متقاضی ہیں۔ آگ لگنے کا غالباً ذریعہ اے سی یونٹ نمبر 2 کا برقی انتظام تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹرز کی ذمہ داری کا تعین صرف انہیں تفویض کردہ حقیقی فرائض اورمزید تفتیش کی بنیاد پر کیا جائے۔ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم کا ارتکاب ثابت نہیں ہوتا،جو مزید فوجداری تفتیش کا متقاضی ہے۔ شواہد 4 ممکنہ پہلوؤں پر ایسی مزید تحقیقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا مینٹی نینس میں قابل مواخذہ غفلت، لازمی ہنگامی راستے میں قابل مواخذہ رکاوٹ، مخصوص سابقہ تنبیہ کے باوجود کارروائی میں ناکامی اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ قابل مواخذہ تاخیرکی مزید فوجداری تحقیقات کی جائیں۔ رپورٹ کے مطابق فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ فرائض، خطرے سے آگاہی، کارروائی کا اختیار، غفلت کی نوعیت اور شدت، ناکام حفاظتی اقدام اور اس کے نتیجے میں کردار اور قابل اطلاق قانون کے تحت جرم کے عناصر کا فوجداری تحقیقات میں احاطہ ضروری ہے۔ جن فرنٹ لائن اہلکاروں کی امدادی کارروائی شواہد سے ثابت ہے، انہیں محض اس لیے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ سانحہ کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔ انکوائری کمیٹی نے فوری فائر سیفٹی، انسانی جانوں کے تحفظ اور برقی حفاظتی آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے۔ فائر ڈیٹیکشن، الارم، آگ بجھانے اور محفوظ انخلا کے مؤثر نظام یقینی بنانے کی بھی سفارش موجود ہے۔ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے مخصوص ایس او پی اور حقیقت پسندانہ فائر و ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ برقی حفاظتی اقدامات اور اثاثہ جات کی حفاظت کے لئے مؤثر انتظامی نظام قائم کیا جائے۔ پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی اسپتال انتظامیہ، مضبوط ریگولیٹری نگرانی اور موثر کمپلائنس کے نظام کو یقینی بنایا جائے، جس میں ہر خامی کے لیے ذمہ دار افسر، مقررہ مدت، مطلوبہ وسائل، عبوری حفاظتی اقدام، آزادانہ تصدیق اور باضابطہ تکمیل کا واضح طریقہ کار موجود ہو۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ کسی اقدام کا محض منظور یا زیر عمل ہونا اس کے نفاذ کا ثبوت نہیں۔ حفاظتی اقدام اسی وقت نافذ تصور ہوگا جب خطرہ عملی طور پر ختم ہو اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی ہو جائے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق مقامی برقی خرابی سے آگ لگنے کا امکان قوی ہے، آتش گیر مواد اور آکسیجن نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔ نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچوں، محدود انخلا کی صلاحیت نے امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا۔ نومولود بچوں کے لیے باقاعدہ مشق شدہ ہنگامی نظام کی عدم موجودگی نے ریسکیو کو محدود کیا اور ادارہ جاتی سطح پر ہنگامی کارروائی میں تاخیر نے ردعمل کو مزید کمزور کیا۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے موجود انتظامی، مینٹی نینس اور ریگولیٹری خامیوں نے مختلف کمزوریوں کو برقرار رہنے دیا۔ 14نومولود صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی سے نہیں بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کے موثر ہونے کی کبھی تصدیق نہ کئے جانے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نے 26 اگست 2026ء کو پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے چیئرمین سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان تھے جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹرخورشید، بیرسٹر نبیل احمد اعوان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور ڈپٹی کمشنر آئی سی ٹی اس کے ارکان تھے۔ کمیٹی کو ضرورت کے مطابق مزید ماہرین کو شریک کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رشید اے چوتانی کو ماہر رکن کے طور پرامریکا سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ کمیٹی نے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ پیش کی ، جو 28 اگست کو جمع کرائی گئی۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا زیرو ڈرافٹ 3 ستمبر، پہلا ڈرافٹ 4 ستمبر اور حتمی ڈرافٹ 6 ستمبر کو تیار کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام اراکین کی آراء اور تجاویز کو حتمی رپورٹ میں شامل کیا۔ کمیٹی نے نومولود بچوں کے انخلا اور فائر و لائف سیفٹی تقاضوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ انکوائری کمیٹی نے انفرادی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور اصلاحی اقدامات کی سفارشات تیار کیں۔ انکوائری صرف آگ لگنے کے مقام کی نشاندہی تک محدود نہیں تھی، مکمل حفاظتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے روک تھام، تیاری، ڈیٹیکشن، اطلاع، انخلا، امداد، نگرانی اور جواب دہی کے مکمل سلسلے کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 52 نکاتی منظم تحقیقی فریم ورک کے تحت وجوہ و اسباب اور جواب دہی کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ثابت شدہ حقیقت، ممکنہ تکنیکی نتیجے، بادی النظر ذمہ داری اورحل طلب معاملے میں فرق رکھا۔ ماہر فرانزک شواہد کی موجودگی میں ابتدائی گواہانہ بیانات کو تکنیکی ثبوت نہیں سمجھا گیا۔
کراچی میں ہنڈی حوالہ کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، ایک کروڑ 8 لاکھ روپے برآمد
2026-09-15
کراچی: کراچی میں ہنڈی حوالہ کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے دوران ایک کروڑ 8 لاکھ روپے برآمد کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل اور کمرشل بینکس سرکل کراچی نے غیر قانونی ہنڈی حوالہ اور کرنسی ڈیلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران ایک کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمد کی گئی۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی ہنڈی حوالہ اور منی ویلیو ٹرانسفر سروسز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران اہم ڈیجیٹل شواہد بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل کراچی کی ٹیم نے لیاری، ضلع جنوبی کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے سراج عرف سکندر عرف رابرٹ کو گرفتار کیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران غیر قانونی ہنڈی حوالہ سے متعلق 45 لاکھ روپے برآمد کیے گئے، جبکہ ملزم کے قبضے سے 2 موبائل فونز بھی تحویل میں لیے گئے۔ ایف آئی اے ترجمان نے بتایا کہ موبائل فونز میں بینکنگ چینلز استعمال کیے بغیر بین الاقوامی رقوم کی منتقلی سے متعلق آڈیو اور ٹیکسٹ پیغامات موجود تھے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات کے ذریعے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر ملزمان کا سراغ لگایا جارہا ہے۔ دوسری کارروائی میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی کی ٹیم نے ناظم آباد انڈر پاس کے قریب کارروائی کرتے ہوئے سمیر جاوید ولد محمد جاوید اور محمد عرفان ولد محمد اسلم کو گرفتار کیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دونوں ملزمان غیر قانونی ہنڈی حوالہ کی رقم کی وصولی میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے زیر استعمال گاڑی سے 63 لاکھ روپے نقد اور ایک موبائل فون برآمد کرکے قبضے میں لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق موبائل فون میں غیر قانونی ہنڈی حوالہ سرگرمیوں سے متعلق شواہد موجود تھے۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 03/2026 درج کرلی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کراچی میں غیر قانونی ہنڈی حوالہ، منی ویلیو ٹرانسفر سروسز اور فارن ایکسچینج قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
عمران خان نااہل ہیں، وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتے، شیر افضل مروت
2026-09-14
اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے، وہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کر سکتے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سہیل آفریدی نااہلی کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سیاسی سرگرمی چل رہی ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے سوال اٹھایا کہ اس کیس میں کون سا آئینی معاملہ ہے۔ شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا طریقہ آرٹیکل 130 کی ذیلی شق 8 کے خلاف ہے ، انہوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا۔ آرٹیکل 130 کی شق 8 کے مطابق پبلک آفس ہولڈر بغیر بیرونی دباؤ عہدہ چھوڑ سکتا ہے، تاہم پبلک آفس ہولڈر بیرونی دباؤ پر استعفیٰ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور بھی نہیں کیا تھا، جس کے بعد دوسری مرتبہ ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ بھیجا گیا۔ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کا اس حوالے سے فیصلہ بھی موجود ہے۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ اور نااہل ہوچکے ہیں۔ نااہل پارٹی سربراہ وزیراعلیٰ کا انتخاب نہیں کرسکتا، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹایا جائے۔ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دیا۔ انہیں تاحال ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ آئینی طریقہ کار نہ اپنایا جائے تو تعیناتی غلط ہوگی۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے اور انہیں آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس میں فریقین اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو نوٹس جاری کردیے اور سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
میر رضا قتل کیس میں نیا موڑ؛ والدین نے عدالت میں درخواست دائر کردی
2026-09-14
کراچی: میر رضا قتل کیس میں والدین کے وکلا نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کردی۔ عدالت میں دائر کی گئی اس نئی درخواست میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس نے تفتیش کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کو خود تسلیم کیا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ موجود ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ حقائق عدالتی فیصلے میں نظر انداز ہوئے ہیں، جبکہ میر رضا کے قتل کے حقائق جاننے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ درخواست کے مطابق تفتیش شفاف اور غیر جانبدارانہ کروانے کے لیے جے آئی ٹی کی ضرورت ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاک
2026-09-14
مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے کمانڈر نقیب سمیت 9 دہشتگرد ہلاک کردیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ضلع مستونگ میں کامیاب کارروائی کے دوران کمانڈر نقیب سمیت 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کی گاڑی کو کواڈ کاپٹر کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی کو کامیابی سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے اور ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پشین میں سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 مبینہ دہشتگرد ہلاک دوسری جانب پشین میں پولیس، اے ٹی ایف اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ سے ملحقہ علاقوں سرانان، کلی اجرم، کلی سلطان، کلی مسافر اور گردونواح میں کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ آپریشن کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، جس میں فائرنگ کے تبادلے میں 6 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے دوران 5 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ آپریشن میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔ پشین کے علاقے سرانان میں سی ٹی ڈی نے آپریشن کیا، جہاں فائرنگ کے تبادلہ میں 6 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق فائرنگ کے باعث سی ٹی ڈی کے 4 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک مبینہ دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایاجاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق مبینہ دہشتگردوں سے اسلحہ و بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ ہلاک دہشتگرد گزشتہ کچھ عرصہ سے فورسز اورعام شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے، جن کی لاشوں کو کوئٹہ اسپتال منتقل کر دیا گیا،تاحال شناخت عمل میں نہیں آئی ہے۔
جنگ ستمبر 1965ء: دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے عظیم شہدا کو قوم کا سلام
2026-09-11
جنگ ستمبر 1965ء میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے شہداء کو قوم کی جانب سے سلام پیش کیا جا رہا ہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران جری جانبازوں کی قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جنگ کے11 ویں روز لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان، میجر ضیاء الدین احمد عباسی اور لیفٹیننٹ حسین شاہ دشمن کیخلاف جوانمردی سے لڑتے ہوئےشہیدہوئے۔ لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان سیالکوٹ کے محاذ پر کمانڈنگ آفیسر تھے جہاں ٹینکوں کی شدید لڑائی ہوئی۔ اسی اثناء میں لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان کوان کی بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ میجر ضیاء الدین احمد عباسی سیالکوٹ میں تعینات تھے، جہاں قبضے کے لیے بھارت نے بھرپور حملہ کر رکھا تھا اوردشمن کا اگلا ہدف وزیرآباد تھا۔ میجر ضیاء الدین احمد عباسی دشمن کے ارادوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن کر کھڑے ہو ئے اور ان کی دلیرانہ قیادت نے دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ میجر ضیاء الدین احمد عباسی اپنے ٹینک پر کھڑے تھے کہ دشمن کے فائر کی زد میں آ گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ میجر ضیاء الدین احمد عباسی کو ان کے بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ حسین شاہ بھی دشمن کیخلاف بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہادت کےعظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ لیفٹیننٹ حسین شاہ کو بعد از شہادت بہادری کے اعتراف میں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان،میجر ضیاء الدین احمد عباسی اور لیفٹیننٹ حسین شاہ کا نام جنگ ستمبر 1965 ء کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
کرم میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، افغان خارجی عبید اللہ سعد سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
2026-09-11
پشاور: کرم ڈسٹرکٹ میں سیکیورٹی فورسز نے 8 ستمبر 2026 کو خوارج کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج سے منسلک افغان خارجی عبید اللہ سعد کو تین ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا خارجی عبید اللہ سعد ولد غلام غوث صالحی افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ کا رہائشی تھا اور کالعدم فتنۃ الخوارج سے وابستہ تھا۔ یاد رہے کہ عبید اللہ سعد پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان سے دراندازی کرنے والے ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، جبکہ ملک کے امن و سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرم میں فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی اور افغان خارجی سمیت 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ محسن نقوی نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر سپوت ہمارا سرمایہ افتخار ہیں، قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
