میری دائیں آنکھ کی بینائی

2026-02-12
اسلام آباد: اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ سامنے آگئی جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹرعاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے، ان کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے، ان کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق حفاظت اور سکیورٹی سے متعلق درخواست گزارنے بیان کیا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی تشویش نہیں ہے، عمران خان نے راقم کوبتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں نگرانی کے لیے تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کےحصے تک ہےتاہم کمرے/سیل کے اندر کوئی کیمرہ نصب نہیں ہے۔ ’عمران خان 11:30 بجے سے لگ بھگ ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں‘ رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9:45 پرناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے سے لگ بھگ ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں، پھروہ اپنے لیے دستیاب محدود آلاتِ ورزش استعمال کرتے ہوئےجسمانی ورزش کرتے ہیں، دوپہر 1:15 پرغسل کےبعد بانی پی ٹی آئی کو محفوظ کمپاؤنڈ کے اندر موجود چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے، کمپاؤنڈ کے اندر وہ بیٹھ سکتے ہیں یا چہل قدمی کرسکتے ہیں، ان کا دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پرعمران خان نے اپنی حفاظت اور سکیورٹی کے بارے میں کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا، درخواست گزار نے بیان کیا کہ ان کا روزمرہ معمول گرمیوں اور سردیوں میں مختلف ہوتا ہے، تقریباً شام 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں، ان کا سیل بلاک اڈیالا جیل کے اندر تقریباً 5منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔ دوپہر کے کھانے کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے: رپورٹ رپورٹ کے مطابق سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے، زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ تھیں، اشیائے خورو نوش میں مصالحہ جات اور خشک میوہ جات شامل تھے،کچن کی صفائی کے حوالے سے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ وہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کا کھانا ان کےمطابق ہفتہ وارمنصوبہ بندی کےتحت منتخب کیاجاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے، دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا دو دن چاٹ یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مزید بتایا کہ انہیں بوتل بند پینے کا پانی (نجی کمپنی کا پانی ) دستیاب ہے، وہ مکمل کھانا نہیں لیتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا کہ عمران خان کے سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا اور ایک بلوور ہیٹر موجود ہے، سیل میں 2 میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی/بیڈ، ایک کرسی اور ایک چھوٹا ریک موجود تھا جب کہ سیل کے اندر 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، سیل میں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، سیل میں ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل موجود تھے، سیل کے اندر جائے نماز ،تسبیح موجود تھی، 2 تولیے بھی تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا: رپورٹ رپورٹ کے مطابق تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، ساتھ دو سیب،دو ڈمبلز بھی تھے، ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ائیر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی موجود تھے، سیل کے اندر تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ تھا ، ٹوائلت کو 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی، ٹوائلٹ کے باہر گرم اور ٹھنڈےپانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل، یعنی اکتوبر2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اب ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، اس کے بعد مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی، متعدد بار اُس وقت کےسپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظرکے مدھم ہونے کی شکایت سےآگاہ کیا ، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کےلیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، بعد ازاں اچانک دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی جس کےبعد پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو کے معائنے کے لیے بلایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج (بشمول ایک انجیکشن) کےباوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی۔
کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے
2026-07-31
کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد پھنسنے والے افراد میں سے 11 کی لاشیں نکال لی ہیں۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں دھماکے کے باعث متعدد کان کن پھنس گئے تھے جن کی تلاش جاری ہے اور کان سے اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود آپریشن مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، متاثرہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلائے جا رہے ہیں۔ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کوفی کس5 لاکھ روپے اورزخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا جبکہ حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔ اس سے قبل گفتگو کتے ہوئے کوئلہ کان مالک نے بتایا تھا کوئلہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکا ہوا، کان میں دھماکے کے وقت42 مزدور تھے اور کان میں پھنسے تمام مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخواکے علاقے شانگلہ سے ہے۔
ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں
2026-07-31
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے، نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلےکا حل ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کی تقریب سے خطاب میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں کوشش کرتا ہوں کے سیاسی تقریر نہ کروں، آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی، جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں یہ گرچکا ہے، اس میں مسائل حل نہیں ہوسکتے، یہ نظام چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم بیٹھ کر ان مسائل پر بات کر رہے ہوں گے، جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے، سوال یہ ہےکہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا؟ جس دن آپ لوگوں نے ٹھیک کرنےکا فیصلہ کرلیا تو یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کہیں، یا صوبے جو بھی نام دیں، ہمیں ان کی طرف جانا ہوگا، جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے ملک ایسے ہی چلتا رہےگا، نئے انتظامی یونٹ یا صوبوں کا معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنا حق مانگ رہے ہیں ، میرٹ پر ملازمت چاہتے ہیں، آپ نوجوان کہیں یا کاکروچ اگر یہ اکٹھے ہوگئے توہر چیز کو الٹ سکتے ہیں، کونسا گھر ہے جو مہینہ شروع ہونے پر لاکھوں روپےکا مقروض ہو اور چلایا جائے، ہم اپنا بجٹ نیگیٹو میں بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ دینا ہے، ہم قرض اور لیتے رہیں گے، اس کو ٹھیک نہیں کریں گے، آپ کا ہر سال قرضہ بڑھتا جارہا ہے، جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 12-14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وزیراعظم 18 گھنٹے بھی کام کرلیں، وہ صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔
پاک بحریہ کا کامیاب ریسکیو آپریشن، ماہی گیروں کی کشتی کوبچا لیا، وزیراعظم کا خراجِ تحسین
2026-07-30
پاک بحریہ کے جہازپی این ایس تیمور نے کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ماہی گیروں کی کشتی کوبچا لیا جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی بحیرۂ عرب میں پھنسے ماہی گیروں کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک بحریہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اپنے ایک جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس تیمور نے کامیاب آپریشن کے دوران سمندر میں پھنسے 19 ماہی گیروں کو بحفاظت بچایا۔ وزیراعظم نے کشتی پر سوار عملے کے تمام 19 افراد، جن میں 11 پاکستانی اور 8 ایرانی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچانے پر آپریشن میں شریک پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کی پزیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کے جوانوں نے کشتی کے عملے کو سمندر میں خوراک، پینے کا پانی اور طبی امداد فراہم کی، جو ہماری افواج کی انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ کامیاب ریسکیو آپریشن سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے عزم اور ہمہ وقت تیاری کا مظہر ہے۔ پاک بحریہ کےجہازپی این ایس تیمور نے شمالی بحیرۂ عرب میں کامیاب ریسکیو آپریشن کیا اور سمندرمیں پھنسے 19ماہی گیروں کوبحفاظت ریسکیو کیا۔ ماہی گیروں کی کشتی گوادر سے تقریباً 120ناٹیکل میل جنوب میں انجن کی خرابی کےباعث پھنس گئی تھی، کشتی میں 11 پاکستانی اور 8 ایرانی شہریوں سمیت 19 افرادسوار تھے۔ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر نے سرچ اینڈریسکیوآپریشن کے لیے پاک بحریہ سے رابطہ کیا تھا، پاک بحریہ کے جوانوں نے کشتی کے عملےکو سمندر میں خوراک، پینےکاپانی اور طبی امداد فراہم کی۔ مزید براں سمندر میں انجن کی خرابی کےباعث پھنسی ہوئی کشتی کوپاک بحریہ نے بحفاظت ساحل تک منتقل کیا۔
منشیات ڈیلر انمول پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ تبدیل، وجہ سامنے آگئی
2026-07-30
کراچی: منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ تبدیل کیے جانے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف قائم مقدمہ قتل تبدیل کردیا ہے۔پولیس نے مقدمہ قتل کو قتل بالسبب میں تبدیل کیا ہے۔ اس حوالے سے تفتیشی افسر نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا حتمی چالان عدالت میں جمع کرادیا ہے۔ چالان کی اسکروٹنی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر اسد اللہ میتلو اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے کی ہے۔ چالان کے مطابق مقدمے سے قتل کی دفعہ کراچی یونیورسٹی کی کیمیکل رپورٹ کی روشی ختم کی گئی ہے۔ کیمیکل رپورٹ سے ثابت ہوتا ہےکہ مرنے والے کی موت نشےکی وجہ سے ہوئی۔ چالان میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والا شخص کون تھا شناخت نہیں ہوسکی۔ مرنے والے کا ڈی این اے بھی نہیں ہوسکتا۔ واضح رہے کہ قتل کیس میں زیادہ سے زیادہ سزائے موت جبکہ کم سے کم سزا عمر قید ہوتی جب کہ زیر دفعہ 322 قتل بالسبب میں ملزمہ کو دیت ادا کرنے کا کہا جائے گا۔ یاد رہے کہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی پولیس نے مقدمہ قتل درج کیا تھا۔ قتل کی یہ ایف آئی آر لاش ملنے کے ایک ماہ بعد درج کی گئی تھی اور مدعی مقدمہ عدالت کے روبرو زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروا چکا ہے۔
بی ایل اے سے مبینہ تعلق رکھنے والے بینک ملازم کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد
2026-07-29
سپریم کورٹ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے مبینہ تعلق رکھنے والے ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن نے مزید دستاویزات جمع کرانے کے لیے التوا کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کیس میں مزید دستاویزات جمع کرانی ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزم کا بی ایل اے سے رابطہ کیسے جوڑ دیا؟ ملزم ایک بینک کا ملازم تھا، گاڑی کی رقم منتقل کرنا بینک ملازم کا جرم کیسے بن گیا؟ بینک مینیجر نے تو صرف رقم منتقل کی، بینک افسر کو کیا معلوم کہ گاڑی کسی دھماکے میں استعمال ہوگی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خودکش بمبار سے ملزم کے تعلق سے متعلق دستاویزات پیش کرنی ہیں۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بتائیں بلال کا بی ایل اے سے کیا تعلق ہے؟ ملزم کے خلاف سی ٹی ڈی کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
رکھنی اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.0 ریکارڈ
2026-07-29
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے رکھنی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.0 ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز رکھنی سے 5 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔ زلزلے کی گہرائی 37 کلو میٹر زیرِ زمین ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دریائے چناب بپھرنے لگا، پانی کی سطح بلند ہونے قریبی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایات جاری
2026-07-28
احمد پور شرقیہ: دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ہیڈ پنجند کے مقام پر سیلابی صورتحال شدت اختیار کرنے لگی جس پر ضلعی انتظامیہ نے قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ہیڈ پنجند پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 44 ہزار 809 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 30 ہزار 559 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے باعث نشیبی علاقوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی خطرات کے پیش نظر دریائے چناب کے کنارے آباد علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب بیٹ احمد، چک کہل، بیٹ بھٹو اور دیگر نشیبی علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نقل مکانی کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی ادارے اور ضلعی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کی صورت میں ریسکیو اور امدادی اقدامات مزید تیز کر دیے جائیں گے۔
دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا
2026-07-28
کراچی: دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام (MSC Mirjam) کراچی پورٹ پہنچ گیا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق 400 میٹر طویل اور 19 ہزار 500 ٹی ای یوز گنجائش رکھنے والا جہاز کامیابی سے SAPT-2 پر برتھ کر دیا گیا۔جہاز سے کراچی پورٹ پر 1,500 کنٹینرز کی لوڈنگ اور آف لوڈنگ ہوگی، جبکہ جہاز کی اگلی منزل صلالہ، سلطنتِ عمان ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ حکام کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے کنٹینر بردار جہاز کی کامیاب ہینڈلنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی پورٹ عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ ہے اور بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
لاہور: وزیر داخلہ محسن نقوی کی منصورہ میں حافظ نعیم الرحمان سے اہم ملاقات
2026-07-27
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جماعت اسلامی پاکستان کے قائمقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ عوامی مسائل کے حل سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی مسلسل کاوشوں کے باعث کشیدگی میں دوبارہ کمی آئی ہے۔ وزیر داخلہ نے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال پر حافظ نعیم الرحمان سے اظہارِ افسوس بھی کیا اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے سوگوار خاندان، جماعت کے قائدین اور کارکنان کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق قتل کیس: ملزم سعد عباسی کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
2026-07-27
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے گروپ کیپٹن شہید عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم سعد عباسی کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے 3 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو مزید سات روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس سے قبل پراسیکیوشن نے ملزم کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ سماعت کے دوران گرفتار ملزم سعد عباسی کو گزشتہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین کیانی نے عدالت کو بتایا کہ قتل میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے، جسے ملزم نے واردات کے بعد چھپا دیا تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اب ملزم سے موبائل فون برآمد کرنا اور مزید تفتیش کرنا باقی ہے، جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا، جسے بعد ازاں سناتے ہوئے ملزم کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
