ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں

2026-05-26
ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ روسی خبرایجنسی نے یہ بات ایرانی خبرایجنسی کے حوالے سے بتائی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دھماکے کی نوعیت کی تھی اور یہ کس مقام پر ہوا۔ جسک اور سرک قصبوں میں بھی اسی نوعیت کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ دونوں قصبے بھی خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے قریب ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بندرعباس میں صورتحال قابومیں ہے،تشویش کی کوئی بات نہیں۔
امریکا سعودیہ حملوں میں مارے گئے پاسدارانِ انقلاب کے پانچ اہلکاروں کی لاشیں ایران پہنچ گئیں
2026-07-31
تہران: ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ عراق میں حالیہ مشترکہ امریکی اور سعودی فضائی حملوں میں مارے گئے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے پانچ اہلکاروں کی لاشیں ایران واپس پہنچا دی گئی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پانچوں اہلکاروں کی میتیں مغربی ایرانی صوبے ایلام میں واقع مہران سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران منتقل کی گئیں، جہاں متعلقہ حکام نے انہیں وصول کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اہلکار اسی ہفتے عراق میں ہونے والے مشترکہ امریکی اور سعودی حملوں میں مارے گئے تھے۔ ایرانی میڈیا نے ان اہلکاروں کی شناخت یا تدفین کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔ ادھر امریکا اور سعودی عرب نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں سعودی عرب پر حالیہ حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئیں۔ مزید دریافت کریں دوسری جانب ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عراق کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھائیں گی بلکہ امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچائیں گی۔ علاقائی مبصرین کے مطابق عراق میں امریکی اور سعودی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
حماس بھی بورڈ آف پیس معاہدے سے متفق، غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی، برطانوی میڈیا
2026-07-31
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم نے غزہ میں مکمل غیر مسلحی سے متعلق بورڈ آف پیس کے مجوزہ منصوبے سے اتفاق کر لیا ہے جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حماس کے سینئر رہنما نے بتایا کہ تنظیم نے منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس بارے میں تفصیلات پر مشتمل سرکاری بیان جلد جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا پر معاہدہ طے پاگیا ہے۔ جبکہ امید ہے کہ ثالث اور بورڈ آف پیس اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنائیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے مجوزہ منصوبے کا متن بھی موصول ہو چکا ہے جس کی تفصیلات مرحلہ وار سامنے لائی جائیں گی۔ اگر اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے غزہ کی موجودہ صورتحال اور امن کوششوں میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تاحال حماس کی جانب سے سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر متعلقہ فریقوں نے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل دیا ہے۔
فرانس میں 2 بچوں کے لاپتہ باپ کی باقیات 25 سال بعد دریافت
2026-07-30
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دو بچوں کے والد انتھونی رکارڈ کی باقیات تقریباً 25 سال بعد فرانس کے علاقے برٹنی میں ان کے سابق گھر کے کنویں سے برآمد ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی حکام نے ڈی این اے ٹیسٹ اور ایک جدید آلے کی مدد سے باقیات کی شناخت کی۔ پولیس نے اس کیس میں ان کی گرل فرینڈ ہیدر کومنز کو مشتبہ قتل کے الزام میں باضابطہ تفتیش کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق وہ اس وقت تک زیرِ حراست رہیں گی جب تک تحقیقات جاری ہیں۔ انتھونی رکارڈ 2001 میں اپنے دو بچوں سمیت اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ اُس کے گھر منتقل ہوئے تھے لیکن کچھ ہی عرصے بعد لاپتا ہو گئے۔ اس وقت ان کی بیٹی نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی جبکہ ہیدر کومنز نے دعویٰ کیا تھا کہ انتھونی گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ حالیہ تحقیقات کے دوران پولیس کو کنویں سے انسانی ڈھانچہ ملا جس کے بعد فرانزک تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ انتھونی رکارڈ کی باقیات ہیں۔ حکام اب ان کی موت کے حالات کا مزید جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔
ایران پر امریکی فضائی حملے، متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، قشم اور آبادان دھماکوں سے گونج اٹھے
2026-07-30
واشنگٹن / تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر کیے گئے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں واقع فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری فوجی صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی افواج، خلیجی اتحادی ممالک اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح امریکا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں بھی حملے کیے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف کئی مقامات پر میزائل حملے کیے گئے۔ صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے قشم جزیرے کے قریب ایک مقام کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔ ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبادان شہر کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں۔ تاحال ایران کی جانب سے ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی حملوں کے نتائج کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فضائی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ترکیے کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کے معاملے پر ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دو ٹوک جواب
2026-07-29
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیے کو جدید ایف-35 جنگی طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیل کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی دفاعی فیصلوں کا اختیار صرف واشنگٹن کے پاس ہے۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو یہ ہدایت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کس ملک کو کیا فروخت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیے کئی دہائیوں سے امریکا کا اہم اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کے بقول اگرچہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں لیکن ترکیے ایک مضبوط اور بااثر ملک ہے جس کی فوج نیٹو کے اہم ترین عسکری اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی صدر نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ان کی انتظامیہ ترکیے پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے اور ایف-35 پروگرام میں اس کی واپسی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس معاملے پر مسلسل خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی مؤقف ہے کہ ترکیے کو جدید اسٹیلتھ طیاروں کی فراہمی سے خطے میں عسکری توازن متاثر ہو سکتا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انقرہ کی حکومت اسرائیل پر سخت تنقید کرتی رہی ہے۔ واضح رہے کہ 2019 میں امریکا نے روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے فیصلے کے بعد ترکیے کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا.۔
جاپان میں 7.1 شدت کا خوفناک زلزلہ، سونامی وارننگ جاری، ٹرینیں بند
2026-07-28
ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد جاپانی محکمہ موسمیات نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی الرٹ نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی صوبہ کوماموتو تھا۔ زلزلے کے فوراً بعد تقریباً ایک میٹر بلند سونامی کی لہروں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ساحلی علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی۔ جاپانی حکومت نے کوماموتو، ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی سمیت کیوشو کے متعدد صوبوں میں ایمرجنسی زلزلہ الرٹ جاری کر دیا تاکہ شہری بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔ زلزلے کے بعد جے آر کیوشو نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی تمام اہم ٹرین سروسز، بشمول تیز رفتار شنکانسن ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ دوسری جانب کیوشو الیکٹرک پاور کمپنی نے بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد سینڈائی اور گینکائی جوہری بجلی گھروں میں کسی قسم کی غیر معمولی صورتحال یا تکنیکی خرابی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ملک بحرالکاہل کے گرد واقع رِنگ آف فائر پر واقع ہے، جہاں آتش فشانی اور زمینی پلیٹوں کی سرگرمیوں کے باعث بڑے زلزلے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 6.0 یا اس سے زیادہ شدت کے تقریباً 20 فیصد زلزلے جاپان میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ تاحال زلزلے سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی کوئی باضابطہ اطلاع سامنے نہیں آئی، جبکہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز، عمان نے ایران سمیت خلیجی ممالک کو نیا منصوبہ پیش کردیا
2026-07-28
مسقط: عمان نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کے لیے ایک نیا علاقائی منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی صرف ایران کے بجائے خطے کے متعلقہ ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک خلیجی ذریعے نے بتایا ہے کہ عمان کی تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر مکمل یکطرفہ نگرانی کے بجائے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم بحری راستے کے انتظام میں شریک ہوگا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کو خلیجی خطے کے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ نظام کو آبنائے ملاکا کے ماڈل پر تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں بحری راستہ استعمال کرنے والے ممالک اور جہاز رضاکارانہ طور پر فیس ادا کرتے ہیں، جس سے جہاز رانی کے انتظام، سمندری ماحول کے تحفظ، نیویگیشن کی بہتری اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو زیادہ محفوظ بنانے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تیل و تجارتی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بے یقینی دیکھی گئی ہے۔
’ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے‘، اسلحہ قلت کی خبروں کو ٹرمپ نے مسترد کردیا
2026-07-27
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں گردش کرنے والی تشویش درست نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے بعض حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پیٹریاٹ اور دیگر دفاعی نظاموں میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل محدود تعداد میں باقی رہ سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل کی فوجی حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی افواج دستیاب دفاعی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی ایران کی میزائل لانچنگ صلاحیت کو پہلے ہی مرحلے میں نشانہ بنانے پر مرکوز ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید فوجی کارروائیوں کے لیے حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جائے گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی ذخائر، فضائی دفاعی نظام اور ممکنہ فوجی حکمت عملی سے متعلق جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن مختلف عسکری آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔
پینٹاگون کا بڑا اعتراف، ایران جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک، زخمیوں کی تعداد 624 تک پہنچ گئی
2026-07-27
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون نے ہفتے کے روز اپنے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے 140 سے زائد مزید زخمی اہلکاروں کا اندراج کیا۔ اس کے علاوہ حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو بھی دوبارہ سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اپنے ریکارڈ میں ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت 7 جولائی سے بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا الگ ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو آپریشن ایپک فیوری کے ریکارڈ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 11 کا تعلق امریکی آرمی، 6 کا امریکی فضائیہ (ایئر فورس) اور ایک کا امریکی بحریہ (نیوی) سے ہے۔ اسی طرح زخمی اہلکاروں میں 461 آرمی، 86 نیوی، 58 ایئر فورس اور 19 میرین کور سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی میڈیا اور بعض قانون سازوں نے پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، کیونکہ اس وقت سرکاری ریکارڈ میں ایرانی حملوں کے باوجود ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم ظاہر کی گئی تھی۔ نئی ’اوورسیز آپریشنز‘ کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد ہونے والے نقصانات شامل کیے گئے ہیں، تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر واقعہ کس مخصوص فوجی آپریشن یا تنازع سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں شامل ناموں کے مطابق ان ہلاکتوں میں اردن میں ایرانی حملے کے دوران مارے جانے والے تین امریکی فوجی اور شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے انسانی اور عسکری اثرات پہلے سے زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
سعودی عرب: ینبع اور جازان میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت
2026-07-25
سعودی عرب کے مغربی ساحلی شہر ینبع اور جنوبی سرحدی علاقے جازان میں ابتدائی وارننگ سائرن بجنے سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی سِوِل ڈیفنس نے فوری طور پر نیشنل ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سائرن ممکنہ فضائی خطرے یا حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر فعال کیے گئے تاہم حکام نے فوری طور پر خطرے کی نوعیت کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ سرکاری اداروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ کچھ وقت بعد سعودی سول ڈیفنس نے باضابطہ اعلان کیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے اور دونوں علاقوں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی "آل کلئیر" جاری کرتے ہوئے شہریوں کو معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم متعلقہ ادارے بدستور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی حفاظتی وارننگ سسٹم مختصر وقت کے لیے فعال کیے گئےحالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی حفاظتی وارننگ سسٹم مختصر وقت کے لیے فعال کیے گئے تھے، جو خطے میں جاری سکیورٹی صورتحال کے باعث احتیاطی اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
