امریکی فوج کا ایران میں دفاعی

2026-06-11
امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں سیلف ڈیفنس اسٹرائیکس مکمل کرلی ہیں۔ سینٹکام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے کمیونیکیشن سسٹمز ، ایئرڈیفنس سائٹس کو نشانہ بنایا۔حملے امریکی افواج اورتجارتی جہازوں کیلئے خطرے کے جواب میں کیے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج کی سرویلئنس صلاحیتوں، کمیونی کیشن اور فضائی دفاعی نظام پر حملےکیے، میرین کور، فضائیہ اور نیوی نےایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی جنگی جہاز پر حملہ نہیں ہوا اور تجارتی جہاز ہرمز میں آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا نے ایران کے جوہری مواد
2026-06-13
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔ امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔ بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔
متحدہ عرب امارات حملے روکنے
2026-06-13
متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے اربوں ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرزکے مطابق ذرائع نے بتایا کہ یہ پیشرفت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری مذاکرات کے آخری مراحل کے دوران سامنے آئی ہے۔ دو علاقائی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تقریباً 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد رقم پہلے ہی ایران کو فراہم کی جا چکی ہے تاہم دیگر دو ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے اور یہ اقدام ایران کے حملے روکنے کے بدلے طے پایا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رقوم متحدہ عرب امارات کی اپنی ہیں یا اماراتی بینکاری نظام میں موجود ایرانی فنڈز یا دیگر بیرونی کھاتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک اماراتی عہدیدار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس انتظام کے تحت ایران متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے روک دے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی، انٹیلی جنس تعاون اور اقتصادی روابط میں بہتری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امارات کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے باعث امارات میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں اور غیر ملکی افراد کی نقل مکانی بھی دیکھی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے سے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس طرح ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا دعویٰ کر سکتا ہے جبکہ امریکا یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس نے کوئی ادائیگی نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق ایران نے کم از کم 2 دیگر خلیجی ممالک سے بھی اسی نوعیت کے انتظامات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر آخری براہ راست حملہ 4 مئی کو خلیج عمان میں واقع فجیرہ بندرگاہ پر کیا گیا تھا۔
امریکا اور ایران کے درمیان
2026-06-13
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط جی سیون اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع ہیں۔ جی سیون ممالک کا سربراہ اجلاس فرانس کے شہر ایویان میں 15 جون سے 17 جون کے درمیان منعقد ہورہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر تمام تر صورتحال برقرار رہی اور امن عمل کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ممکن ہے ڈیل پر دستخط اجلاس سے ایک روز پہلے یعنی 14 جون ہی کو کرلیے جائیں۔ معاہدے پر دستخط کیلئے اب تک جنیوا ہی کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے اور امکان ہے کہ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی ایران کی نمائندگی کریں گے جبکہ امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے کیے جانے کی توقع ہے۔ بطور اہم ترین ثالث، پاکستان کی وزارت خارجہ کا اعلیٰ ترین سطح پر وفد بھی اس اہم تقریب میں موجود ہوگا۔ جی سیون ممالک کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ برطانیہ اور فرانس آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر موجود بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے یورپ کی قیادت میں ایک منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کو اس کیلئے صدرٹرمپ کی توثیق درکار ہے۔ تاہم ایران پہلے ہی ان دعوؤں کی تردید کرچکا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ واضح رہے کہ جی سیون ممالک کا اجلاس فرانس کی سربراہی میں ہورہا ہے جس میں یورپی یونین کے صدر انٹونیو کوسٹا اور صدر ارسلا وان ڈر لیوں بھی شرکت کریں گی۔ جی سیون اجلاس میں مشرق کی صورتحال، جیوپولیٹیکل چیلنجز ، یوکرین اور یورپ میں امن و سلامتی، بین الاقوامی شراکت داری، اقتصادی نمو اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مستقبل پر بات چیت کی جائے گی۔ جی سیون میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں تاہم میزبان فرانس نے بعض ایسے ممالک کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جن کا تعلق جی سیون سے نہیں ہے۔
ایران امریکا کیخلاف جنگ کا
2026-06-13
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، اس کے 14 نکات ہوں گے، جب یہ طے ہو جائے گا تو عوام کو اس کی ایک ایک تفصیل بتائی جائے گی ۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، تبدیلی ممکن ہے، جوہری معاملات بعد کے مراحل میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ امریکا کے ایٹمی مطالبات اس مرحلے پر ہمیں قابل قبول نہیں ۔ہم لبنان میں حزب اللہ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارے معاہدے میں لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ کا خاتمہ شامل ہو گا۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے خلاف جنگ کا فاتح ہے، ایران امریکا جنگ کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا اعلان تمام محاذوں پر بشمول لبنان، عبوری معاہدے کے تحت ہوگا، امریکا کی ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز کھولنا عبوری معاہدے کا حصہ ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل جیسے دشمن ایران امریکا معاہدے کے خلاف ہیں، امریکا کی دھمکیاں بند ہونی چاہئیں، ایران دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا ہے، عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ جنگ سے پہلے کے دور میں واپس نہیں جائے گی، ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائے گا، ایران کے لیے یورینیم ذخائر کا واحد حل مواد کو کم سطح پر لانا ہے، ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے
2026-06-13
وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن واستحکام کیلئے جاری سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں کے مثبت اور جلد نتیجے کی امید کا اظہار کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا جب کہ اسحاق ڈار اور بدر عبدالعاطی نے قریبی رابطے میں رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ امریکا۔ ایران رابطوں میں پیش رفت خطے میں دیرپا امن و استحکام میں مددگار ہوگی۔
ایران کیساتھ معاہدہ ہفتے کے اختتام
2026-06-12
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہفتے کے اختتام پر ہوسکتے ہیں، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب میں جے ڈی وینس شریک ہوں گے، دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمزکھول دی جائے گی،سب اس پرخوش ہیں، پورامشرق وسطیٰ بھی اس پرخوش ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر راضی ہیں، مجھے یقین ہے ایرانی سپریم لیڈرامریکا ایران معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں۔ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر اسرائیل سے بھی بات کی ہے۔
ٹرمپ کا معاہدے کے حتمی نکات
2026-06-12
ایرانی پاسداران انقلاب فورس نے امریکی صدر ٹرمپ کے معاہدے کے حتمی نکات منظور ہونے کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے دعوؤں کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ٹرمپ نے متعدد بار متضاد اور غلط بیانات دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ امریکا نے دوبارہ ایران پر حملے کیے تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت ردعمل ملے گا، جنگ کی آگ مزید پھیلے گی اور خطے میں عدم تحفظ کی وجہ بنے گی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اس ہفتے دستخط متوقع ہیں، معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے ،دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے۔
ابھی تک کسی معاہدے کو حتمی
2026-06-12
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کے حوالے سے دعوےپر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق خبریں قیاس آرائی ہیں، مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تیار ہے لیکن امریکا بار بار اپنی پوزیشن بدلتا رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، امریکی اقدامات سفارتی عمل کو متاثر کر رہے ہیں، ایران مذاکرات میں اپنی ریڈ لائنزپر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے، ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں سمجھتا ہوں ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر راضی ہیں، مجھے یقین ہے ایرانی سپریم لیڈرامریکا ایران معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں۔ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا ایران سے معاہدے
2026-06-12
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے رابطہ ہوا ہے جس میں امریکا ایران مفاہمتی یادداشت سے متعلق گفتگو کی گئی۔ دفتراسرائیلی وزیراعظم کے مطابق نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر اظہار اطمینان کیاہے۔ دفتر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران سے معاہدے میں فریق نہیں پھر بھی صدر ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں، ٹرمپ کے موقف میں افزودہ یورینیم کےذخائر کا خاتمہ شامل ہے۔ بیان میں کہا گہا ہے کہ میزائل پیداوار محدود کرنا اور علاقائی پراکسیز کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا بھی شامل ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران معاہدے پر دستخط کی تقریب میں جے ڈی وینس شریک ہوں گے، دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمزکھول دی جائے گی،سب اس پرخوش ہیں، پورامشرق وسطیٰ بھی اس پرخوش ہے۔
ایران کے ساحلی علاقے سیریک
2026-06-12
ایران کے ساحلی علاقے سیریک کے قریب دھماکے کی آوازسنی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی شہر بندر عباس میں بھی 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم دھماکی کی وجہ اور نوعیت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئی۔ ایرانی خبرایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ بندرعباس کے قریب ایرانی فورسز نے خلاف ورزی کرنے والے ٹینکرکو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت اور رابطہ ضروری ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف طے شدہ حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
