پاکستان کا مشرق وسطیٰ تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر اظہار تشویش    space    لاہور میں ایک ہی اسپیل میں 263 ملی میٹر بارش سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع، ڈیفنس میں کشتیاں چل گئیں    space    تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم    space    یمن کے حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ    space    قومی ٹیم آئندہ سال 5 ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے انگلینڈ کا دورہ کریگی    space    جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف    space    کراچی میں ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی    space   

’ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے‘، اسلحہ قلت کی خبروں کو ٹرمپ نے مسترد کردیا


2026-07-27

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں گردش کرنے والی تشویش درست نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے بعض حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پیٹریاٹ اور دیگر دفاعی نظاموں میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل محدود تعداد میں باقی رہ سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل کی فوجی حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی افواج دستیاب دفاعی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی ایران کی میزائل لانچنگ صلاحیت کو پہلے ہی مرحلے میں نشانہ بنانے پر مرکوز ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید فوجی کارروائیوں کے لیے حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جائے گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی ذخائر، فضائی دفاعی نظام اور ممکنہ فوجی حکمت عملی سے متعلق جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن مختلف عسکری آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔

جاپان میں 7.1 شدت کا خوفناک زلزلہ، سونامی وارننگ جاری، ٹرینیں بند

2026-07-28

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد جاپانی محکمہ موسمیات نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی الرٹ نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی صوبہ کوماموتو تھا۔ زلزلے کے فوراً بعد تقریباً ایک میٹر بلند سونامی کی لہروں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ساحلی علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی۔ جاپانی حکومت نے کوماموتو، ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی سمیت کیوشو کے متعدد صوبوں میں ایمرجنسی زلزلہ الرٹ جاری کر دیا تاکہ شہری بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکیں۔ زلزلے کے بعد جے آر کیوشو نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی تمام اہم ٹرین سروسز، بشمول تیز رفتار شنکانسن ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ دوسری جانب کیوشو الیکٹرک پاور کمپنی نے بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد سینڈائی اور گینکائی جوہری بجلی گھروں میں کسی قسم کی غیر معمولی صورتحال یا تکنیکی خرابی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ملک بحرالکاہل کے گرد واقع رِنگ آف فائر پر واقع ہے، جہاں آتش فشانی اور زمینی پلیٹوں کی سرگرمیوں کے باعث بڑے زلزلے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 6.0 یا اس سے زیادہ شدت کے تقریباً 20 فیصد زلزلے جاپان میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ تاحال زلزلے سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی کوئی باضابطہ اطلاع سامنے نہیں آئی، جبکہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کی تجویز، عمان نے ایران سمیت خلیجی ممالک کو نیا منصوبہ پیش کردیا

2026-07-28

مسقط: عمان نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کے لیے ایک نیا علاقائی منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی صرف ایران کے بجائے خطے کے متعلقہ ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک خلیجی ذریعے نے بتایا ہے کہ عمان کی تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر مکمل یکطرفہ نگرانی کے بجائے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم بحری راستے کے انتظام میں شریک ہوگا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کو خلیجی خطے کے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ نظام کو آبنائے ملاکا کے ماڈل پر تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں بحری راستہ استعمال کرنے والے ممالک اور جہاز رضاکارانہ طور پر فیس ادا کرتے ہیں، جس سے جہاز رانی کے انتظام، سمندری ماحول کے تحفظ، نیویگیشن کی بہتری اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو زیادہ محفوظ بنانے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تیل و تجارتی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بے یقینی دیکھی گئی ہے۔

’ہمارے پاس ضرورت سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے‘، اسلحہ قلت کی خبروں کو ٹرمپ نے مسترد کردیا

2026-07-27

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں گردش کرنے والی تشویش درست نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے بعض حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پیٹریاٹ اور دیگر دفاعی نظاموں میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل محدود تعداد میں باقی رہ سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل کی فوجی حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی افواج دستیاب دفاعی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی ایران کی میزائل لانچنگ صلاحیت کو پہلے ہی مرحلے میں نشانہ بنانے پر مرکوز ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید فوجی کارروائیوں کے لیے حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جائے گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی ذخائر، فضائی دفاعی نظام اور ممکنہ فوجی حکمت عملی سے متعلق جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن مختلف عسکری آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔

پینٹاگون کا بڑا اعتراف، ایران جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک، زخمیوں کی تعداد 624 تک پہنچ گئی

2026-07-27

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 624 زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون نے ہفتے کے روز اپنے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے 140 سے زائد مزید زخمی اہلکاروں کا اندراج کیا۔ اس کے علاوہ حالیہ ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو بھی دوبارہ سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اپنے ریکارڈ میں ’اوورسیز آپریشنز‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت 7 جولائی سے بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا الگ ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو آپریشن ایپک فیوری کے ریکارڈ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں مجموعی طور پر 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 11 کا تعلق امریکی آرمی، 6 کا امریکی فضائیہ (ایئر فورس) اور ایک کا امریکی بحریہ (نیوی) سے ہے۔ اسی طرح زخمی اہلکاروں میں 461 آرمی، 86 نیوی، 58 ایئر فورس اور 19 میرین کور سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی میڈیا اور بعض قانون سازوں نے پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، کیونکہ اس وقت سرکاری ریکارڈ میں ایرانی حملوں کے باوجود ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کم ظاہر کی گئی تھی۔ نئی ’اوورسیز آپریشنز‘ کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد ہونے والے نقصانات شامل کیے گئے ہیں، تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر واقعہ کس مخصوص فوجی آپریشن یا تنازع سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں شامل ناموں کے مطابق ان ہلاکتوں میں اردن میں ایرانی حملے کے دوران مارے جانے والے تین امریکی فوجی اور شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے انسانی اور عسکری اثرات پہلے سے زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

سعودی عرب: ینبع اور جازان میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

2026-07-25

سعودی عرب کے مغربی ساحلی شہر ینبع اور جنوبی سرحدی علاقے جازان میں ابتدائی وارننگ سائرن بجنے سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی سِوِل ڈیفنس نے فوری طور پر نیشنل ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سائرن ممکنہ فضائی خطرے یا حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر فعال کیے گئے تاہم حکام نے فوری طور پر خطرے کی نوعیت کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ سرکاری اداروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ کچھ وقت بعد سعودی سول ڈیفنس نے باضابطہ اعلان کیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے اور دونوں علاقوں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی "آل کلئیر" جاری کرتے ہوئے شہریوں کو معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم متعلقہ ادارے بدستور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی حفاظتی وارننگ سسٹم مختصر وقت کے لیے فعال کیے گئےحالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی حفاظتی وارننگ سسٹم مختصر وقت کے لیے فعال کیے گئے تھے، جو خطے میں جاری سکیورٹی صورتحال کے باعث احتیاطی اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی جارحیت میں مسلسل اضافہ، مغربی کنارے میں 48 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا

2026-07-25

اسرائیلی فورسز نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپوں کے دوران کم از کم 48 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ فلسطین کے سرکاری ریڈیو نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ علاقے کے شمالی حصے میں نابلس کے مغرب میں واقع طیل قصبے پر جاری چھاپے کے دوران 40 سے زائد فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے قصبے میں ایک مکان پر قبضہ کر لیا اور اسے فیلڈ تفتیشی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے قصبے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر پورے قصبے میں گھروں پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا حکم دیا تھا

بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی، 3500 کشمیری گرفتار، مکانات دھماکے سے اُڑا دیے

2026-07-25

مسلمان دشمنی کے ایجنڈے پرقائم مودی سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کیلئے ظلم وجبرکی ہرحد عبورکررہی ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو ناصرف زیرِ حراست لے لیا بلکہ املا ک کو بھی گرانا شروع کردیا۔ بھارتی جریدے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کے مطابقضلع اننت ناگ میں پولیس اہلکارکے قتل کے بعد کریک ڈاؤن، جموں وکشمیر میں سیاسی تنازع شدت اختیارکرگیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس اہلکار کے قتل کے بعد قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 2 رہائشی مکانات کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران تقریباً 3500 کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ ترک نیوز ایجنسی ٹی آرٹی نے بھی قابض فورسزکی جانب سے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کشمیریوں کی گرفتاریوں پرغم وغصے کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ؛ ہم نے پہلگام حملے کے بعد بھی بھارت سرکارکی طرف سے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور گھروں کی مسماری اجتماعی سزا ہے، جس کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور جبر میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتےمظالم سے ظاہرہوتا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید

2026-07-24

مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے جبکہ حالیہ حملے میں 4 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے طیل پر جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی شہید اور چار زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع طیل میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے اور چار دیگر زخمی ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ مقامی اور سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی قابضین نے قصبے میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور دو گھروں کی طرف براہ راست فائرنگ کی۔

پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا

2026-07-24

پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔ حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

2026-07-24

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔ تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔