امریکا: مڈٹرم الیکشن سے قبل

2026-05-02
امریکا میں2026 کے مڈٹرم انتخابات سے قبل سیاسی اور آئینی سطح پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں امریکی شہری فلپ کیلائس اور دیگر شہریوں نے ریاست لوزیانہ کیخلاف نسل پرستانہ بنیادوں پر نیا حلقہ قائم کرنے پرکیس دائر کیا تھا جو لوزیانا بخلاف کیلائس کے نام سے مشہور ہوا، عدالت نے کیس میں 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے لوزیانا میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابی حلقے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس حلقے میں ایک نیا اکثریتی سیاہ فام حلقہ شامل کیا گیا تھا، جسے نچلی عدالت نے پہلے ہی امتیازی قرار دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ حلقہ بندی غیر آئینی اور نسلی بنیادوں پراور اقلیتوں کی نمائندگی کو کم کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ عدالت کے مطابق انتخابی حلقہ بندیوں میں نسل پرستی کے استعمال کی حد آئینی طور پر محدود ہے اور ریاستیں اس بنیاد پر ایسے حلقے نہیں بنا سکتیں جو آئینی اصولوں سے متصادم ہو۔ فیصلے کے بعد ووٹنگ رائٹس ایکٹ، حلقہ بندیوں اور ووٹر حقوق سے متعلق بحث غیر معمولی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز ایک دوسرے پر انتخابی فائدے اور اثراندازی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انتخابی حلقہ بندی میں ممکنہ تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں، ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں،ڈیموکریٹس،فیصلہ نسلی اثرات سے پاک انتخابی نظام کی طرف قدم ہے۔ اس فیصلے کو انتخابی قانون سازی میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ریاستی سطح پر نئی حلقہ بندیوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے، قانونی جنگوں میں اضافہ ہوگیا، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی قوانین میں سختی پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے،ریاستی خودمختاری اور وفاقی عدالتی کردار پر نئی آئینی بحث شروع ہوگئی جبکہ انتخابی اثراندازی اور ووٹر دباؤ کے الزامات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ڈیموکریٹک حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ریاستوں کو حلقہ بندیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے کانگریس میں نشستوں کا موجودہ توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ایوانِ نمائندگان میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست 2026 کے مڈٹرم نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی ریاستوں میں انتخابی حلقہ بندی پر نظرثانی کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مختلف ریاستوں میں مقدمات اور اپیلوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ انتخابی حلقہ سازی اب ایک شدید قانونی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ریپبلکن مؤقف کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ انتخابی نظام کو نسل پرستانہ اثرات سے پاک بنانے کی طرف ایک آئینی قدم ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے انتخابی نمائندگی کے توازن کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران انتخابی قوانین اور ووٹر رجسٹریشن سے متعلق سختیوں پر بھی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث انتخابی شفافیت اور ووٹر اعتماد ایک مرکزی بحث بن گئے ہیں۔ادھر مختلف رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اداروں میں انتخابی سلامتی سے متعلق تبدیلیوں، نئی تقرریوں اور بعض تجربہ کار اہلکاروں کی برطرفی نے بھی خدشات کو بڑھایا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی، ایف بی آئی اور محکمہ انصاف میں انتخابی نگرانی کے شعبوں میں ردوبدل کے بعد غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ورجینیا میں بھی انتخابی حلقہ بندیوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں عدالت نے ریفرنڈم کے ذریعے منظور شدہ حلقہ بندی کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی درخواست پر یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے اپیل کا اعلان کردیا ہے۔
ایران سے کہا ہے اب وقت آگیا ہے
2026-06-03
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران سے کہا ہے اب وقت آگیا ہے کسی نہ کسی طرح معاہدہ کرلیں۔ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ 47 سال سے ایران جو کررہا ہے اسے مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اورامریکا کے درمیان بات چیت روکنے کی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان گفتگو مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت کس سمت جائے گی، یہ کوئی نہیں جانتا۔
امریکی فوج کا بوٹسوانا کے پرچم بردارآئل
2026-06-03
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جارہا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ جہاز خالی تھا، تاہم اس کے عملے نے 24 گھنٹوں کے دوران راستہ تبدیل کرنے سے متعلق دی جانے والی متعدد وارننگز کو نظرانداز کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی کے بعد اب تک 6 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے جبکہ 122 جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
ایرانی جزیرے قشم کے قریب دھماکوں
2026-06-03
ایرانی خبرایجنسی کے مطابق ایرانی جزیرے قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاع نظام میزائل و ڈرون حملے روکنے میں مصروف ہے، دھماکوں کی آوازیں میزائل و ڈرون کو مار گرانے سے آئیں۔ تاہم ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہےکہ کویت میں امریکی فضائی دفاع نظام میزائل روکنے میں ناکام رہا۔ میزائل کویت میں غیرفوجی علاقےپرگرا،۔ روسی میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی فضائی دفاع نظام فعال کردیا گیا اور سائرن بجنے لگے۔ اس دوران ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے امریکااسرائیلی کارگوجہاز پرجوابی حملہ کیا ہے۔
امریکی فورسز کا ایرانی جزیرے قشم میں
2026-06-03
امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام) نے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ا یرانی جزیرے قشم پر حملے کیے، حملے ایران کی جانب سے میزائل و ڈرون حملوں کے جواب میں کیے۔ امریکی فورسز نے جزیرہ قشم میں ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے، امریکی فورسز نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرائے۔ سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائل ہمسایہ ممالک کی طرف داغے، ہدف پر نہ لگ سکے، کویت پر داغے گئے 2 میزائل راستے میں گرگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحرین پر داغے گئے 3 میزائل امریکا اور بحرین فورسز نے مار گرائے۔ ایران نے 3 ڈرون حملے بحری جہازوں پر کیے جنہیں ناکام بنادیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائی
2026-06-03
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہےکہ جزیرہ قشم میں کمیونیکیشن ٹاور پرامریکا نے حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی اڈوں کونشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ائیربیس اور ہیلی کا پٹروں کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ کے مطابق کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاسداران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کےبعد ایک جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی متاثرکرنے کی قیمت امریکا کو چکاناہوگی۔
لبنان پر اسرائیلی حملے عالمی
2026-06-02
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سےخطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل حملے خطےمیں امن کی کوششوں کو متاثر کررہےہیں۔ انہوں نے کہاکہ لبنان میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، پاکستان تناؤ میں کمی کےلیے سفارتی کوششیں جاری رکھےگا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں منصوبے کے مطابق کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا جنوبی لبنان
2026-06-02
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں منصوبے کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں اور شہریوں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا یہ مؤقف تبدیل نہیں ہوا، اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ واضح رہے کہ ایران کی طرف سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ہنگامی رابطہ کیا تھا اور ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔
لبنان اورغزہ میں اسرائیلی کارروائیاں
2026-06-02
ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان اورغزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محورکوردعمل پرمجبورکردیں گی۔ اسماعیل قانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ محور مزاحمت باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی کرسکتا ہے جو ہرمز کی ہے۔ دوسری جانب ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقرقالیباف نے لبنانی ہم منصب نبی بیری سے رابطہ کیا۔ باقرقالیباف نے کہاکہ اسرائیل نے لبنان پر حملےجاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے، اسرائیل نے حملے نہ روکے تو ایران ان حملوں کیخلاف مضبوطی سے کھڑا ہوگا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی ملکیت
2026-06-02
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی نیوی نے عراقی سمندری حدود کے قریب امریکا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہاز پر کروز میزائل سے حملہ کیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی ملکیت کے حامل، پاناما کے پرچم تلے چلنے والے بحری جہاز MSC Sariska کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملے سے جہاز پر دھماکا ہوا ، آیندہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی یہ کارروائی عمان کے قریب ایک ایرانی جہاز پر حملے کے ردِعمل میں کی گئی۔
صہیونی حکومت اور امریکی افواج
2026-06-02
ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے۔ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہیں، یہ لوگ بخوبی جانتےہیں کہ یہ کھوکھلی دھمکی نہیں۔ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔
