یوکرین کیلئے 7 کروڑ یورو کا ناقص اسلحہ اسکینڈل، ایسٹونیا کے وزیر دفاع مستعفی    space    ایران پر امریکا کا معاشی شکنجہ مزید سخت، یورپی یونین بھی مہم میں شامل ہوگئی    space    لاہور کا آرمی میوزیم دفاعِ وطن کی مکمل تاریخ کا عکاس    space    یوم دفاع وشہدا؛ پاک فوج،ایف سی اور کے پی پولیس ملک وقوم کی حفاظت کیلیے پُرعزم    space    وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار اولارا اوتونو کی ملاقات    space    2ماہ میں تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا    space    پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، متنوع اقسام اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ    space   

پی ایس ایل اونرز کے گلے شکوے


2026-08-17

یہ اپارٹمنٹ تو بہت اچھا ہے، تمام سہولتیں بھی موجود ہیں لیکن کرایہ بہت زیادہ ہے، پھر جتنے عرصے بھی رہ لیں کرایہ کار ہی کہلائیں گے مالکانہ حقوق تو نہیں مل سکتے، ہاں آپ اسے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کر کے کچھ رقم کما سکتے ہیں،البتہ اس سے کرائے والی رقم بھی پوری نہیں ہو گی، بلڈنگ میں بڑے بڑے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ان سے ملاقاتیں ہوں گی، آپ مشہور بھی ہو جائیں گے، اگر اچھی حکمت عملی بنائی تو شاید مستقبل میں آمدنی بھی ہونے لگے لیکن فوری طور پر تو کروڑوں کا نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔ اگر کسی بزنس مین کو کوئی پہلے ہی یہ تصویر دکھا دے تو کیا وہ ایسے پروجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا؟ شاید بیشتر انکار ہی کر دیں لیکن جانتے بوجھتے ہوئے کوئی اس میں شامل ہو اور صبر کیے بغیر منافع نہ ہونے کا شکوہ کرنے لگے تو قصوروار وہی کہلائے گا۔ پی ایس ایل میں بھی ایسا ہی ہے، علی ترین چلاتے رہے کہ مجھے نقصان ہو رہا ہے اور پھر سخت باتوں کی وجہ سے ملتان سلطانز فرنچائز ہاتھ سے نکل گئی، ان سے پہلے والے اونرز بھی نقصان کا رونا رو کر چلے گئے تھے، ترینز نے ان سے سبق نہ لیا اور مزید زیادہ قیمت پر فرنچائز خرید لی، چونکہ اپنا کوئی فنانشل ماڈل نہ تھا لہذا جب تک عالمگیر صاحب حیات تھے سب چلتا رہا جیسے ہی ان کا انتقال ہوا اور علی اونر بنے تو انہیں اکائونٹس دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ یہ تو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔ جب وہ بھی چلے گئے اور 2 سابقہ مثالیں موجود تھیں اس کے باوجود گوہر شاہ نے مزید زیادہ رقم دے کر ایک ٹیم خرید لی اور اسے ملتان سلطانز کا ہی نام دے دیا، اب چند ماہ بعد ہی وہ بھی میڈیا میں نقصانات کی بات کر رہے ہیں، ایسا ہو گا یہ ایک بچہ بھی جانتا تھا لیکن چونکہ پہلے چمک زیادہ تھی لہذا آنکھیں بند ہو گئیں، اب کھلیں تو معاملات کا اندازہ ہو رہا ہے۔ پی ایس ایل کی رونق سال میں 2 ماہ ہی رہتی ہے، اونرز سیلیبریٹیز بن جاتے ہیں، میچ میں ٹی وی کیمرہ بھی ان پر ہوتا ہے، میڈیا میں خوب انٹرویوز چل رہے ہوتے ہیں، بڑے بڑے کرکٹرز و دیگر اہم شخصیات ساتھ ہوتی ہیں لیکن باقی کے دس ماہ تو پی سی بی بھی نہیں پوچھتا۔ او جیز (پرانے مالکان) کو تو ان معاملات کا اندازہ ہے دیگر کو اب ہوا ہو گا، اگر وہ پریشان ہیں تو اس میں غلطی انہی کی ہے کہ جوش میں آکر کیوں ایسی بڈ کی، جب خود جانتے بوجھتے ہوئے ٹیم خریدی تو انتظار کریں، کوئی پودا لگائیں تو وہ چند ماہ میں ہی پھل نہیں دیتا ہے اس میں وقت لگتا ہے،گوہر شاہ کو جب شروع میں ٹیم نہیں ملی تو ان کے آنسو سب نے دیکھے، بعد میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مالک بننے کی بھی کوشش ہوئی، پھر قسمت نے انہیں موقع دیا کہ ایک پارٹی مالی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکی تو اس کی جگہ ٹیم مل گئی، جب خواب پورا ہو گیا اور آنکھ کھلی تو میڈیا میں آکر باتیں کرنا مناسب نہیں۔ سب کو پی ایس ایل کے فنانشل ماڈل کا علم ہے، کسی کی فیس چاہے ایک لاکھ ہو یا ایک کروڑ بورڈ سینٹرل پول کی رقم یکساں تقسیم کرتا ہے، نئی مہنگی ٹیمیں بھی سب جانتی تھیں لہذا اب انتظار کریں، فواد سرور کو تو کوئی فرق نہیں پڑنا، ان کے پاس بہت پیسہ ہے، ان کی اگرناراضی ہوئی بھی تو آمدنی پر نہیں بلکہ کرکٹنگ یا اہمیت نہ دینے جیسے معاملات پر ہوگی۔ حیدرآباد کنگزمین بڑی پارٹی ہے لیکن دیگر کو مسائل ہونے لگے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کم قیمت والی پرانی فرنچائز بھی یہی کہتی ہیں کہ نقصان میں ہیں تو نئی کی کیا بات کریں، اس کے باوجود اگر آپ کل مزید ٹیموں کی نیلامی کریں تو کئی نئے لوگ اربوں روپے میں انہیں خرید لیں گے لیکن پھر آپ کو تگڑی پارٹیز لانا ہوں گی۔ پی ایس ایل سے اور بھی تو کئی فوائد ہیں، آپ اپنے دیگر بزنسز کو بڑھا سکتے ہیں، ٹیکس معاملات میں بھی ” فوائد“ ملتے ہوں گے، دراصل کاغذ پر لیگ نفع میں ہے لیکن اصل فائدہ بورڈ کا ہی ہے، تمام فرنچائز بھاری فیس ادا کرتی ہیں، بغیر کسی اپنی سرمایہ کاری کے بڑا ٹورنامنٹ ہو جاتا ہے، دو سال سے بعض اسٹیک ہولڈرز کبھی جنگ تو کبھی کوئی اور بہانہ بنا کر ادائیگی نہیں کر رہے جس سے فرنچائزز کو پیسہ نہیں مل رہا اور وہ پریشان ہیں۔ چیئرمین محسن نقوی نے پی ایس ایل کے معاملات الگ کرتے ہوئے دیگر آفیشلز کو فری ہینڈ دیا لیکن وہ لوگ ڈیلور نہیں کر سکے، زیادہ کھل کر بات نہیں کروں گا لیکن بڑے سنگین مسائل ہیں جنہیں جلد حل کرنا پڑے گا، بعض پی ایس ایل آفیشلز نے ذاتی تشہیر کو ترجیح دی، اپنا پروفائل بہتر بنایا، سوشل میڈیا پر ہیرو بنے، وہ خود کو سیلیبریٹی سمجھنے لگے اور اب انڈور سمینٹ تک کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں، کاش یہ لوگ چیئرمین کی جانب سے دی گئی پاور کا درست استعمال کر لیتے۔ گزشتہ سال جو مسئلہ سامنے آیا وہی اب بھی درپیش ہے، پہلے اسے حل کریں اور پھر اگلے سال کیا ہو گا اس کا سوچیں، پی ایس ایل اب بھی ہمارے ملک کی سب سے بڑی برانڈ ہے، اسے کامیاب بنانے کیلیے اقدامات کریں، اس سے اچھا ماحول کب ملے گا جب میڈیا نہ ہی سابق کرکٹرز کچھ کہتے ہیں، اب تو ڈیلیور کریں، اونرز کو بھی چاہیے کہ اگر آپ نقصانات برداشت نہیں کر پا رہے تو پی سی بی کو بتائیں اور ٹیم چھوڑ دیں بہت سے لوگ اب بھی لائن میں لگے ہیں، غیرملکی میڈیا میں آکر لیگ کو بدنام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کسی کو زبردستی فرنچائز نہیں دی گئی سب نے اپنی مرضی سے بھاری رقوم دے کر انہیں خریدا، ایک طرف “ کرکٹ سے محبت کے دعوے“ ساتھ ”سفر کو جاری نہ رکھ پانے اور دیوالیہ ہونے کے خدشات“، یہ باتیں سمجھ نہیں آ رہیں۔ آپ اب اس وقت کا انتظار کریں جب خوب منافع ہو یا پھر اپنے برانڈ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ اسپانسر شپ و دیگر سرگرمیوں سے ہی پروفٹ میں چلی جائے، محض گلے شکوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

جوز بٹلر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 15 ہزار رنز بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے

2026-09-18

انگلینڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے 15 ہزار رنز مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ جوز بٹلر نے یہ سنگ میل کارڈف میں سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے دوران حاصل کیا۔ 7 بٹلر نے ایشان ملنگا کی گیند پر سنگل لے کر 15 ہزار رنز کا ہندسہ عبور کیا اور ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر کیرون پولارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بھی بن گئے۔ بٹلر نے یہ رنز 528 میچز میں 35.46 کی اوسط اور 147.46 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے ہیں جن میں 9 سنچریاں اور 107 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ کیرون پولارڈ نے 754 میچز میں 14 ہزار 999 رنز بنا رکھے ہیں۔ انگلینڈ کے ایلکس ہیلز 537 میچز میں 14 ہزار 581 رنز کے ساتھ تیسرے، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل 463 میچز میں 14 ہزار 562 اور آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر 439 میچز میں 14 ہزار 284 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔

انگلینڈ نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کو شکست دے دی

2026-09-18

انگلینڈ نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی سری لنکا کو شکست دے دی۔ کارڈف میں کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں پر 145 رنز بنائے۔ پاتھم نسانکا 37 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ انگلینڈ نے سری لنکن اوپنرز کی 56 رنز کی جارحانہ اوپننگ شراکت کے باوجود اس کی اننگز کو 9 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز تک محدود کردیا۔ لیام ڈاسن نے 3، جیمی اوورٹن اور جوفرا آرچر نے 2، 2 جبکہ سونی بیکر اور عادل رشید نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ 146 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ نے صرف 12.1 اوورز میں کامیابی حاصل کرلی۔ ٹام بینٹن نے ناقابل شکست 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جبکہ کپتان ہیری بروک نے 8 گیندوں پر 23 رنز بنائے۔ اس فتح کے ساتھ انگلینڈ نے گزشتہ 25 مکمل ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 22ویں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایشین گیمز: بھارتی خاتون جمناسٹ کو مرد کوچ کیساتھ ایک ہی کمرہ دے دیا گیا

2026-09-18

جاپان میں جاری ایشین گیمز 2026 کے دوران بھارتی جمناسٹ پرناتی نائیک اور ان کے کوچ اشوک مشرا کو رہائش کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی دستے کے ارکان کے لیے مختص کروز شپ پر پرناتی نائیک اور ان کے مرد کوچ کو غلطی سے ایک ہی کمرہ الاٹ کردیا گیا جس پر مخلوط جنس کی رہائش سے متعلق خدشات پیدا ہوئے اور معاملہ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں تقریباً رات ڈیڑھ بجے دونوں کے لیے الگ الگ کمروں کا انتظام کیا گیا تاہم اشوک مشرا کو نئے کمرے کی چابی حاصل کرتے وقت ایک اور مشکل پیش آگئی۔ ہوٹل انتظامیہ کو رجسٹر میں ان کی بکنگ نہیں مل سکی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں نام درج کرتے ہوئے حرف ’آئی‘ رہ جانے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ مشرا کی ایکریڈیٹیشن اور بکنگ کی تفصیلات دوبارہ چیک کرکے درست کی گئیں جس میں مزید تقریباً 45 منٹ لگ گئے اور وہ رات 2 بجے کے بعد اپنے کمرے میں پہنچ سکے۔ پرناتی نائیک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رہائش میں غلطی ہوئی تھی تاہم اسے رات تقریباً 2 بجے حل کرلیا گیا۔ پرناتی نائیک 19 ستمبر سے جمناسٹکس مقابلوں میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

میچ کے بعد انگلش کپتان رضا اللہ کو مشورہ دینے پہنچ گئے

2026-09-15

محنت اور کوشش جاری رکھو اور فٹنس کا خیال رکھنا، انگلش کپتان جو روٹ نے رضا اللہ کو مفید مشوروں سے نواز دیا۔ ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے نوجوان کرکٹر کے مطابق میچ کے بعد انگلش کپتان خاص طور پر ان سے ملاقات کیلیے آئے اور حوصلہ بڑھایا۔ ’ایکسپریس‘ کو برمنگھم سے خصوصی انٹرویو میں رضا اللہ نے کہا کہ عالمی سطح کے کھلاڑی سے اس طرح کی پذیرائی ملنا میرے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث بنی، روٹ نے میری کارکردگی کو سراہا۔ رضا اللہ نے اپنے سفر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز بڑے بھائی کے ساتھ کیا، وہ مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر گراؤنڈ لے کر جاتے تھے، 2019 میں ہارڈ بال کرکٹ شروع کی، اس سے قبل اور اس دوران ٹیپ بال سے بھی کھیلتا رہا۔ 2022 میں انڈر 19 کے ٹرائلز دیے لیکن اس وقت انتخاب نہ ہوسکا، میں نے ہمت نہیں ہاری اور اگلے سال دوبارہ ٹرائلز میں حصہ لیا۔ رضا اللہ نے کہا 2023 میں مجھے ضلع کی ٹیم میں جگہ ملی، پھر ریجن کی نمائندگی کا موقع ملا، 2025 میں پشاور کی جانب سے مہمان پلیئر کے طور پر کھیلنے کا موقع ملا اور وہاں سنچری اور ففٹی بھی بنائی۔ اس کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں کارکردگی نمایاں رہی اور اننگز میں 3 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ رضا اللہ نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی کارکردگی نے مجھے مزید اعتماد دیا اور میں اسی دوران بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی مسلسل بہتری لانے کی کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ والدین ہمیشہ میرے لیے دعا کرتے رہے، میں اپنے بھائیوں، دوستوں اور خاص طور پر کوچز کا شکرگزار ہوں جنھوں نے پوری زندگی ساتھ دیا، حوصلہ بڑھایا اور کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ مسلسل محنت کرکے ایک مکمل آل راؤنڈر بننا چاہتا ہوں رضا اللہ نے کہا کہ میں خود کو صرف فاسٹ بولر تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں مسلسل محنت کرکے ایک مکمل آل راؤنڈر بننا چاہتا ہوں۔ رضا اللہ نے کہا کہ اچانک اتنی توجہ اور کامیابیاں ملنا کسی خواب سے کم نہیں تاہم میں اس تمام صورتحال کو اپنی ذات کا کمال نہیں سمجھتا، سب اللہ تعالیٰ کی مرضی اور فضل سے ہوتا ہے، اس لیے میں شکر ادا کرنے کے ساتھ محنت جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں میدان میں اپنی کرکٹ سے بھرپور لطف اندوز ہوتا اور ہر میچ کو ایک نیا تجربہ سمجھتا ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ روزانہ کسی نہ کسی سے کچھ نیا سیکھوں اور خامیوں کو دور کرتے ہوئے کھیل میں بہتری لاؤں۔

انگلینڈ سیریز میں خراب کارکردگی کے بعد بابر اعظم کا مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ

2026-09-15

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انگلینڈ سیریز میں خراب کارکردگی کے بعد اپنے مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق بابر اعظم جاری پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی جانب سے بطور گیسٹ پلیئر ایکشن میں نظر آئیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ طویل فارمیٹ کے لیے اپنی فارم اور ردھم برقرار رکھ سکیں۔ اس درخواست کے بعد پی سی بی نے او جی ڈی سی ایل کے ساتھ یہ انتظام کیا۔ بابر اعظم دسمبر 2022 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری نہیں بنا سکے۔ 2023 سے اب تک 39 اننگز میں ان کی اوسط صرف 30.43 رہی ہے جبکہ اس دوران وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بنا سکے۔ ان کی آخری ٹیسٹ سنچری نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں 161 رنز کی تھی۔ سابق کرکٹرز کی جانب سے بابر کی تکنیک اور خاص طور پر شارٹ بال کے خلاف مشکلات پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی ہورہی ہے۔ بابر نے آخری مرتبہ 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کو قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جتوایا تھا۔ او جی ڈی سی ایل کے لیے بابر کی شمولیت اہم قرار دی جا رہی ہے جبکہ فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر عامر جمال بھی ایم آئی ٹی ایس کے لیے بطور گیسٹ پلیئر ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

بھارت کا ویمن ایشیا کپ کا ٹائٹل جیت کر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار

2026-09-14

بھارتی ویمن ٹیم نے ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا، تاہم بھارت نے صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ دبئی میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنائے۔ اوپنرز شفالی ورما اور سمرتی مندھنا نے 129 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، شفالی نے 68 جبکہ مندھنا نے 59 رنز بنائے۔ رچا گھوش نے 17 اور کپتان ہرمن پریت کور نے 14 رنز اسکور کیے۔ سری لنکا کی جانب سے متھالی ایودھیا، چماری اتاپتو اور چمودی پرابودا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ 184 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم 20ویں اوور کی آخری گیند پر 111 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔ کپتان چماری اتاپتو نے 36 جبکہ نیلاک شیکا سلوا نے 22 رنز بنائے۔ بھارت کی جانب سے شری چرانی نے 4 اور دپتی شرما نے 3 وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا، تاہم بھارت نے ایک بار پھر اسپورٹس اسپرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ویمنز ایشیاکپ بھی متنازع بنا دیا۔ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی ویمنز ایشیاکپ فائنل کے مہمان خصوصی ہیں تاہم بھارتی ویمن کرکٹ ٹیم نے ٹائٹل جیتنے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی بھارت کی مینز کرکٹ ٹیم نے صدر اے سی سی محسن نقوی سے کپ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

مودی کی ہٹ دھرمی برقرار، بھارت کی ایک سال میں دوسری بار اسپورٹس اسپرٹ کی خلاف ورزی

2026-09-14

مودی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کھیل کو سیاست کی نذر کر دیا۔ ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ویمنز ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا جبکہ اس سے قبل بھی بھارتی ٹیم نے جیت کے بعد ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ذرائع اے سی سی کے مطابق ٹرافی دینے کا پروٹوکول پہلے سے مکمل طور پر طے تھا اور فاتح بھارتی ٹیم کو ٹرافی دینے کے لیے دستیاب بھی تھی، تاہم بھارتی ٹیم نے خود ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران یہ دوسری بار بھارتی ٹیم کا اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی رویہ ہے جبکہ بھارت کی پچھلی ٹرافی بھی دستیاب ہے اور صرف وصولی کا انتظار ہے۔ اے سی سی ذرائع کے مطابق ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ محسن نقوی بھی اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

ویمنز ایشیا کپ: بھارتی ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے کس نے منع کیا؟ کوچ کا انکشاف

2026-09-14

دبئی میں ایشیا کپ کا ٹائٹل جیتنے والی بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی۔ بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ امول مزومدار نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ہدایت پر کیا گیا۔ امول مزومدار کے مطابق بھارتی ٹیم ایشیا کی چیمپئن ہے تاہم کھلاڑیوں نے بورڈ کے فیصلے پر عمل کیا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ٹیم کو ٹرافی کب ملے گی تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ معمول کے مطابق اے سی سی صدر چیمپئن ٹیم کو ٹرافی پیش کرتے ہیں تاہم اس بار بھارتی ٹیم نے پریزنٹیشن تقریب میں شرکت نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے کھلاڑیوں کو ٹرافی وصول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن ٹیم کو بورڈ کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ واقعہ 2025 کے ایشیا کپ فائنل کے بعد بھارتی مردوں کی جانب سے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسی طرح دسمبر 2025 میں بھارتی انڈر 19 ٹیم نے بھی رنر اپ میڈلز محسن نقوی سے لینے سے گریز کیا تھا۔

لامین یامال نے کم عمر ترین کپتان بننے کا اعزاز حاصل کرلیا

2026-09-11

اسپین کے نوجوان فٹبالر لامین یامال نے بارسلونا کے کم عمر ترین کپتان بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق 19 سالہ لامین یامال نے یہ اعزاز فائنورڈ کے خلاف چیمپئنز لیگ کے میچ میں حاصل کیا، جس میں بارسلونا نے ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے کامیابی حاصل کی۔ میچ کے 71ویں منٹ میں بارسلونا کے مستقل کپتان رافینیا کو میدان سے باہر بلایا گیا تو انہوں نے لامین یامال کو ذمہ داری دی۔ لامین یامال نے 19 سال اور 58 دن کی عمر میں کپتانی سنبھال کر بویان کرکیچ کا ریکارڈ توڑ دیا، جو 2010 میں 20 سال کی عمر میں بارسلونا کے کپتان بنے تھے۔

رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر

2026-09-11

پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں شاندار رفتار سے آغاز کیا لیکن دوسرے دن ان کی کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ دوسرے روز رضا اللہ نے اپنی پہلی گیند 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کرائی جو شارٹ آف لینتھ ہو کر ڈین لارنس کے دائیں کندھے کے قریب سے گزری۔ اگلی گیند 87 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کی جبکہ اوور مکمل ہونے سے قبل وہ 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی چھو چکے تھے۔ تاہم دن گزرنے کے ساتھ ان کی رفتار، لائن اور لینتھ میں واضح کمی آتی گئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 23 اوورز کرائے اور 148 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 6.43 رہا جو کم از کم 20 اوورز کرنے والے بولر کی حیثیت سے انگلینڈ میں بدترین اعدادوشمار ہے۔ انگلینڈ کے ٹیل اینڈرز نے بھی رضا اللہ کی گیندوں پر کھل کر رنز بنائے۔ ان کی کارکردگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غیر معمولی رفتار کو برقرار رکھنا اور درست استعمال کرنا کتنا مشکل ہے۔