پاکستان کا مشرق وسطیٰ تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر اظہار تشویش    space    لاہور میں ایک ہی اسپیل میں 263 ملی میٹر بارش سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع، ڈیفنس میں کشتیاں چل گئیں    space    تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم    space    یمن کے حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ    space    قومی ٹیم آئندہ سال 5 ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے انگلینڈ کا دورہ کریگی    space    جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف    space    کراچی میں ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی    space   

آئی پی ایل کے مقابلے


2026-03-23

ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ رپورٹ کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے اگرچہ بھارت کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) مجموعی درجہ بندی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے آگے ہے، تاہم کھلاڑیوں کے حقوق، معاہدوں کی شفافیت اور گورننس کے بیشتر شعبوں میں پی ایس ایل کا نظام زیادہ مضبوط اور متوازن ہے۔ ڈبلیو سی اے کی رپورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود آئی پی ایل کو 62.6 جبکہ پانچویں نمبر کی پی ایس ایل کو 48.0 پوائنٹس دیے گئے تھے لیکن اس فرق کی بنیادی وجہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس رپورٹ کی ترتیب میں کھلاڑیوں کی مجموعی اوسط تنخواہ کو 45 فیصد وزن دیا گیا ہے، جو کسی بھی لیگ کی مجموعی درجہ بندی پر فیصلہ کن اثر ڈالتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی اوسط ہفتہ وار آمدن 59,041 امریکی ڈالر ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اسی بنیاد پر اسے اس کیٹیگری میں آئی پی ایل کو مکمل اسکور ملا۔ اس کے برعکس پی ایس ایل میں اوسط ہفتہ وار آمدن 16,579 ڈالر ہے، جو آئی پی ایل کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد بنتی ہے، یہی فرق مجموعی اسکور میں 30 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں خلا پیدا کرتا ہے۔ تنخواہوں کی تفصیل کا گہرائی سے جائزہ لینے پر ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، کم از کم تنخواہ کے معاملے میں پی ایس ایل نسبتاً بہتر نظر آتی ہے، جہاں کھلاڑیوں کو تقریباً 3,868 ڈالر ہفتہ وار ملتے ہیں، جو عالمی معیار کا 36.8 فیصد ہے، جبکہ آئی پی ایل میں یہ رقم تقریباً 2,300 ڈالر یعنی 22 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ایس ایل میں آمدن کی تقسیم نسبتاً زیادہ متوازن ہے، مزید برآں ریونیو شیئر کے معاملے میں بھی پی ایس ایل سبقت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل اپنی کل آمدن کا تقریباً 32 فیصد کھلاڑیوں کو جاتا ہے جبکہ آئی پی ایل میں یہ شرح صرف 8 فیصد ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آئی پی ایل کی مجموعی مالی طاقت کے باوجود کھلاڑیوں کو اس کا کم حصہ ملتا ہے۔ گورننس اور کھلاڑیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کئی شعبوں میں بہتر ثابت ہوئی ہے۔ تنازعات کے حل کے نظام کو پی ایس ایل میں آزاد اور غیر جانبدار قرار دیا گیا جہاں کھلاڑی اور منتظمین کے درمیان مسائل شفاف انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آئی پی ایل کا نظام زیادہ تر اندرونی ہے، جس پر جانبداری کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ معاہدوں کے حوالے سے بھی واضح فرق موجود ہے۔ پی ایس ایل میں معاہدوں کو زیادہ متوازن اور یکطرفہ شقوں سے پاک قرار دیا گیا ہے، جبکہ آئی پی ایل میں ایسی شقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو منتظمین کو کھلاڑیوں کے معاہدے یکطرفہ طور پر تبدیل یا بڑھانے کا اختیار دیتی ہیں۔ کلیکٹو بارگیننگ کے معاملے میں بھی پی ایس ایل کو برتری حاصل ہے، جہاں کھلاڑیوں کی نمائندگی کے کچھ شواہد موجود ہیں، جبکہ آئی پی ایل میں اس نوعیت کا کوئی مضبوط یا آزاد ڈھانچہ موجود نہیں۔ اسی طرح کھلاڑیوں کے کمرشل رائٹس کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کا نظام نسبتاً بہتر ہے۔ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں پر غیر ضروری پابندیاں کم ہیں اور وہ اپنی ذاتی برانڈنگ اور امیج کے استعمال پر کسی حد تک کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس آئی پی ایل میں کھلاڑیوں پر زیادہ پابندیاں ہیں اور ان کے کمرشل حقوق پر ان کا کنٹرول محدود ہے۔ سکیورٹی ریویو اور رائٹ ٹو آرگنائز جیسے شعبوں میں بھی پی ایس ایل بہتر کارکردگی دکھاتی ہے، جہاں آزادانہ سیکیورٹی جائزے کی سہولت موجود ہے اور کھلاڑیوں کو نمائندہ تنظیموں سے وابستگی میں رکاوٹ نہیں۔ آئی پی ایل میں ان دونوں پہلوؤں میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ آئی پی ایل دنیا کی سب سے امیر لیگ ہے اور اسی بنیاد پر اسے بیتر درجہ بندی حاصل ہے، لیکن پی ایس ایل کھلاڑیوں کے حقوق، معاہدوں کی شفافیت اور گورننس کے بیشتر پہلوؤں میں ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ نظام پیش کرتی ہے۔ رپورٹ سے یہ تاثر بھی ملتا ہےکہ موجودہ درجہ بندی کا نظام مالی عوامل کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، جس کی وجہ سے دیگر اہم پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

پی سی بی نے قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کو دوبارہ چیمپئنز کپ کا نام دے دیا

2026-07-28

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے بڑے ڈومیسٹک ون ڈے ایونٹ کو ایک بار پھر ’چیمپئنز کپ‘ کے نام سے متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ ٹورنامنٹ 11 سے 18 اگست تک ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں چار ٹیمیں سنگل راؤنڈ رابن مرحلے کے بعد فائنل میں ٹکرائیں گی۔ مجموعی طور پر سات میچز شیڈول ہیں۔اس ایونٹ میں پاکستان گولڈ، پاکستان گرینز، پاکستان وائٹس اور پاکستان بلیوز کے نام سے چار ٹیمیں حصہ لیں گی جن کی قیادت بالترتیب شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کریں گے۔اسکواڈز میں کئی ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو قومی وائٹ بال ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں تاہم انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں میں مصروف ریڈ بال اسکواڈ اور دی ہنڈریڈ کھیلنے والے اسپنر ابرار احمد اس ایونٹ میں شریک نہیں ہوں گے۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کے مطابق اس ٹورنامنٹ کا مقصد 2027 آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ 50 اوورز کے میچز فراہم کرنا ہے۔ یاد رہے کہ 2024 میں چیمپئنز کپ کو ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ قرار دیا گیا تھا تاہم گزشتہ سال یہ مقابلہ اسی برانڈنگ کے تحت منعقد نہیں کیا گیا تھا۔

رونالڈو کی ہالی ووڈ میں انٹری، فٹبال ڈرامہ سیریز میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے

2026-07-28

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے کھیل کے میدان میں بے شمار کامیابیوں کے بعد اب ہالی ووڈ کا رخ کر لیا ہے۔ النصر کے کپتان اپنی پہلی اسکرپٹڈ ٹی وی سیریز ’ڈے ونز‘ کے ذریعے انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں وہ صرف اداکار ہی نہیں بلکہ ایگزیکٹو پروڈیوسر کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ یہ سیریز رونالڈو کی مشترکہ پروڈکشن کمپنی ’یو آر-مارو اسٹوڈیوز‘ تیار کر رہی ہے جسے انہوں نے معروف ہدایت کار میتھیو وان کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا۔ میتھیو وان اس سے قبل کئی کامیاب فلموں کی ہدایت کاری کر چکے ہیں۔ ڈرامے کی کاسٹ میں سابق فرانسیسی اسٹار تھیری ہنری، اداکار ڈیمین لیوس، برطانوی ریپر ڈیو اور اداکارہ کارلوٹا بنات شامل ہیں۔ کہانی ایک فرضی فٹبال ایجنٹ اسٹینلے ڈالٹن کے گرد گھومتی ہے جو جدید فٹبال کی چمک دمک کے پیچھے چھپی طاقت کی سیاست اور سخت مقابلے کا سامنا کرتا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق شو کی شوٹنگ شمال مغربی لندن میں جاری ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیریز اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر نمایاں کامیابی حاصل کر سکتی ہے اور فٹبال کی دنیا کا ایک منفرد اور سنجیدہ رخ ناظرین کے سامنے پیش کرے گی۔

دنیا کے معمر ترین پروفیشنل فٹبالر کا 4 سال بعد گول

2026-07-27

جاپان کے لیجنڈری فٹبالر کازویوشی میورا نے ایک بار پھر عمر کو شکست دیتے ہوئے تقریباً چار سال بعد گول اسکور کر کے نئی تاریخ رقم کردی۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے معمر ترین پروفیشنل فٹبالر، 59 سالہ میورا نے جاپان کے ایمپیرر کپ میں فُوکوشیما یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایواکی فوروکاوا کے خلاف میچ کے 52ویں منٹ میں گول کیا۔ فُوکوشیما یونائیٹڈ نے یہ مقابلہ 0-7 سے اپنے نام کیا۔نومبر 2022 کے بعد میورا کا یہ پہلا گول ہے۔ 2022 میں انہوں نے سوزوکا پی جی (موجودہ اٹلیٹیکو سوزوکا) کی جانب سے ایف سی اوساکا کے خلاف گول کیا تھا۔’کنگ کازو‘ کے نام سے مشہور میورا جاپان کے مقبول ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور 1993 میں جے لیگ کے آغاز کے دوران وہ اس لیگ کی سب سے نمایاں شخصیت تھے۔ 1986 میں برازیل کے کلب سانتوس سے اپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاز کرنے والے میورا اٹلی، کروشیا اور آسٹریلیا میں بھی کلب فٹبال کھیل چکے ہیں۔ ان کا طویل کیریئر اب 42ویں سیزن میں داخل ہونے جا رہا ہے کیونکہ ان کی فُوکوشیما یونائیٹڈ کے ساتھ معاہدے کی مدت جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔ جاپان کے لیے 89 میچوں میں 55 گول کرنے والے میورا اس خواہش کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ اپنی ساٹھویں سالگرہ کے بعد بھی پیشہ ورانہ فٹبال کھیلتے رہیں گے۔

پہلے ٹیسٹ کا دوسرا دن، ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں پاکستان نے 199 رنز بنا لیے

2026-07-27

ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز پاکستان نے محتاط اور پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھیل کے اختتام تک اپنی پوزیشن بہتر بنا لی۔ ٹروبا ٹیسٹ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز کی جانب سے پہلی اننگز میں بنائے گئے 311 رنز کے جواب میں پاکستان نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنا لیے ہیں،جبکہ شان مسعود 88 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ ان کے ساتھ سلمان علی آغا بغیر کوئی رن بنائے ناٹ آؤٹ ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر امام الحق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 63 رنز کی اننگز کھیلی تاہم وہ نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ کپتان بابر اعظم بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اذان اویس اپنے ٹیسٹ ڈیبیو میں متاثر نہ کر سکے اور بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ اس سے قبل میزبان ٹیم نے دوسرے دن اپنی نامکمل اننگز 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز سے دوبارہ شروع کی، تاہم پاکستانی بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 117 رنز کے اضافے پر باقی تمام وکٹیں حاصل کر لیں۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے شے ہوپ 92 اور کیوم ہوج 84 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ شمار جوزف 23، تیجنارائن چندرپال اور عامر جینگو 21، 21، جسٹن گریوز 15، برینڈن کنگ 12 اور روسٹن چیز 10 رنز بنا سکے۔ پاکستان کی جانب سے محمد علی نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 50 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عباس نے 3، خرم شہزاد نے 2 جبکہ عامر جمال نے 1 وکٹ اپنے نام کی۔ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے افتتاحی روز مضبوط آغاز کرتے ہوئے 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے تھے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا انفانٹینو کیخلاف شکایت پر تحقیقات سے انکار

2026-07-25

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے خلاف دائر شکایت پر تحقیقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم فیئر اسکوائر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انفانٹینو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں بیانات دے کر اولمپک چارٹر میں درج سیاسی غیر جانبداری کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ شکایت کا پس منظر فیفا کے اس متنازع فیصلے سے جڑا ہے جس میں امریکا کے فارورڈ فولارن بالوگن کی ریڈ کارڈ کے بعد ایک میچ کی خودکار پابندی کو 12 ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر انفانٹینو سے رابطہ کیا تھا۔ پابندی معطل ہونے کے بعد بالوگن بیلجیئم کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں شریک ہوئے تاہم امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی او سی نے اپنے بیان میں کہا کہ فیفا کی اندرونی گورننس، حکومتی تعلقات اور کھیل کے قوانین پر عمل درآمد سے متعلق معاملات اس کے ضابطہ اخلاق کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اس لیے شکایت پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب ناروے فٹبال فیڈریشن نے بھی اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی سے رجوع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

نسیم شاہ ایک بار پھر سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کا حصہ بن گئے

2026-07-25

پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ ایک بار پھر سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کا حصہ بن گئے۔ تفصیلات کے مطابق نسیم شاہ کو 2026 کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کے لیے سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس نے اپنی اوورسیز اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے۔ 23 سالہ نسیم شاہ تیسری مرتبہ پیٹریاٹس کی نمائندگی کریں گے۔ اس سے قبل وہ 2021 اور 2025 کے سیزن میں بھی اس فرنچائز کا حصہ رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے 37 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے نسیم نے پیٹریاٹس کی جانب سے 11 میچوں میں 17 وکٹیں حاصل کیں جہاں ان کی اوسط 28 جبکہ اکانومی ریٹ 8.04 رہا۔ پیٹریاٹس نے سری لنکا کے داسن شناکا اور ونندو ہسارنگا، افغانستان کے وقار سلام خیل اور آسٹریلیا کے نکھل چودھری کو بھی اوورسیز کھلاڑیوں کے طور پر اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ گزشتہ سیزن میں آخری پوزیشن پر رہنے والی پیٹریاٹس ٹیم اپنی نئی مہم کا آغاز 8 اگست کو دفاعی چیمپئن ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کے خلاف آرنوس ویل اسٹیڈیم میں کرے گی۔ ٹورنامنٹ 7 اگست سے 20 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔

پاکستان کیخلاف سیریز، جو روٹ انگلینڈ کے عبوری کپتان بننے کے مضبوط امیدوار

2026-07-25

پاکستان کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے قبل انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور کوچنگ کے حوالے سے صورتحال ابھی تک غیر یقینی ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق تجربہ کار بلے باز جو روٹ کو عبوری ٹیسٹ کپتان جبکہ مارکس ٹریسکوتھک کو عارضی ہیڈ کوچ مقرر کیے جانے کا قوی امکان ہے تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ای سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی نئے ٹیسٹ ہیڈ کوچ کی تلاش میں مختلف امیدواروں سے رابطے کر رہے ہیں جن میں اسٹیفن فلیمنگ، جوناتھن ٹروٹ، رچرڈ ڈاسن اور ٹام موڈی شامل ہیں۔ مستقل کوچ کی تقرری امیدوار کی موجودہ ذمہ داریوں کے باعث کچھ تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب 35 سالہ جو روٹ اس وقت عبوری کپتانی کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ 2017 سے 2022 تک انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں اور حال ہی میں بین اسٹوکس کی عدم موجودگی میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹیم کی قیادت کی تھی۔ دوسری جانب ہیری بروک بھی مستقبل کے مستقل کپتان کے طور پر زیر غور ہیں تاہم ای سی بی آئندہ ایشیز سیریز کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 19 اگست سے ہیڈنگلے میں ہوگا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی

2026-07-24

اکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹرافی کی رونمائی کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ ٹرافی کی رونمائی ٹرینیڈاڈ میں واقع برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کی گئی۔دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 25 جولائی سے شروع ہوگا۔ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا۔ اس سے قبل اس گراؤنڈ میں محدود اوورز کے انٹرنیشنل میچز سمیت ریجنل فرسٹ کلاس میچز کھیلے جا چکے ہیں۔

قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا

2026-07-24

پاکستان کی انڈر-18 ہاکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصر میں منعقد ہونے والے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کے لیے باقاعدہ کوالیفائی کرلیا ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی جگہ بنالی ہے جہاں اس کا مقابلہ 25 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔ پاکستان کی انڈر-18 ہاکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصر میں منعقد ہونے والے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کے لیے باقاعدہ کوالیفائی کرلیا ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی جگہ بنالی ہے جہاں اس کا مقابلہ 25 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔ پورے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی اور ورلڈکپ کا ٹکٹ حاصل کرنا پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈر-18 ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ پورے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی اور ورلڈکپ کا ٹکٹ حاصل کرنا پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈر-18 ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

2026-07-24

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔