پاکستان کا مشرق وسطیٰ تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر اظہار تشویش    space    لاہور میں ایک ہی اسپیل میں 263 ملی میٹر بارش سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع، ڈیفنس میں کشتیاں چل گئیں    space    تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم    space    یمن کے حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز پر حملہ    space    قومی ٹیم آئندہ سال 5 ون ڈے میچز کی سیریز کیلئے انگلینڈ کا دورہ کریگی    space    جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا: جتیندرکاانکشاف    space    کراچی میں ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی    space   

تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ


2026-06-08

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت 3.13 فیصد بڑھ گئی ہے جس کے بعد امریکی تیل 93 ڈالر 67 سینٹ فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 2.50 فیصد بڑھ گئی ہے جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 95 ڈالر 59 سینٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں سے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت بھی بڑھ سکتی ہے۔

عالمی و مقامی سطح پر سونا مسلسل دوسرے روز بھی سستا

2026-07-29

کراچی: عالمی و مقامی سطح پر سونا مسلسل دوسرے روز بھی سستا ہوا ہے جبکہ چاندی کے دام بڑھ گئے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 1 ہزار روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 26 ہزار 436 روپے کا ہوگیا، جبکہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 857 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 65 ہزار 600 روپے پر آگیا ہے۔ 24 قیراط فی تولہ چاندی کے دام 68 روپے بڑھ کر 6 ہزار 291 روپے پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونا 10 ڈالر سستا ہو کر 4040 ڈالر کی سطح پر آگیا ہے۔

صوبوں نے وفاق سے 22 لاکھ ٹن سے زائد گندم مانگ لی

2026-07-29

اسلام آباد: ملک میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے اور گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلیے چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے مجموعی طور پر 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائدگندم فراہم کرنے کامطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاق نے ابتدائی طور پر تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے درآمدکرنے کافیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویرحسین کی زیر صدارت ہونیوالے وفاقی ویٹ بورڈکے اجلاس میں صوبائی حکومتوں کی ضروریات کاجائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ درآمدی گندم کی ادائیگی کیلیے صوبے بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) جاری کرینگے،جبکہ ادائیگی میں کسی بھی کمی کی صورت میں رقم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈمیں صوبوں کے حصے سے وصول کی جائیگی۔ پاکستان بیوروآف شماریات کے مطابق سرکاری سطح پر آٹے کی اوسط قیمت ایک سال کے دوران 74 فیصد اضافے کے بعد 129 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے،جبکہ پشاور میں آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک ریکارڈکی گئی۔ اجلاس میں پنجاب نے 10 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ نے 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا نے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن جبکہ بلوچستان نے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ حکام کے مطابق پنجاب کی ضرورت پاسکو کے ذخائر،درآمدی گندم یا دونوں ذرائع سے پوری کی جا سکتی ہے،جبکہ سندھ نے 5 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی اور 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن پاسکوذخائرسے گندم لینے کی منظوری دیدی ہے۔ اجلاس میں نجی شعبے کے نمائندوں نے حکومت سے گندم درآمدکرنے اور بین الصوبائی نقل وحمل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم ویٹ بورڈ نے یہ مطالبات مستردکرتے ہوئے واضح کیاکہ صوبوں کی ضروریات صرف ٹی سی پی کے ذریعے درآمدکی جانیوالی گندم سے پوری کی جائیں گی۔ فیصلے کے مطابق درآمدی عمل شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیاجائیگا، جبکہ صوبائی نمائندوں کو خریداری اور تکنیکی کمیٹیوں میں شامل کیاجائیگا ،تاکہ معیار اورخریداری کے عمل میں شفافیت برقراررہے۔ وفاقی وزارت غذائی تحفظ درآمدی منصوبے اور مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری حاصل کریگی،جس کے بعدگندم کی درآمدکاباقاعدہ عمل شروع کیاجائیگا۔

چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار متعارف

2026-07-28

ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے انفرادی دکاندار اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ایف بی آر کے مطابق خصوصی طریقہ کار صرف ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا جبکہ اسکیم کے تحت مجموعی کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایف بی آر نوٹی فکیشن کے مطابق ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس قابلِ ادائیگی ٹیکس سے منہا کیا جا سکے گا اور اضافی رقم واپس نہیں ہوگی۔ ایف بی آر کے مطابق اہل دکاندار آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایپ یا ٹیکس دفتر کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں گے جبکہ اسکیم اختیار کرنے والے دکانداروں کا عمومی طور پر آڈٹ نہیں ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق غیر معمولی لین دین یا غلط استعمال کی صورت میں محکمانہ کارروائی کی جا سکے گی جبکہ اہل دکانداروں کو پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخ تک ریٹرن یا اسکیم کا انتخاب نہ کرنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا جبکہ رجسٹرڈ اہل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے کیو آر کوڈ پر مشتمل "گرین پلیٹ" جاری کی جائے گی۔

سونے کی بڑھتی قیمتیں رک گئیں، ہزاروں روپے کی کمی ہوگئی

2026-07-28

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دو روز بعد کمی ہوگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 43 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں کمی کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 300روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 687روپے گھٹ کر 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 174روپے کی کمی سے 6ہزار 223روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 149روپے کی کمی سے 5ہزار 335روپے کی سطح پر آگئی۔

آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی، وزیر پیٹرولیم اور مالکان کے مذاکرات کل ہوں گے

2026-07-27

اسلام آباد: آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی کا 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم کام کرگیا، وزیر پیٹرولیم نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے ملاقات کی یقین دہانی کرادی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن صدر عابد اللہ آفریدی کی 27 جولائی پیر کو وزیر پیٹرولیم سے ملاقات ہوگی۔ اس حوالے سے پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا، حکومت نے ہمارے مطالبے مان لیے تو اس کا اعلان کیا جائے گا اگر حکومت نے ہمارے مطالبے نہ مانے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا ٹینکر مالکان نے کہا کہ کمرشل لوڈنگ کو فوری ختم کیا جائے، تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوا، موٹر وے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے ہڑتال پر مجبور کیا، مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔

پنجاب میں گندم خریداری کا نظام ناکام، لاکھوں ٹن فصل سندھ اور کے پی چلی گئی

2026-07-27

لاہور: پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کیلیے متعارف کرایا گیا ’’ایگریگیٹر سسٹم‘‘مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا ، حکومت کم ازکم15 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف حاصل نہیں کر سکی جبکہ کٹائی کے فوری بعد اپنی گندم فروخت کرنے والے کسانوں کو بھی3 ہزار سے3100 روپے قیمت ملی ،اوپن مارکیٹ میں بلند قیمتوں کا فائدہ گندم ذخیرہ کرنے والے بڑے کسانوں، بیوپاریوں اور اسٹاکسٹ کو ہوا ہے۔ رواں برس کے حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ خوراک نے آئندہ گندم خریداری کیلیے ایک کثیر الجہتی نظام کی تیاری شروع کردی ہے جس میں ایگریگیٹرز کے ساتھ ساتھ ای ڈبلیو آر سسٹم اور ایک نئے خریداری ماڈل کو شامل کیا جائے گا جبکہ حکومت محکمہ خوراک پنجاب کو تحلیل کرنے کی بجائے اس کی تنظیم نو بارے غور کر رہی ہے جس کے تحت محکمہ کا نام تبدیل کرنے ، محکمانہ عہدوں اور ذمہ داریوں میں تبدیلی سمیت کئی تجاویز زیر غور ہیں۔زرعی و معاشی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت نے رواں برس گندم خریداری کیلئے 11 منتخب کمپنیوں یعنی ایگریگیٹرز کا تجربہ کیا تھا لیکن کمرشل بنکوں کی جانب سے غیر ضروری اعتراضات اور مطالبات کے سبب ایگریگیٹرز کی خریداری دو سے تین ہفتے تاخیر سے شروع ہوئی جس دوران مارکیٹ میں گندم کی قیمت3500 روپے کی سرکاری قیمت سے بڑھ گئی جبکہ گندم پیداوار میں نمایاں کمی کی تصدیق پر بیوپاریوں، سٹاکسٹ اوربڑے زمینداروں نے گندم کی فروخت روک دی تاکہ مہنگے داموں خرید سکیں۔ اسی دوران سرکاری چیک پوسٹوں کے قیام کے باوجود لاکھوں ٹن گندم سندھ اور خیبر پختونخوا چلی گئی جس کے سبب پنجاب کی اوپن گندم مارکیٹ شدید دبائو کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کے اعلان کے باوجود قیمتیں کم ہونے کی بجائے بلند ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلی دفعہ ہے کہ گندم کی فصل آنے کے دو تین ماہ کے اندر ہی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔

وفاقی وزیرجام کمال کی فروٹ بیگنگ منصوبہ کو مزید پھلوں تک توسیع دینے کی ہدایت

2026-07-25

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت باغبانی کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن، سپلائی چین کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کے لیے موٴثر اقدامات کر رہی ہے۔ وزارتِ تجارت میں پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی، پی ایچ ڈی ای سی، کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جام کمال خان نے فروٹ بیگنگ منصوبے کو کھجور، انگور، آڑو اور امرود تک توسیع دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فروٹ بیگنگ میٹریل کی مقامی تیاری کے لیے نجی شعبے اور کاغذی صنعت کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فروٹ بیگنگ منصوبے سے پاکستانی پھلوں کے معیار اور عالمی منڈی میں مسابقت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے بلوچستان اور شمالی پاکستان میں فریز ڈرائنگ منصوبوں کو وسعت دینے، جبکہ مرچ کے کاشتکاروں کے لیے سولر ٹنل ڈرائرز کے استعمال کو فروغ دینے کی ہدایت بھی کی۔ جام کمال خان نے کہا کہ فریز ڈرائنگ اور اسپرے ڈرائنگ ٹیکنالوجیز سے زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، جبکہ انہوں نے پی ایچ ڈی ای سی کو صوبائی ہارٹیکلچر ایکسپوز اور فوڈ ایگ نمائشوں میں بھرپور شرکت اور ایگزم بینک کو چھوٹے زرعی پروسیسنگ یونٹس کی مالی معاونت میں فعال کردار ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔

ملکی صنعتی ترقی میں تیزی؛ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ

2026-07-25

پاکستان کی صنعتی ترقی نے تیز رفتار پکڑ لی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سہولت کاری سے پاکستان کے صنعتی شعبے میں ترقی اور مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے اور صنعتی شعبے میں بہتری کے باعث پاکستان میں پیداوار، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (LSM) شعبے نے رواں مالی سال میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 121.65 ہو گیا، جو گزشتہ سال 115.02 تھا۔ جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران LSM شعبے میں 5.77 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان

2026-07-24

اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔ ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

2026-07-24

اسلام آباد: حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔ دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔ سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔ وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔