25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے

2026-06-11
25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ورز پشاور اور مظفرآباد میں ہونے والی قرعہ اندازی میں کئی افراد کروڑ پتی بن گئے جبکہ سینکڑوں افراد لاکھوں روپے جیتنے میں کامیاب رہے۔ 40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی مظفرآباد میں میں ہوئی، بانڈ نمبر 810678 رکھنے والے خوش نصیب شخص نے 8 کروڑ روپے کا پہلا انعام جیتا۔ دوسرا انعام جو کہ تین کروڑ روپے فی کس تھا ، اس طرح تین خوش نصیب افراد بھی کروڑ پتی بن گئے ، بانڈ نمبر 159467، 855955 اور 954286 تیسرا انعام جیتنے میں کامیاب رہے۔ 660 افراد کے نام فی کس 5 لاکھ روپے رہے، کامیاب ہونے والے تمام افراد کی مکمل فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ 25 ہزار روپے مالیت کے قومی پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوئی، قرعہ اندازی میں بانڈ نمبر 009663 اور 845124 رکھنے والے افراد نے پہلا انعام جیتا جو کہ 3،3 کروڑ روپے فی کس تھا۔ دوسرا انعام پانچ افراد کے نام رہا جن کے بانڈ نمبر 187375، 216012، 583887، 747225 اور 763842 ہیں۔ ہر فرد کو ایک ایک کروڑ روپے انعامی رقم ملے گی۔ اس کے علاوہ 700 افراد کو 3 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔
حکومت نے فائلرز کیلئے جائیداد
2026-06-13
حکومت نے فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کردی۔ بجٹ تقریر کے مطابق فائلرز کےلیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا جبکہ فائلرز کےلیے جائیداد فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کرکے 2.75 فیصد کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں۔
بجٹ 27-2026: حکومت کا
2026-06-13
حکومت نے امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے، 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔ وزیرخزانہ کےمطابق الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہےگا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔ وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایاکہ بیرون ملک بزنس کلاس میں سفرپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی
2026-06-13
حکومت نے آئندہ ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافے
2026-06-13
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔ اپنی تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کا شکر گزار ہوں، حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بینان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے،گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے، بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے، سعودی عرب کےساتھ بھائی چارےکا رشتہ دفاعی معاہدے سےمضبوط ہوا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں سیلاب سے ہونے والےنقصانات اور امریکا ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو 3.7 تک پہنچ چکی ہے۔ اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنےآئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےجوکہ نیاسنگ میل ہے جبکہ فی کس آمدنی1751 ڈالرسےبڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالرتھے جو بڑھ کر17 ارب ڈالرسے زائد ہوچکے ہیں، زرمبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کےلیے کافی ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھیں، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زرکا حجم 38ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ افراط زر کی اوسط شرح8.2 فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2 فیصد ہوگا۔ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ15 ہزار 264 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار336 ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے، جس میں سے 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔ وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات کا تخمینہ17 ہزار 495 ارب روپے ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے، اس قومی فرض کے لیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ دستاویز کے مطابق ملٹری پینشن پر 822 ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اگلے مالی سال بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3ہزار 675 ارب روپے مختص محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں وفاق کا ایک ہزارارب روپے، صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2 ہزار 224 ارب روپے کا ہے۔ وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کےبنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کے لیے 25ارب مختص کیے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسٹیٹکام اور بیٹری اسٹوریج جیسے جدید نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے بالترتیب 10.2 ارب اور3 ارب روپے شامل ہیں۔صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ صاف اور قابل تجدید توانائی کے 0 منصوبوں کے لیے واپڈا کو 50.2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں8 ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے انفرادی وسائل سے 158ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان کو پانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے اسٹوریج کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت، گزشتہ سال دریاوں میں سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کے لیے103ارب 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 15 ارب مختص کیے گئے ہیں جبکہ کراچی کے بلک واٹر سپلائی کے فور منصوبے کے لیے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 2035 تک ہماری تقریباً نصف ملکی آبادی شہروں میں مقیم ہوگی، اربن سینٹرز ہماری معیشت کا 55 فیصد حصہ ہیں، بجٹ میں دیرپا شہری ترقی اور ہاوسنگ شعبے کے لیے 54 ارب60کروڑ روپے مختص کیے ہیں، اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ50ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 10بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی رفتار بڑھانے کے لیے بجٹ میں 6 ارب 60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائنگ کے آٹومیشن مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے، ترقیاتی بجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25ارب10کروڑ روپے رکھے ہیں جس میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں وسعت بھی شامل ہے۔ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی 46ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختوانخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر144.9 ارب روپے روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے لیے 45 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے44 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے خصوصی پیکج کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کے لیے 5 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جبکہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔ 41 سے56 لاکھ روپےسالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 56 سے70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے پرعائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 15سے50 کروڑروپےتک آمدنی کی 6 سلیبس پرعائد سپر ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے، 50کروڑسےزیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سےکم کرکے8فیصد کرنےکی تجویز ہے تاہم بینکوں، تیل وگیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچارج برقرار ہے۔ بجٹ میں جائیدادمنتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے، فائلرز کےلیےجائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کرکے1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ فائلرز کےلیے جائیداد کی فروخت پرودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سےکم کرکے2.75 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم سےکم ٹیکس کی مدد میں مجموعی طورپر2 فیصدٹیکس ہے جسے کم کرکے 1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جوکہ کم سےکم ٹیکس کی مد میں ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید3 سال تک جاری رکھنےکی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈکےبیرون ملک استعمال پرودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنےکی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔ بجٹ میں سینیٹری پیڈز اور خواتین کی صحت سے متعلقہ اشیا پرٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے جبکہ مانع حمل اشیاء پرعائدٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ چھوٹےدکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانےکی تجویز ہے، اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتےہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے، چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے، چھوٹےدکاندار کوگوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا، ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمےداری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنےسے استثنیٰ ہوگا۔ بجٹ میں امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کی تجویز ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سفید سپرٹ اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کررہے ہیں، یہ اشیاء پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں، ان اشیاء کو تیل میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہیں۔ فنانس بل کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل آمدن پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگے گا اور متعلقہ شخص کے اکاونٹ میں وصولی کے وقت ٹیکس کٹوتی ہو گی۔ فنانس بل کے تحت پلیٹ فارمز سے اکاؤنٹ میں رقم وصولی کے وقت 5 فیصد ٹیکس کٹوتی ہو گی، فعال ٹیکس دہندگان میں شامل رہائشی شخص کی آمدن سے 5 فیصد کٹوتی ہو گی جبکہ غیر رہائشی شخص کے اکاؤنٹ سے بھی 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کٹے گا۔ فنانس بل کے مطابق سوشل میڈیا انفلونسر سے مراد وہ شخص یا ادارہ جس کو اس پلیٹ فارم سےآمد ہو۔
تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
2026-06-12
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت میں 1.62 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کے سودے 86.29 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 1.29 فیصد کمی دیکھی گئی اور اس کے سودے 89.09 ڈالر فی بیرل میں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق عالمی طلب و رسد کی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں، کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بھی مزید کمی ہو سکتی ہیں، اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
امریکا ایران کشیدگی کے اثرات
2026-06-12
ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی سست روی اور مہنگائی میں اضافے سے خبردار کر دیا۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ رواں سال عالمی ترقی کی رفتار کورونا وبا کے بعد سب سے سست رہنے کا امکان ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 2.9 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی میں اضافہ اور قرض لینے کی بلند لاگت عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر سپلائی چین میں رکاوٹیں مزید بڑھ گئیں تو عالمی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 36 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی صورت میں عالمی مہنگائی کی شرح 4 فیصد تک جا سکتی ہے، جو گزشتہ سال 3.3 فیصد رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری کے بعد دنیا کے دو تہائی ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے 60 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس امدادی پیکیج کو 100 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی
2026-06-12
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کردیا۔ اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اورلائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد، فرٹیلائزر سیکٹر میں17فیصد گروتھ ہوئی، ٹیکس محصولات میں 11.3فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ2 سال میں بتدریج کمی ہوئی۔ ان کا کہنا تھاکہ فری لانسرز کی برآمدات 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالر کمی ہے۔ اسپورٹس کی برآمدات 3ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، آئی ٹی برآمدات 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی اور خوشی کی بات ہے کہ فیفا ورلڈکپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹبال استعمال ہوگا جبکہ درآمدات میں کمی لانا ہماری ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں جو جون کے آخر تک زر مبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھوگئی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انویسٹر بیس بڑھ کر 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کرگئی،رواں سال اب تک رکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوئی، ملک میں 39,000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای نے ہمیں لمبا عرصہ سپورٹ کیا، یو ای اے کے ساتھ دیرینہ پائیدار تعلقات ہیں، پاکستانیوں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے، ہم اس پر یو اے ای کے مشکور ہیں۔
ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا
2026-06-12
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے منسوخ کرنے اور ایران ڈیل اس ہفتےہونے کے بیان کے عالمی اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گرگئیں۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ 89 ،ڈبلیو ٹی آئی اور یو اے ای مربن کی 87 ڈالرفی بیرل میں فروخت کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی آگئی اور جاپان کا نکی 225 انڈیکس 3.5 فیصد اوپر چلا گیا۔ ادھر جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 7.5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
آئندہ مالی سال کا 17 ہزار ارب
2026-06-12
اسلام آباد: اگلے مالی سال کا 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے اور قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب رپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جب کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے، سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنا ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے جب کہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی ،کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیاء خورونوش مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز ہے۔ بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا ا س سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے
2026-06-11
25 اور 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ورز پشاور اور مظفرآباد میں ہونے والی قرعہ اندازی میں کئی افراد کروڑ پتی بن گئے جبکہ سینکڑوں افراد لاکھوں روپے جیتنے میں کامیاب رہے۔ 40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی مظفرآباد میں میں ہوئی، بانڈ نمبر 810678 رکھنے والے خوش نصیب شخص نے 8 کروڑ روپے کا پہلا انعام جیتا۔ دوسرا انعام جو کہ تین کروڑ روپے فی کس تھا ، اس طرح تین خوش نصیب افراد بھی کروڑ پتی بن گئے ، بانڈ نمبر 159467، 855955 اور 954286 تیسرا انعام جیتنے میں کامیاب رہے۔ 660 افراد کے نام فی کس 5 لاکھ روپے رہے، کامیاب ہونے والے تمام افراد کی مکمل فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ 25 ہزار روپے مالیت کے قومی پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوئی، قرعہ اندازی میں بانڈ نمبر 009663 اور 845124 رکھنے والے افراد نے پہلا انعام جیتا جو کہ 3،3 کروڑ روپے فی کس تھا۔ دوسرا انعام پانچ افراد کے نام رہا جن کے بانڈ نمبر 187375، 216012، 583887، 747225 اور 763842 ہیں۔ ہر فرد کو ایک ایک کروڑ روپے انعامی رقم ملے گی۔ اس کے علاوہ 700 افراد کو 3 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔
