پنجاب میں گندم خریداری کا نظام ناکام، لاکھوں ٹن فصل سندھ اور کے پی چلی گئی

2026-07-27
لاہور: پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کیلیے متعارف کرایا گیا ’’ایگریگیٹر سسٹم‘‘مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا ، حکومت کم ازکم15 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف حاصل نہیں کر سکی جبکہ کٹائی کے فوری بعد اپنی گندم فروخت کرنے والے کسانوں کو بھی3 ہزار سے3100 روپے قیمت ملی ،اوپن مارکیٹ میں بلند قیمتوں کا فائدہ گندم ذخیرہ کرنے والے بڑے کسانوں، بیوپاریوں اور اسٹاکسٹ کو ہوا ہے۔ رواں برس کے حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ خوراک نے آئندہ گندم خریداری کیلیے ایک کثیر الجہتی نظام کی تیاری شروع کردی ہے جس میں ایگریگیٹرز کے ساتھ ساتھ ای ڈبلیو آر سسٹم اور ایک نئے خریداری ماڈل کو شامل کیا جائے گا جبکہ حکومت محکمہ خوراک پنجاب کو تحلیل کرنے کی بجائے اس کی تنظیم نو بارے غور کر رہی ہے جس کے تحت محکمہ کا نام تبدیل کرنے ، محکمانہ عہدوں اور ذمہ داریوں میں تبدیلی سمیت کئی تجاویز زیر غور ہیں۔زرعی و معاشی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت نے رواں برس گندم خریداری کیلئے 11 منتخب کمپنیوں یعنی ایگریگیٹرز کا تجربہ کیا تھا لیکن کمرشل بنکوں کی جانب سے غیر ضروری اعتراضات اور مطالبات کے سبب ایگریگیٹرز کی خریداری دو سے تین ہفتے تاخیر سے شروع ہوئی جس دوران مارکیٹ میں گندم کی قیمت3500 روپے کی سرکاری قیمت سے بڑھ گئی جبکہ گندم پیداوار میں نمایاں کمی کی تصدیق پر بیوپاریوں، سٹاکسٹ اوربڑے زمینداروں نے گندم کی فروخت روک دی تاکہ مہنگے داموں خرید سکیں۔ اسی دوران سرکاری چیک پوسٹوں کے قیام کے باوجود لاکھوں ٹن گندم سندھ اور خیبر پختونخوا چلی گئی جس کے سبب پنجاب کی اوپن گندم مارکیٹ شدید دبائو کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کے اعلان کے باوجود قیمتیں کم ہونے کی بجائے بلند ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلی دفعہ ہے کہ گندم کی فصل آنے کے دو تین ماہ کے اندر ہی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار متعارف
2026-07-28
ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے انفرادی دکاندار اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ایف بی آر کے مطابق خصوصی طریقہ کار صرف ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا جبکہ اسکیم کے تحت مجموعی کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایف بی آر نوٹی فکیشن کے مطابق ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس قابلِ ادائیگی ٹیکس سے منہا کیا جا سکے گا اور اضافی رقم واپس نہیں ہوگی۔ ایف بی آر کے مطابق اہل دکاندار آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایپ یا ٹیکس دفتر کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں گے جبکہ اسکیم اختیار کرنے والے دکانداروں کا عمومی طور پر آڈٹ نہیں ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق غیر معمولی لین دین یا غلط استعمال کی صورت میں محکمانہ کارروائی کی جا سکے گی جبکہ اہل دکانداروں کو پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخ تک ریٹرن یا اسکیم کا انتخاب نہ کرنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا جبکہ رجسٹرڈ اہل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے کیو آر کوڈ پر مشتمل "گرین پلیٹ" جاری کی جائے گی۔
سونے کی بڑھتی قیمتیں رک گئیں، ہزاروں روپے کی کمی ہوگئی
2026-07-28
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دو روز بعد کمی ہوگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 43 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں کمی کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 300روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 687روپے گھٹ کر 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 174روپے کی کمی سے 6ہزار 223روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 149روپے کی کمی سے 5ہزار 335روپے کی سطح پر آگئی۔
آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی، وزیر پیٹرولیم اور مالکان کے مذاکرات کل ہوں گے
2026-07-27
اسلام آباد: آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی کا 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم کام کرگیا، وزیر پیٹرولیم نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے ملاقات کی یقین دہانی کرادی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن صدر عابد اللہ آفریدی کی 27 جولائی پیر کو وزیر پیٹرولیم سے ملاقات ہوگی۔ اس حوالے سے پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا، حکومت نے ہمارے مطالبے مان لیے تو اس کا اعلان کیا جائے گا اگر حکومت نے ہمارے مطالبے نہ مانے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا ٹینکر مالکان نے کہا کہ کمرشل لوڈنگ کو فوری ختم کیا جائے، تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوا، موٹر وے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے ہڑتال پر مجبور کیا، مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔
پنجاب میں گندم خریداری کا نظام ناکام، لاکھوں ٹن فصل سندھ اور کے پی چلی گئی
2026-07-27
لاہور: پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کیلیے متعارف کرایا گیا ’’ایگریگیٹر سسٹم‘‘مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا ، حکومت کم ازکم15 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف حاصل نہیں کر سکی جبکہ کٹائی کے فوری بعد اپنی گندم فروخت کرنے والے کسانوں کو بھی3 ہزار سے3100 روپے قیمت ملی ،اوپن مارکیٹ میں بلند قیمتوں کا فائدہ گندم ذخیرہ کرنے والے بڑے کسانوں، بیوپاریوں اور اسٹاکسٹ کو ہوا ہے۔ رواں برس کے حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ خوراک نے آئندہ گندم خریداری کیلیے ایک کثیر الجہتی نظام کی تیاری شروع کردی ہے جس میں ایگریگیٹرز کے ساتھ ساتھ ای ڈبلیو آر سسٹم اور ایک نئے خریداری ماڈل کو شامل کیا جائے گا جبکہ حکومت محکمہ خوراک پنجاب کو تحلیل کرنے کی بجائے اس کی تنظیم نو بارے غور کر رہی ہے جس کے تحت محکمہ کا نام تبدیل کرنے ، محکمانہ عہدوں اور ذمہ داریوں میں تبدیلی سمیت کئی تجاویز زیر غور ہیں۔زرعی و معاشی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت نے رواں برس گندم خریداری کیلئے 11 منتخب کمپنیوں یعنی ایگریگیٹرز کا تجربہ کیا تھا لیکن کمرشل بنکوں کی جانب سے غیر ضروری اعتراضات اور مطالبات کے سبب ایگریگیٹرز کی خریداری دو سے تین ہفتے تاخیر سے شروع ہوئی جس دوران مارکیٹ میں گندم کی قیمت3500 روپے کی سرکاری قیمت سے بڑھ گئی جبکہ گندم پیداوار میں نمایاں کمی کی تصدیق پر بیوپاریوں، سٹاکسٹ اوربڑے زمینداروں نے گندم کی فروخت روک دی تاکہ مہنگے داموں خرید سکیں۔ اسی دوران سرکاری چیک پوسٹوں کے قیام کے باوجود لاکھوں ٹن گندم سندھ اور خیبر پختونخوا چلی گئی جس کے سبب پنجاب کی اوپن گندم مارکیٹ شدید دبائو کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کے اعلان کے باوجود قیمتیں کم ہونے کی بجائے بلند ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلی دفعہ ہے کہ گندم کی فصل آنے کے دو تین ماہ کے اندر ہی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔
وفاقی وزیرجام کمال کی فروٹ بیگنگ منصوبہ کو مزید پھلوں تک توسیع دینے کی ہدایت
2026-07-25
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت باغبانی کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن، سپلائی چین کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کے لیے موٴثر اقدامات کر رہی ہے۔ وزارتِ تجارت میں پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی، پی ایچ ڈی ای سی، کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جام کمال خان نے فروٹ بیگنگ منصوبے کو کھجور، انگور، آڑو اور امرود تک توسیع دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فروٹ بیگنگ میٹریل کی مقامی تیاری کے لیے نجی شعبے اور کاغذی صنعت کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فروٹ بیگنگ منصوبے سے پاکستانی پھلوں کے معیار اور عالمی منڈی میں مسابقت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے بلوچستان اور شمالی پاکستان میں فریز ڈرائنگ منصوبوں کو وسعت دینے، جبکہ مرچ کے کاشتکاروں کے لیے سولر ٹنل ڈرائرز کے استعمال کو فروغ دینے کی ہدایت بھی کی۔ جام کمال خان نے کہا کہ فریز ڈرائنگ اور اسپرے ڈرائنگ ٹیکنالوجیز سے زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، جبکہ انہوں نے پی ایچ ڈی ای سی کو صوبائی ہارٹیکلچر ایکسپوز اور فوڈ ایگ نمائشوں میں بھرپور شرکت اور ایگزم بینک کو چھوٹے زرعی پروسیسنگ یونٹس کی مالی معاونت میں فعال کردار ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ملکی صنعتی ترقی میں تیزی؛ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ
2026-07-25
پاکستان کی صنعتی ترقی نے تیز رفتار پکڑ لی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سہولت کاری سے پاکستان کے صنعتی شعبے میں ترقی اور مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے اور صنعتی شعبے میں بہتری کے باعث پاکستان میں پیداوار، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (LSM) شعبے نے رواں مالی سال میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 121.65 ہو گیا، جو گزشتہ سال 115.02 تھا۔ جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران LSM شعبے میں 5.77 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
2026-07-24
اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔ ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
2026-07-24
اسلام آباد: حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔ دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔ سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔ وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔
وزیرِ پیٹرولیم سے عالمی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں کی ملاقاتیں، سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق
2026-07-24
وزیرِ پیٹرولیم سے عالمی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں کی ملاقاتیں، سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق وزیرِ پیٹرولیم نے امریکی کمپنی مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تیجارہ کیپیٹل کے سی ای او احمد ولید سے ملاقات کی۔اعلامیے کے مطابق دونوں کمپنیاں بلوچستان میں معدنیات کے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس موقع پر گریگوری بلوم نے پاکستان کے تیل و گیس کے موجودہ ذخائر سے پیداوار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ علی پرویز ملک نے مقامی توانائی پیداوار میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا کے سی ای او کیرن گالاگر سے بھی ملاقات کی اور گوادر میں کمپنی کے بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی۔ ملاقات میں ہائی سلفر فیول آئل کو ویری لو سلفر فیول آئل میں تبدیل کرنے کے منصوبے، نئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع اور عالمی توانائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
6 روز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 63 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا
2026-07-23
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل عوام پر بھاری پڑ گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق نئے نظام کے بعد صرف تین روز میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 20 روپے 69 پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ 6 روز میں مجموعی طور پر52 روپے 19 پیسے بڑھ گئے۔ ڈیزل کی قیمت محض تین دن میں 354.35 پیسے سے بڑھ کر 375.4 پیسے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح پیٹرول تین روز کے دوران مزید 11 روپے 32 پیسے مہنگا ہوگیا، تین دنوں کے دوران صرف ایک بار پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے کمی ہوئی جبکہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 3 دن میں 315.80 روپے سے بڑھ کر 327.12 روپے تک پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ڈیزل 31 روپے 5 پیسے مہنگا جبکہ پیٹرول 5 روپے 44 پیسے مہنگا کیا تھا۔ قبل ازیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر مسلسل تیسرے روز پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں بڑا اضافہ کیا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق اوگرا نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے بڑھا دیا جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے پر پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد قیمت 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر پر پہنچ گئی۔
