پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرز موصول ہوگئے    space    جنگ بندی میں توسیع پر غور نہيں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے: ٹرمپ    space    امریکا ایران مذاکرات آگے بڑھانے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئےکوششیں جاری رکھیں گے: وزیراعظم    space    وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات سے متعلق گفتگو    space    ایرانی فوج کی امریکی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر سے ہونے والی تجارت بند کرانے کی دھمکی    space    فیلڈ مارشل عاصم منیرکی تہران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات، دیگر ایرانی حکام کی بھی شرکت    space    امریکی سینیٹ میں ایران پر مزید حملوں کیلئے کانگریس کی پیشگی اجازت کی قرارداد مسترد    space   

5 ہزار کا نوٹ ختم ہو گا


2026-02-05

گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ 10 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک تمام نوٹوں کے نئے ڈیزائن تیار کر لیے گئے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس حوالے سے تجاویز وزارتِ خزانہ کو بھیج دی گئی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں پر مرکزی بینک نے تفصیلی کام کیا، جس کے بعد اسٹیٹ بینک بورڈ سے منظوری لے کر معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ سونے کی قیمت نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے، ان کا کہنا تھا کہ نئے نوٹوں سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا

2026-04-16

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔ اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد بڑھ کر 4,844.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران جنگ بندی کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر سے اوپر جاتی ہے تو اگلا ہدف نفسیاتی حد 5,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔ ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔ یاد رہے کہ فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی آ چکی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے اور شرح سود زیادہ رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔ اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔ امریکا میں تاجروں کے مطابق اس سال شرح سود میں کمی کا امکان اب 29 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جنگ سے قبل دو بار کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 80.41 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد بڑھ کر 2,135.58 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,587.39 ڈالر تک پہنچ گیا۔

سونا مزید مہنگا ہو گیا

2026-04-16

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 1400روپے بڑھ گئی جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 4 ہزار 862 روپے کا ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1200 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 32 ہزار 837 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 14 ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا 4 ہزار 825 ڈالر کا ہو گیا۔

آئل کمپنیز کا ڈیزل کی قیمتوں

2026-04-16

اسلام آباد: ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات اور 128 ارب روپے کے بقایا جات پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں اور پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی دباؤ پیٹرولیم سیکٹر کی لیکویڈیٹی (نقدی کے بہاؤ) کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی کا نظام خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو 13 اپریل 2026 کو لکھے گئے ایک تفصیلی خط میں صنعتی ادارے نے کہا ہے کہ دو بیک وقت ہونے والی تبدیلیاں، یعنی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ترمیم اور ریگولیٹری ادائیگیوں میں تاخیر،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ’’شدید مالی دباؤ‘‘ ڈال رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کمپنیاں ملک بھر میں ایندھن کی خریداری اور تقسیم کی ذمہ دار ہیں۔

ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت

2026-04-16

اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا۔ اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق 2018 کا پرانا ورچوئل کرنسی سرکلر ختم کردیا گیا ہے جب کہ نیا فریم ورک نافذ کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ دار ہو گی، اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ بینکوں کو وی اے ایس پی کا لائسنس حاصل کر کے اس کی تصدیق کرنا ہو گی، صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس ہوں گے اور رقوم ملانا ممنوع ہو گا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اکاؤنٹس روپے میں ہوں گے اور نقد جمع یا نکاسی کی اجازت نہیں ہو گی، بینک وی اے ایس پیز کی جانچ پڑتال کریں گے اور نگرانی یقینی بنائیں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ مشکوک لین دین رپورٹ ایف ایم یو کو ہو گی اور قوانین پرعمل لازم ہو گا، بینک فنڈز یا صارفین کی رقوم سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔ اعلامیے کے مطابق ورچوئل کمپنیوں کیلئے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس رکھنا لازمی ہوگا،این او سی رکھنے والی کمپنیوں کو محدود نوعیت کے اکاؤنٹس کی اجازت دی گئی ہے،۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کورسمی مالیاتی نظام میں شامل کرنےوالےممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ چیئرمین پی وی اے آر اے بلال بن ثاقب کے مطابق یہ پاکستان کےمالیاتی نظام میں ورچوئل اثاثوں کوشامل کرنےکی بنیادی پیشرفت ہے،لائسنس یافتہ اداروں کو بینکاری رسائی دے کر شفافیت اور ضابطہ مضبوط ہوگا۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان

2026-04-16

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کےلیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان میں اعلیٰ سطح کے بزنس فورم کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، ای یو پاک بزنس فورم 28 اور 29 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں یورپی اور پاکستانی سرمایہ کار کاروباری شخصیات شرکت کریں گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین دنیا کی سب سے بڑی سنگل مارکیٹ اورپاکستان کی بڑی برآمدی منڈی ہے، فورم کا مقصد تجارتی تعلقات کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ ای یو پاک بزنس فورم میں زرعی کاروبار، ڈیجیٹل انوویشن، فن ٹیک،گرین لاجسٹکس، ٹیکسٹائل، اہم شعبے زیرغور آئیں گے، یورپی یونین کا گلوبل گیٹ وے پروگرام پاکستان میں 400 ارب یورو کی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ پاکستان میں 300 سے زائد یورپی کمپنیاں پہلے ہی مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فورم کے دوران 600 سے زائد بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں شیڈول ہیں، سرمایہ کاروں اوریورپی مالیاتی اداروں کے درمیان خصوصی ملاقاتیں بھی ہوں گی، فورم پاکستان کو یورپی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنانے میں مدد دے گا۔ یورپی یونین نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کے عزم کا اعادہ بھی کیا اور کہا کہ فورم سے نجی شعبے کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کوہاٹ میں کنویں سے تیل وگیس

2026-04-16

او جی ڈی سی ایل نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع نشپا بلاک کے باراگزئی ایکس-1 کنویں سے تیل و گیس کی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت کا سنگ میل حاصل کرلیا ۔ وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نےکنویں سے کمرشل پیداوار کا افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی ملکی توانائی سکیورٹی کے لیے اہم سنگ میل ہے، اس منصوبے سے سالانہ 329 ملین ڈالر زرمبادلہ بچانے میں مدد ملےگی، نئی دریافتوں سے ملکی ذخائر میں اضافہ اور درآمدی ایندھن پر انحصارکم ہوگا۔ او جی ڈی سی ایل کے اعلامیے کے مطابق باراگزئی ایکس-1 کنواں تیل و گیس کی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت ہے، کوہاٹ میں تیل و گیس کی دریافتیں پاکستان کی بڑی ایکسپلوریشن کامیابی ہے، کنویں کی پیداوار یومیہ 15000 بیرل تیل اور 4کروڑ 50 لاکھ مکعب فٹ گیس تک پہنچ گئی ہے اور مستقبل میں پیداوار 25000 بیرل یومیہ اور6 کروڑ مکعب فٹ تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ ملک کے دشوار گزار ترین علاقوں میں سے ایک میں تیار کیا گیا، جہاں او جی ڈی سی ایل نے مؤثر اور محفوظ آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی۔ ایک اہم آپریشنل کامیابی کے طور پر 8 کلومیٹر طویل پائپ لائن ریکارڈ وقت میں بچھائی گئی۔ اعلامیے کے مطابق باراگزئی ایکس-1 او جی ڈی سی ایل کے پورٹ فولیو کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ پیداوار دینے والا کنواں بن چکا ہے اور یہ پاکستان کی مجموعی خام تیل پیداوار میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔

پاکستان نے رواں مالی سال

2026-04-16

واشنگٹن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا ہےکہ پاکستان نے مالی سال 2026 کے لیے بیرونی فنانسنگ کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ واشنگٹن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فِچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی کریڈٹ پروفائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے فِچ کی جانب سے پاکستان کی بی نیگیٹیو ریٹنگ برقرار رکھنے پر خیرمقدم اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں فعال موجودگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات پر عالمی اداروں کا اعتماد برقرار ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرامز پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جب کہ پاکستان نے مالی سال 2026 کے لیے بیرونی فنانسنگ کے انتظامات مکمل کر لیے گئے،پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور سکوک کے ذریعے بھی فنڈنگ حکمت عملی جاری ہے۔ واشنگٹن میں سِٹی میکرو فورم سے خطاب دوسری جانب واشنگٹن میں سِٹی میکرو فورم سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے سرمایہ کاروں کو اقتصادی حکمتِ عملی پر بریفنگ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران حالیہ تاریخ کے بڑے ترین سپلائی شاکس میں سے ایک ہے اور موجودہ بحران سے حاصل ہونے والا سبق پیٹرولیم ذخائر کی تعمیر ہے۔ وزیر خزانہ نے حکومت کے تین مراحل پر مشتمل ردعمل کا خاکہ پیش کیا اور سعودی عرب کی مالی معاونت پر گہری قدر دانی کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان کو سعودی عرب

2026-04-16

کراچی: پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالرز موصول ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالرز فنڈز کی مد میں موصول ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالرز کی سپورٹ اگلے ہفتے تک ہمیں مل جائے گی۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ 5 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی بھی سالانہ رول اوور کے بجائے 3 سال کی توسیع ہو جائے گی، سالانہ رول اوور کے بجائے اس کی میچورٹی 2028ء تک جائے گی۔

سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی،

2026-04-15

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج شاندار تیزی کا رجحان ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا۔ نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق آج بدھ کے روز بازار حصص میں کاروبار کا آغاز 4698 پوائنٹس کی بڑی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار 333 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ بعد ازاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے سے پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان غالب رہا اور مجموعی طور پر 4918 پوائنٹس کی شاندار تیزی سے انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار 553 پوائنٹس کو چھو گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پی ایس ایکس میں کاروبار میں شاندار تیزی دیکھی گئی تھی۔

امریکی ناکہ بندی کے

2026-04-15

امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کے پہلے دن آبنائے ہرمز سے ایران سے منسلک تیسرا ٹینکر خلیج میں داخل ہو گیا، جس سے اس پابندی کی حدود پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ تینوں جہاز ایرانی بندرگاہوں کی جانب نہیں جا رہے، اس لیے یہ امریکی ناکہ بندی کی زد میں نہیں آتے۔ پاناما کے جھنڈے تلے چلنے والا “پیس گلف” نامی ٹینکر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ حمریہ کی جانب گامزن ہے، جو عموماً ایرانی نیفتھا دیگر مشرق وسطیٰ کی بندرگاہوں تک پہنچا کر ایشیا برآمد کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی دو امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکرز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ “مرلکشَن” نامی جہاز 16 اپریل کو عراق سے فیول آئل لوڈ کرنے جا رہا ہے، جبکہ “رچ اسٹیری” ناکہ بندی کے بعد خلیج سے نکلنے والا پہلا ٹینکر بن چکا ہے، جو تقریباً ڈھائی لاکھ بیرل میتھانول لے جا رہا ہے۔ امریکا نے یہ ناکہ بندی اس وقت اعلان کی جب اسلام آباد میں ہونے والے امریکا۔ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ دوسری جانب چین نے امریکی اقدام کو “خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔ ماہرین کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ناکہ بندی نافذ ہے، تاہم اس کے اطلاق میں پیچیدگیاں موجود ہیں، جو عالمی توانائی سپلائی اور سمندری راستوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔