پاکستان بزنس فورم

2026-02-09
پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے ڈبا پیک دودھ والی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان بزنس فورم کا کہنا ہے کہ ڈیری مصنوعات روزمرہ کی ضرورت ہے لیکن اس پر کوئی چیک نہیں، دودھ والی کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں فی لیٹر دودھ 360 روپے سے 380 تک بیچ رہی ہیں جبکہ دودھ کی قیمت خرید بمعہ لاجسٹکس چارجز ملا کر بھی 180 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ پی بی ایف کا کہنا ہے بھارت اور بنگلادیش میں ٹیٹرا پیک دودھ کی فی لیٹر قیمت پاکستانی روپے میں 250 سے 270 ہے، معروف کمپنیوں کی سال 2025 میں آمدنی 60 سے 100 ارب روپے کے درمیان ہے۔ چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد کا کہنا ہے حکومت ڈیری مصنوعات میں جی ایس ٹی کی شرح 7 فیصد کرے، مہنگائی کم کرنے کے حکومتی وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، حکومت ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 50 روپے کی فوری کمی کرائے۔
حکومت کا پٹرولیم شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
2026-07-31
اسلام آباد: ایران امریکا جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کا طریقہ کار اختیار کرنے کے بعد حکومت نے اب پٹرولیم شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق پاکستان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ موثر مسابقت کے ساتھ ڈی ریگولیشن سے صارفین کو نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ہائی آکٹین بلیندڈ کمپوننٹ (HOBC) کی قیمتیں پہلے ہی ڈی ریگولیٹڈ ہیں، جس کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) قیمتوں میں مقابلہ کرتی ہیں اور صارفین کو بہتر سہولت فراہم کرتی ہیں۔اسی طرح ٹیلی کام سیکٹر میں بھی لبرلائزیشن کے بعد سخت سرکاری قیمتوں کے نظام کی جگہ مسابقت نے لے لی، جس کے نتیجے میں نرخ کم ہوئے، خدمات بہتر ہوئیں اور جدت کو فروغ ملا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنا کردار مناسب ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے تک محدود رکھے اور قیمتوں کا تعین مسابقتی مارکیٹ پر چھوڑ دے تو صارفین کو کم قیمت، بہتر سروس اور زیادہ انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا پانچواں اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کنٹرولڈ نظام سے ڈی ریگولیٹڈ قیمتوں کے نظام کی جانب مرحلہ وار منتقلی پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹیوں نے پیٹرولیم قیمتوں کے نظام سے متعلق اپنی سفارشات پیش کیں، جبکہ KPMG نے خطے کے مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکس ڈھانچے کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔ شرکا نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے اور نئے نظام میں شفافیت بڑھانے اور قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھائو کم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا (OGRA) کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، قیمتوں کے تعین کا فارمولہ اور متعلقہ Platts ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ شفافیت، ٹریس ایبلٹی، کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی (مورٹوریم) اور اس کے مسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ ڈھانچے پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر IFEM Pool کے نظام پر بھی جامع نظرثانی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور پیٹرولیم ڈویڑن کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے گی۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔
سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہ
2026-07-31
کراچی: سونے اور چاندی کی عالمی ومقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں اضافے کا رحجان برقرار ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت 30ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 080ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 3ہزار روپے کے اضافے سے 4لاکھ 30ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 2ہزار 572روپے کے اضافے سے 3لاکھ 69ہزار 029روپے ہوگئی۔ دریں اثنا عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 79سینٹس کی کمی سے 58ڈالر 15سینٹس کی سطح پر آنے کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 79روپے کے اضافے سے 6ہزار 294روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 68روپے کے اضافے سے 5ہزار 396روپے کی سطح پر آگئی
سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر قرض کی مدت میں توسیع کر دی
2026-07-30
سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر سے زائد قرض رول اوور کر دی ہے جس سے ملک پر فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق وفاقی وزیر خزانہ نے کی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یہ قرض پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو ادائیگیوں کے لیے فراہم کیا تھا جس کی مدت ابتدائی طور پر تین ماہ مقرر کی گئی تھی۔ اب اس قرض کو رول اوور کیے جانے سے پاکستان کو قلیل مدت میں بڑا مالی سہارا مل گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ 5 ارب ڈالر کے رول اوور کے بعد پاکستان کی زرمبادلہ کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے پاکستان میں مجموعی ڈپازٹس 8 ارب ڈالر ہیں۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس بھی کر چکا ہے جس کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے قرض رول اوور کیے جانے سے ملکی معیشت کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔
سونا عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں مزید مہنگا، چاندی کی قیمت کم ہوگئی
2026-07-30
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا جب کہ چاندی سستی ہوگ ئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 10ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 50ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار روپے کے اضافے سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 857روپے کے اضافے سے 3لاکھ 66ہزار 457 روپے کی سطح پر آگئی۔ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے برعکس عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 76سینٹس کی کمی سے 57ڈالر 36سینٹس کی سطح پر آنے کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 76روپے کی کمی سے 6ہزار 215روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 65روپے کی کمی سے 5ہزار 328روپے کی سطح پر آگئی۔
عالمی و مقامی سطح پر سونا مسلسل دوسرے روز بھی سستا
2026-07-29
کراچی: عالمی و مقامی سطح پر سونا مسلسل دوسرے روز بھی سستا ہوا ہے جبکہ چاندی کے دام بڑھ گئے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 1 ہزار روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 26 ہزار 436 روپے کا ہوگیا، جبکہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 857 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 65 ہزار 600 روپے پر آگیا ہے۔ 24 قیراط فی تولہ چاندی کے دام 68 روپے بڑھ کر 6 ہزار 291 روپے پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونا 10 ڈالر سستا ہو کر 4040 ڈالر کی سطح پر آگیا ہے۔
صوبوں نے وفاق سے 22 لاکھ ٹن سے زائد گندم مانگ لی
2026-07-29
اسلام آباد: ملک میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے اور گندم کی دستیابی یقینی بنانے کیلیے چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے مجموعی طور پر 22 لاکھ میٹرک ٹن سے زائدگندم فراہم کرنے کامطالبہ کیا ہے، جبکہ وفاق نے ابتدائی طور پر تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے درآمدکرنے کافیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویرحسین کی زیر صدارت ہونیوالے وفاقی ویٹ بورڈکے اجلاس میں صوبائی حکومتوں کی ضروریات کاجائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ درآمدی گندم کی ادائیگی کیلیے صوبے بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) جاری کرینگے،جبکہ ادائیگی میں کسی بھی کمی کی صورت میں رقم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈمیں صوبوں کے حصے سے وصول کی جائیگی۔ پاکستان بیوروآف شماریات کے مطابق سرکاری سطح پر آٹے کی اوسط قیمت ایک سال کے دوران 74 فیصد اضافے کے بعد 129 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے،جبکہ پشاور میں آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک ریکارڈکی گئی۔ اجلاس میں پنجاب نے 10 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ نے 7 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا نے 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن جبکہ بلوچستان نے 57 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ حکام کے مطابق پنجاب کی ضرورت پاسکو کے ذخائر،درآمدی گندم یا دونوں ذرائع سے پوری کی جا سکتی ہے،جبکہ سندھ نے 5 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی اور 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن پاسکوذخائرسے گندم لینے کی منظوری دیدی ہے۔ اجلاس میں نجی شعبے کے نمائندوں نے حکومت سے گندم درآمدکرنے اور بین الصوبائی نقل وحمل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم ویٹ بورڈ نے یہ مطالبات مستردکرتے ہوئے واضح کیاکہ صوبوں کی ضروریات صرف ٹی سی پی کے ذریعے درآمدکی جانیوالی گندم سے پوری کی جائیں گی۔ فیصلے کے مطابق درآمدی عمل شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیاجائیگا، جبکہ صوبائی نمائندوں کو خریداری اور تکنیکی کمیٹیوں میں شامل کیاجائیگا ،تاکہ معیار اورخریداری کے عمل میں شفافیت برقراررہے۔ وفاقی وزارت غذائی تحفظ درآمدی منصوبے اور مالیاتی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری حاصل کریگی،جس کے بعدگندم کی درآمدکاباقاعدہ عمل شروع کیاجائیگا۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار متعارف
2026-07-28
ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے انفرادی دکاندار اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ایف بی آر کے مطابق خصوصی طریقہ کار صرف ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا جبکہ اسکیم کے تحت مجموعی کاروبار پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایف بی آر نوٹی فکیشن کے مطابق ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس قابلِ ادائیگی ٹیکس سے منہا کیا جا سکے گا اور اضافی رقم واپس نہیں ہوگی۔ ایف بی آر کے مطابق اہل دکاندار آئی آر آئی ایس پورٹل، موبائل ایپ یا ٹیکس دفتر کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں گے جبکہ اسکیم اختیار کرنے والے دکانداروں کا عمومی طور پر آڈٹ نہیں ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق غیر معمولی لین دین یا غلط استعمال کی صورت میں محکمانہ کارروائی کی جا سکے گی جبکہ اہل دکانداروں کو پی او ایس سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخ تک ریٹرن یا اسکیم کا انتخاب نہ کرنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا جبکہ رجسٹرڈ اہل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے کیو آر کوڈ پر مشتمل "گرین پلیٹ" جاری کی جائے گی۔
سونے کی بڑھتی قیمتیں رک گئیں، ہزاروں روپے کی کمی ہوگئی
2026-07-28
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دو روز بعد کمی ہوگئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 43 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں کمی کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 300روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 687روپے گھٹ کر 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 174روپے کی کمی سے 6ہزار 223روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 149روپے کی کمی سے 5ہزار 335روپے کی سطح پر آگئی۔
آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی، وزیر پیٹرولیم اور مالکان کے مذاکرات کل ہوں گے
2026-07-27
اسلام آباد: آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی کا 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم کام کرگیا، وزیر پیٹرولیم نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے ملاقات کی یقین دہانی کرادی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن صدر عابد اللہ آفریدی کی 27 جولائی پیر کو وزیر پیٹرولیم سے ملاقات ہوگی۔ اس حوالے سے پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا، حکومت نے ہمارے مطالبے مان لیے تو اس کا اعلان کیا جائے گا اگر حکومت نے ہمارے مطالبے نہ مانے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا ٹینکر مالکان نے کہا کہ کمرشل لوڈنگ کو فوری ختم کیا جائے، تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں ہوا، موٹر وے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے ہڑتال پر مجبور کیا، مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔
پنجاب میں گندم خریداری کا نظام ناکام، لاکھوں ٹن فصل سندھ اور کے پی چلی گئی
2026-07-27
لاہور: پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کیلیے متعارف کرایا گیا ’’ایگریگیٹر سسٹم‘‘مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکا ، حکومت کم ازکم15 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف حاصل نہیں کر سکی جبکہ کٹائی کے فوری بعد اپنی گندم فروخت کرنے والے کسانوں کو بھی3 ہزار سے3100 روپے قیمت ملی ،اوپن مارکیٹ میں بلند قیمتوں کا فائدہ گندم ذخیرہ کرنے والے بڑے کسانوں، بیوپاریوں اور اسٹاکسٹ کو ہوا ہے۔ رواں برس کے حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ خوراک نے آئندہ گندم خریداری کیلیے ایک کثیر الجہتی نظام کی تیاری شروع کردی ہے جس میں ایگریگیٹرز کے ساتھ ساتھ ای ڈبلیو آر سسٹم اور ایک نئے خریداری ماڈل کو شامل کیا جائے گا جبکہ حکومت محکمہ خوراک پنجاب کو تحلیل کرنے کی بجائے اس کی تنظیم نو بارے غور کر رہی ہے جس کے تحت محکمہ کا نام تبدیل کرنے ، محکمانہ عہدوں اور ذمہ داریوں میں تبدیلی سمیت کئی تجاویز زیر غور ہیں۔زرعی و معاشی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت نے رواں برس گندم خریداری کیلئے 11 منتخب کمپنیوں یعنی ایگریگیٹرز کا تجربہ کیا تھا لیکن کمرشل بنکوں کی جانب سے غیر ضروری اعتراضات اور مطالبات کے سبب ایگریگیٹرز کی خریداری دو سے تین ہفتے تاخیر سے شروع ہوئی جس دوران مارکیٹ میں گندم کی قیمت3500 روپے کی سرکاری قیمت سے بڑھ گئی جبکہ گندم پیداوار میں نمایاں کمی کی تصدیق پر بیوپاریوں، سٹاکسٹ اوربڑے زمینداروں نے گندم کی فروخت روک دی تاکہ مہنگے داموں خرید سکیں۔ اسی دوران سرکاری چیک پوسٹوں کے قیام کے باوجود لاکھوں ٹن گندم سندھ اور خیبر پختونخوا چلی گئی جس کے سبب پنجاب کی اوپن گندم مارکیٹ شدید دبائو کا شکار ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کے اعلان کے باوجود قیمتیں کم ہونے کی بجائے بلند ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلی دفعہ ہے کہ گندم کی فصل آنے کے دو تین ماہ کے اندر ہی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔
