ایران سے کہا ہے اب وقت آگیا ہے کسی نہ کسی طرح معاہدہ کرلیں: ٹرمپ    space    بجٹ 27-2026: جائیداد خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجاویز تیار    space    اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے: ایرانی اسپیکر    space    کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ پر نیپرا نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی    space    آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنیکی سفارش    space    بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز    space    وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے    space   

عالمی تیل مارکیٹ میں


2026-03-30

آبنائے ہرمز نے عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال پیدا کر دیا، قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران نے ایک ماہ کا سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، ترقی کی پیش گوئیاں کم ہونا، اور ایشیا کے ممالک جیسے تھائی لینڈ سے پاکستان میں فیول کی قلت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ بلوم برگ کے مطابق دنیا نے صورتحال کی سنگینی ابھی تک نہیں سمجھی۔ امریکی حکومتی عہدیداران اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کئی ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ ایشیا میں فیول کی قلت مغرب کی جانب پھیلنے کا خدشہ ہے، اور یورپ کو اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی تیل کی اوسط سپلائی جنوری اور فروری 2026 میں 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی، لیکن بندش کے باعث 18.4 ملین بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی۔ سعودی عرب نے 7.3 ملین بیرل یومیہ تیل کی سپلائی متبادل راستوں سے فراہم کی، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کا ذخیرہ جاری کیا، اور دیگر اقدامات کے ذریعے 3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کیا گیا۔ ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے کہااگر یہ بحران تین یا چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 20فیصد عالمی خام تیل اور ایل این جی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے سنگین نتائج ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والا روزانہ 11 ملین بیرل کا سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مشترکہ تیل کی کھپت سے بھی زیادہ ہے۔ کم ہوتی طلب، خاص طور پر ایشیا میں، اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر رہی ہے۔ امریکی اور دیگر ممالک نے ریکارڈ اسٹاک آئل ریلیز کا اعلان کیا ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے، جبکہ ایران نے چند غیر ملکی جہازوں کو آبنائے ہرمز گزرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ اقدامات محدود اثر رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل کو پائپ لائن کے ذریعے متبادل راستوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے 60فی تیل خلیج سے یانبُو ایکسپورٹ ٹرمینلز تک منتقل کیا ہے۔موجودہ سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالرزفی بیرل ہیں، جو جنگ کے آغاز سے 55فی صد زیادہ ہے، مگر 2008 کے ریکارڈ 147.50 کے مقابلے میں کم ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 70فیصدبڑھ گئی ہیں، مگر 2022 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔ ایشیا میں طلب تقریباً 2 ملین بیرل فی دن کم ہو گئی ہے، خاص طور پر پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں، جبکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی کمی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ شائقین کو گھر سے میچ دیکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔یورپ میں اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی قلت کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں اس سال قربانی

2026-06-03

پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جس سے8.7 ارب روپےکی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد 17 فیصد بڑھی ہے۔ اس سال 28لاکھ گائے بیلوں، 43 لاکھ بکروں، 5 لاکھ بھیڑوں اور 30 ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہونےکا امکان ہے۔ ان کھالوں سے 9 سال میں چمڑے کی صنعت منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوئی جب کہ پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار مصنوعات کا حجم 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت

2026-06-03

کراچی: ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل،

2026-06-03

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانےکا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

بجٹ 27-2026: جائیداد خرید و فروخت

2026-06-03

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026کے وفاقی بجٹ میں جائیداد کی خریدو فروخت پر عائد ٹیکس میں بڑی کمی کرنے کی تجاویز تیارکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد جب کہ غیر منقولہ جائیداد فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس معاملے پر آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس میں کمی کی تجاویز کی مخالفت کی جارہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیاں بڑھیں گی اور مجموعی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوگا جب کہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں

2026-06-03

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے اوقات کار کے مطابق اسلام آباد میں دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ریسٹورینٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے جب کہ ٹیک اوے اورڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ اس کے علاوہ شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اورٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کارکی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں

2026-06-02

ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 4 روپے 95 پیسےکا اضافہ کردیا گیا۔ اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق ایل پی جی کا 11.8 کلو گرام کا گھریلو سلینڈر 58 روپے 51 پیسے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ فی کلو ایل پی جی کی نئی قیمت 308 روپے 76 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ ایل پی جی کے 11.8کلوگرام والے گھریلو سلینڈر کی نئی قیمت 3643 روپے 41 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اوگرا کے اعلامیتے کے مطابق ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق جون کے لیے ہوگا۔

پنجاب کا آئندہ مالی سال

2026-06-02

لاہور: پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال ٹیکس وصولیاں تقریباً712 ارب روپے تک رکھےجانےکا امکان ہے، ٹیکس آمدن میں سب سے بڑا حصہ جی ایس ٹی ان سروسزکا ہوگا،جی ایس ٹی ان سروسزکی مد میں 320 ارب روپےکی آمدنی متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی سے 128 ارب روپےکی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپےکا ہدف رکھے جانےکا امکان ہے جب کہ سیلز ٹیکس سے 82 ارب اور موٹر وہیکل ٹیکس سے47 ارب روپےکی آمدن متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹیز سے 35.2 ارب، لینڈ ریونیو سے1.7ارب روپے آمدن متوقع ہے جب کہ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے لیے 550 ارب روپے سے زائد مختص کرنےکی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کسانوں، طلبہ اور مزدوروں کے لیے سبسڈی پروگرام جاری رکھنےکی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ کسانوں کے لیےٹریکٹر، سولرٹیوب ویل، سستے بیج اورکھاد کے قرضے پر سبسڈی دی جائے گی۔ ذرائع محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ طلبہ کےلیےہونہاراسکالر شپ، الیکٹرک بائیک اسکیم جاری رہےگی، جنوبی پنجاب کےترقیاتی منصوبوں کے لیے کم از کم 35 فیصد ترقیاتی فنڈز مختص رکھنے کی پالیسی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

نجکاری کو 6 ماہ گزرگئے،

2026-06-02

قومی ائیرلائن کی نجکاری کے 6 ماہ بعد بھی پی آئی اے کا انتظام خریدارکنسورشیم کو منتقل نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق قومی ائیرلائن کا کنٹرول25 مئی کو خریدارکنسوریشم کو دینا تھا تاہم اب جون کے آخر تک قومی ائیرلائن کا کنٹرول کنسوریشم کو دینے کا منصوبہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ائیرلائن کا کنٹرول کنسورشیم کونہ دینے کی وجہ مختلف این او سیزکا اجرا نہ ہونا ہے، این او سی بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے جب کہ کنسورشیم نے این او سی ملنے کے بعد 85 ارب روپے نجکاری کمیشن کے پاس جمع کروانے تھے۔ اس حوالے سے ترجمان نجکاری کمیشن کا کہنا ہےکہ مقامی اور بیرونی این او سی حاصل کرنے کا کام جاری ہے، مجموعی طورپر40 سے زیادہ این او سی لیے جانے تھے، زیادہ تر این او سی حاصل ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ اگلے چند روزمیں تمام این او سی جاری ہوجائیں گے، کنسورشیم نے یقین دہانی کروادی ہے، جیسے ہی این او سی مکمل ہوں گے 83 ارب کی رقم مل جائے گی، جون کے آخرتک قومی ائیرلائن کا انتظام خریدار کنسورشیم کو منتقل ہوجائے گا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے باعث

2026-06-02

اسلام آباد: آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ملکی ترقیاتی بجٹ متاثر؛ فنڈز کے استعمال میں بڑی کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی سخت پابندیوں کے باعث ترقیاتی بجٹ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، کیونکہ اب تک ترقیاتی فنڈز کے لیے مختص ایک ہزار ارب روپے میں سے صرف 528ارب روپے ہی استعمال کیے جا سکے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت پیر کے روز اینوئل پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے سامنے پیش کیے جانے والے ورکنگ پیپر کے مطابق حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں 1000 ارب روپے مختص کیے تھے، جس میں سے وزارتوں، ڈویژنوں اور انتظامی اداروں نے جولائی 2025 سے 25مئی 2026تک 528ارب روپے استعمال کیے۔ سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتےہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، سرمایہ کاری جی ڈی پی کی 2.6 فیصد سےکم ہو کر 0.6 فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ہزار ارب کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام ہورہا ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل کرنےکےلیے 10 ہزار ارب درکار ہیں جب کہ مالی سال 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میں مسلسل کمی ہورہی ہے، ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے امیر ہوگئے ہیں کیونکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ بڑھا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ آئندہ مالی سال کےلیے وزارتوں نے منصوبوں کے لیے 3 ہزار ارب روپے مانگے تھے تاہم وفاقی ترقیاتی پروگرام 2018 کی ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر کھڑا ہے، اس صورتحال میں صرف منتخب منصوبوں پر کام کیا جا سکے گا۔

امریکا ایران محدود جھڑپیں

2026-06-02

اسلام آباد: امریکا اور ایران کی محدود فوجی جھڑپوں کے باعث عالمی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ عالمی مالیاتی نظام اس وقت شدید اتار چڑھاؤ کی زد میں آیا جب توانائی کی قیمتیں بتانے والے لائیو ٹکرز گہرے سرخ رنگ میں بدل گئے، یہ صورتحال تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ٹارگٹڈ فوجی جھڑپوں پر کموڈٹی ٹریڈرز کے شدید اور فوری ردعمل کو ظاہر کرتی ہے۔ ریئل ٹائم اسپاٹ مارکیٹ گزشتہ ہفتے کی محتاط امید پرستی سے مکمل طور پر لاتعلق ہو گئی۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے شدید دباؤ کے دوران، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے معیار برینٹ کروڈ میں 6.71 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 97.23 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، یہ قیمت 100 ڈالر کی نفسیاتی حد کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ امریکی مارکیٹ میں خوف و ہراس کے باعث ہونے والی خریداری اس سے بھی زیادہ نمایاں تھی، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 7.80 فیصد کا انتہائی تیز اضافہ دیکھا گیا، اس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 6.81 ڈالر بڑھ کر 94.17 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سے باہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کے راستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔