منافع کے فارمولے پر نظرثانی کے

2026-05-01
اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں ایک بڑا تضاد مقامی ریفائنریز کیلئے غیر معمولی (وِنڈ فال) منافع اور صارفین پر مسلسل مالی بوجھ کا سبب بن رہا ہے، حالانکہ حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں قیمتوں کے فارمولے میں نظرِ ثانی کی تھی۔ تیل کی صنعت کے ذرائع کی جانب سے مارچ اور اپریل 2026 کے سرکاری قیمتوں کے اعداد و شمار کے تفصیلی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں اور خام تیل کے بینچ مارکس کے درمیان وسیع فرق نے حکومت کی جانب سے فارمولے میں تبدیلی کے باوجود ریفائنریز کو غیر معمولی منافع کمانے کا موقع دیا، جس سے ریگولیٹری مداخلت کے موثر اور بروقت ہونے پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستان میں قیمتوں کے نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کو امپورٹ پیریٹی پرائسنگ (IPP) کے ذریعے بین الاقوامی بینچ مارکس سے منسلک کیا جاتا ہے۔ ریفائنریز کو انہی بینچ مارکس کی بنیاد پر ایکس ریفائنری قیمتیں ملتی ہیں، جن میں ڈیَمڈ ڈیوٹی کے ذریعے مارجن کا تحفظ بھی شامل ہوتا ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ٹیکسز اور ترسیلی اخراجات شامل کر کے ریٹیل قیمتیں طے کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ریفائنریز کی آمدنی کا بنیادی انحصار ’’کریک اسپریڈ‘‘ (Crack Spread) یعنی خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق پر ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق عام طور پر ایک مستحکم نمونے پر چلتا ہے، لیکن مارچ میں اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس سے قیمتوں میں بڑی سطح پر بگاڑ پیدا ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2026 میں Platts کے مطابق ڈیزل کی اوسط قیمت 193.96 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ عرب لائٹ خام تیل کی قیمت 108.45 ڈالر فی بیرل تھی، جو تقریباً 180 فیصد کا تناسب بنتا ہے۔ تاریخی لحاظ سے کریک اسپریڈ کو دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت تقریباً 124.72 ڈالر فی بیرل ہونا چاہیے تھی، لیکن اضافی مارجن اوسطاً 69.24 ڈالر فی بیرل رہا، جو ایکس ریفائنری سطح پر تقریباً 121.51 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فرق 30 مارچ کو عروج پر پہنچ گیا جب ڈیزل کی قیمت 250.63 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ خام تیل 113.69 ڈالر فی بیرل تھا، جس سے فرق تقریباً 220 فیصد تک جا پہنچا۔ ڈیزل کی مقامی پیداوار چار لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ ہونے کے باعث اندازہ ہے کہ ریفائنریز نے صرف مارچ میں تقریباً 60 ارب روپے کا اضافی منافع کمایا، جس میں سے تقریباً 25؍ ارب روپے ماہ کے آخری ہفتے میں حاصل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق، ابتدائی متعدد انتباہ کے باوجود حکومت بروقت اقدام نہ کر سکی۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں یہ فرق مارچ کے آغاز میں ہی درست کیا جانا چاہئے تھا، لیکن پورا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا اور ریفائنریز کو غیر معمولی منافع کمانے کا موقع دیا گیا۔ جب تنقید بڑھ گئی تو حکومت نے اپریل میں تین ماہ کیلئے عارضی طور پر کاسٹ پلس (Cost-Plus) پرائسنگ فارمولہ متعارف کرایا، جس میں امپورٹ پیریٹی ماڈل کی جگہ ڈیزل قیمت کا تعین دبئی خام تیل کے ساتھ 52.89 ڈالر کے مقررہ کریک اسپریڈ پر کیا گیا، جس میں پریمیم اور فریٹ شامل ہیں۔ اگرچہ نظرِ ثانی شدہ فارمولہ کم کریک اسپریڈ کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم ریگولیٹر اعلیٰ حد کو ترجیح دیتا ہے جس سے ریفائنریز کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق نئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی سے فرق میں کچھ کمی آئی، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اپریل میں ڈیزل کی اوسط قیمت 189.27 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ عرب لائٹ خام تیل 115.06 ڈالر فی بیرل تھا، یعنی تقریباً 164فیصد کا فرق۔ تاریخی لحاظ سے کریک اسپریڈ کو دیکھیں تو ڈیزل کی قیمت 132.32 ڈالر فی بیرل ہونا چاہئے تھی، جس سے 56.95 ڈالر فی بیرل یا تقریباً 100 روپے فی لیٹر اضافی مارجن برقرار رہا۔ نظرثانی شدہ فارمولے کے تحت ڈیزل کی اوسط قیمت 277.10 روپے فی لیٹر رہی، جو سابقہ نظام کے تحت 332.16؍ روپے فی لیٹر کے مقابلے میں کم تھی، لیکن خام تیل پر مبنی 232.22؍ روپے فی لیٹر کی سطح سے اب بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرِ ثانی کے بعد بھی ڈیزل تقریباً 30 روپے فی لیٹر مہنگا رہا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکام کو اپریل کے آغاز میں اس تضاد سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن ’’میڈیا میں معاملہ سامنے آنے تک اسے نظر انداز کیا گیا‘‘، جس کے بعد فارمولہ تبدیل کیا گیا۔ تاہم، تبدیلی کے بعد بھی خدشات برقرار ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق، قیمتوں میں فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور ریفائنریز کو اب بھی اضافی مارجن دیا جا رہا ہے۔ مالیاتی نتائج بھی ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ چار ریفائنریز نے جنوری تا مارچ سہ ماہی میں مجموعی طور پر 72.2 ارب روپے منافع رپورٹ کیا، جو اس سے قبل کے چھ ماہ میں 27.3 ارب روپے تھا۔ ان آمدنیوں کا بڑا حصہ مارچ میں ڈیزل کے بلند مارجن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں پارکو شامل نہیں، جو لسٹڈ کمپنی نہیں ہے۔ دریں اثناء مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، جو صارفین پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصلاحی اقدام کو ماضی سے لاگو کیا جانا چاہئے تھا۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ نظرِ ثانی شدہ فارمولہ 26 مارچ سے نافذ ہونا چاہیے تھا اور اس کے بعد حاصل ہونے والے اضافی منافع کی ریکوری ہونا چاہئے تھی۔ اس کے برعکس ذرائع کے مطابق، بوجھ بدستور صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ ذریعے کے مطابق، اضافی منافع کی ریکوری کی بجائے حکومت نے قیمتوں میں 27 روپے بڑھا دیے۔ تمام تر پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے نظام پر دوبارہ نظرثانی کا امکان ہے، جبکہ یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مقامی ایندھن کی قیمتوں کو خام تیل کے بینچ مارکس سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ریفائنریز کا غیر معمولی منافع کو روکا جائے۔
پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب گامزن ہے، وزیر خزانہ
2026-09-18
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان استحکام سے سرمایہ کاری اور خودمختار بحالی سے وسیع تر سرمایہ تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لندن میں جے پی مورگن کی ایمرجنگ اینڈ فرنٹیئر مارکیٹس مواقع کانفرنس میں منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کو درپیش بیرونی معاشی دباؤ، میکرو اکنامک استحکام اور مستقبل کی معاشی حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے میکرو اکنامک استحکام کے حصول میں پاکستان کی پیش رفت اور سرمایہ کاری، سرمایہ تشکیل، برآمدات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب حکومت کی ترجیحات پر روشنی ڈالی جب کہ کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے معروف عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بڑے منی مینیجرز کی جانب سے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ مجموعی طور پر 55 عالمی سرمایہ کاری فنڈز نے پاکستانی وفد کے ساتھ متعدد ون آن ون ملاقاتوں اور ایک مکمل سرمایہ کار سیشن میں شرکت کی۔ جہاں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے پیش نظر تمام ملاقاتیں ایک ہی روز میں منعقد کی گئیں ، جن میں پاکستان کی مستقبل کی معاشی سمت، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری معاشی تبدیلی کے پائیدار ہونے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد تک بحال ہوئی۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوا، جو کئی برسوں کی کم ترین سطح ہے۔ ملک نے مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، ذخائر میں ہونے والے اضافے کے معیار، ترسیلاتِ زر میں بڑھتے ہوئے رجحان اور بیرونی شعبے کے بنیادی اشاریوں میں بہتری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آنے والی رقوم کے بڑھتے ہوئے کردار، بیرونی شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں مضبوطی کو بھی اجاگر کیا۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے میکرو اکنامک استحکام میں بہتری آئی ہے اور پائیدار ترقی و سرمایہ کاری کے لیے بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اب مقصد یہ ہے کہ معاشی استحکام کو پائیدار بنایا جائے اور اسے ترقی کے ایک ایسے مختلف ماڈل کی بنیاد بنایا جائے جو قلیل مدتی کھپت پر مبنی توسیع کے بجائے تیزی سے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور نجی شعبے کی سرگرمیوں سے تقویت حاصل کرے۔ پاکستان کے خودمختار قرضوں کی پوزیشن میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فعال قرض انتظام کے ذریعے ملکی قرضوں کی مدت میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی کی ہے۔ مالیاتی استحکام کے ساتھ یہ اقدامات مجموعی خودمختار مالیاتی پوزیشن کو مضبوط بنا رہے ہیں اور پاکستان کے معاشی مستقبل پر اعتماد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متنوع مالیاتی ذرائع اور سرمایہ کاروں کے مختلف طبقات کے ذریعے عالمی کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے پہلے ایوارڈ یافتہ پانڈا بانڈ اور اس کے بعد ریکارڈ 3 ارب امریکی ڈالر کی دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ ٹرانزیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں اجراء میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور طلب سامنے آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقصد محض فنانسنگ حاصل کرنا نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ تک مستقل رسائی برقرار رکھنا، سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، قرضوں کی مدت میں اضافہ اور بتدریج بہتر شرائط پر فنانسنگ حاصل کرنا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں وسیع تر سرمایہ تشکیل کے نمایاں امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایکویٹی اور کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹس کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسیع کرنے، آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں اضافہ اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کی زیادہ شمولیت کے ساتھ اسلامی فنانس اور صکوک مارکیٹس کی ترقی طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ذرائع کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے نجی سرمایے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے اور تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کے کردار کو محدود کرنے کے لیے جاری اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کو ریاست کے کردار کی وسیع تر تنظیمِ نو کے حصے کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں پی آئی اے، ڈسکوز، مالیاتی اداروں، دیگر سرکاری اداروں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز کے شعبوں میں پیش رفت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک بھی تشکیل دے رہی ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی سرمائے کو کاروباری اداروں اور منصوبوں کی جانب راغب کرنا اور پرائیویٹ ایکویٹی و وینچر کیپیٹل کے لیے سازگار ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں بھی مالی وسائل تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ میکرو اکنامک استحکام کو زیادہ سے زیادہ قرضوں، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے اگلے مرحلے کی مالی ضروریات صرف سرکاری بیلنس شیٹس سے پوری نہیں کی جا سکتیں، لہٰذا نجی سرمایے کو مستقبل میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی بڑی داخلی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سرمایہ کاری کی کشش اصلاحات اور بڑے پیمانے پر موجود معاشی مواقع کے امتزاج پر مبنی ہے۔ ٹیکس انتظامیہ، ٹیرف میں معقولیت، توانائی، سرکاری اداروں اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا مقصد پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور معیشت کو برآمدات، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، معدنیات، زراعت اور ویلیو ایڈڈ خدمات کی جانب منتقل کرنا ہے۔ بیرونی معاشی روابط کے حوالے سے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان روایتی طور پر امداد پر انحصار سے آگے بڑھتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء اور خدمات کی تجارت کو مزید فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعلقات کے ذریعے طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی معیشت کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بالخصوص بلاک چین اور ویب 3.0 سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور تیزی سے پھیلتا ہوا ڈیجیٹل ایکو سسٹم عالمی معیشت کے نئے شعبوں میں مؤثر شرکت اور سرمایہ کاری و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری کی کہانی اب صرف فوری معاشی دباؤ پر قابو پانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں اصلاحات اور معاشی ری ریٹنگ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کے استحکام اور اصلاحاتی عمل کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملکی و بین الاقوامی نجی سرمائے کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ جے پی مورگن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کنٹری ہیڈ امین خواجہ بھی ملاقاتوں کے دوران موجود تھے۔ اس موقع پر حکومت کی معاشی سمت واضح کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے 6 اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی، جن میں میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا اور مالیاتی و بیرونی معاشی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط کرنا، استحکام سے پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت، ساختی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا، امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، عوام اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے مالی وسائل تک رسائی میں توسیع اور ڈیجیٹلائزیشن، بلاک چین اور ویب 3.0 سمیت نئی معیشت کے لیے پاکستان کو مؤثر طور پر تیار کرنا شامل ہیں۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران پاکستان کی بنیادی ترجیح میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور معاشی ساکھ کی تعمیر نو تھی۔ مالیاتی استحکام، بیرونی شعبے کے استحکام، مہنگائی، قرضوں کے انتظام اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچنے پر اظہارِ تشکر، تاریخی سنگِ میل قرار دے دیا
2026-09-18
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسے معاشی استحکام کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل قرار دے دیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا معاشی ٹیم کی دن رات محنت اور درست سمت میں کیے گئے اقدامات کا ثبوت ہے۔ ترسیلاتِ زر اور سروسز کی برآمدات میں نمایاں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورتحال اور مالیاتی نظم و ضبط نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک پاکستان کی دوبارہ کامیاب رسائی بھی ملکی معیشت پر عالمی اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ نہ صرف ملکی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا بلکہ عالمی معاشی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہماری استعداد بھی کئی گنا بڑھائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مستحکم معاشی پوزیشن ملک میں بیرونی اعتماد، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے گی۔ انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گورنر اسٹیٹ بینک، حکومت کی معاشی ٹیم اور بالخصوص بیرون ملک پاکستانی عوام کو اس اہم کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا تھا کہ یورو بانڈز کے انفلوز کی آمد کے بعد زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 26 ارب 79 کروڑ سے تجاوز کرگئے ہیں جبکہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
وزیراعظم ٹاسک فورس کی اصلاحات کے تحت کے پی ٹی اور پِپری ریلوے لنک کی بحالی
2026-09-18
وزیراعظم ٹاسک فورس کی جانب سے اصلاحات کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پِپری ریلوے لنک کی بحالی جاری ہے۔ وزیراعظم ٹاسک فورس کی اصلاحات کے تحت ریلوے اور بندرگاہی انفرا اسٹرکچر بہتر بنا کر کارگو ترسیل مؤثر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پِپری ریلوے لنک کی بحالی کے منصوبے کے تحت 52 کلومیٹر طویل مخصوص ڈوئل ٹریک ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت 25 بڑے ریلوے و سڑکوں کے پل اور 6 فلائی اوورز و گریڈ سیپریٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے میں 100 فیصد محیطی باڑ اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ جدید مرکزی خودکار سگنلنگ نظام بھی شامل ہے۔ 1.5 کلومیٹر مخصوص ریلوے لنک کے ذریعے لاجسٹکس پارک کو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سے منسلک کیا جائے گا۔ بندرگاہوں سے کنٹینرز ریلوے کے ذریعے لاجسٹکس پارک لا کر ٹریلرز سے اپ کنٹری بھیجے جائیں گے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری
2026-09-18
سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت چھوٹے کاروباری افراد ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے 30 لاکھ روپے تک فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔ ایس ای سی پی کے مطابق شامل کار تاجرایپ کے ذریعے منظور شدہ سپلائرز سے کاروباری سامان خریدنے کے لیے فنانسنگ حاصل کی جا سکے گی، جبکہ نئی ڈیجیٹل فنانسنگ سہولت سے چھوٹے کاروباروں کو باضابطہ کریڈٹ نظام تک رسائی ملے گی۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن کے ذریعے فنانسنگ سے محروم کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی ممکن بنائیں گے اور ڈیجیٹل فنانسنگ بڑھانے کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران نان بینکنگ کمپنیوں نے چھوٹے کاروباروں کو 253 ارب روپے کے قرض فراہم کیے، جبکہ ایک سال کے دوران 25 لاکھ افراد کو چھوٹے کاروباروں کے لیے فنانسنگ فراہم کی گئی ہے
ایگرو پروسیسرز اینڈ ایٹموسفیرک گیسز لمیٹڈ کی پی ایس ایکس میں فہرست سازی
2026-09-15
ایگرو پروسیسرز اینڈ ایٹموسفیرک گیسز لمیٹڈ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست سازی کی تقریب ہوئی، جس سے ڈائریکٹر پی ایس ایکس احمد چنائے نے خطاب کیا۔ احمد چنائے نے کہا کہ ایگرو پروسیسرز پاکستان میں ایک معروف نام ہے اور آج اسٹاک ایکسچینج کی فہرست میں ایک نیا نام شامل ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایگرو پروسیسرز کی جانب سے 5 کروڑ 80 لاکھ 50 ہزار عام حصص پیش کیے گئے، جو کمپنی کے آئی پی او کے بعد ادا شدہ سرمائے کا 15 فیصد ہیں۔ ایگرو پروسیسرز کے حصص کی قیمت 33 روپے فی حصص مقرر کی گئی ہے۔ احمد چنائے نے کہا کہ رواں کیلنڈر سال میں یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی 12ویں فہرست سازی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ اگست میں 24 ہزار 788 نئے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھولے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھول کر آئی پی اوز میں حصہ لے رہے ہیں اور بیرون ملک سے بھی نئے سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہورہے ہیں۔ سرمایہ کاروں میں آگاہی کے لیے 150 سے زائد نشستیں منعقد کی گئیں، جبکہ یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بھی سرمایہ کاری سے متعلق آگاہی بڑھائی جارہی ہے۔ خواتین کو اسٹاک مارکیٹ میں شامل کرنے کے لیے ’’شی انویسٹ‘‘ سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ احمد چنائے نے کہا کہ ایگرو پروسیسرز نے اسٹاک ایکسچینج میں فہرست سازی کے لیے موزوں وقت کا انتخاب کیا۔ تقریب سے اے پی اے جی کے چیف ایگزیکٹو احمد عزیز غلام نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کی فہرست سازی اور گونگ بجانا میرے لیے خواب تھا، کمپنی کو اسٹاک میں فہرست ہوتے دیکھنا میرے لیے اوسکر سے بڑا اعزاز ہے۔ احمد عزیز غلام نے کہا کہ اے پی اے جی چار دہائیوں پرانی کمپنی ہے، ہمارا مقصد کمپنی کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔ مصنوعات عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے لیے مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ملک، اپنی کمپنی اور اپنی ٹیم پر اعتماد ہے۔ اپنی مصنوعات کے معیار اور وسائل کو عالمی سطح پر توسیع کے لیے استعمال کریں گے۔ احمد عزیز غلام کا کہنا تھا کہ اے پی اے جی صارفین کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے سے اسٹاک ایکسچینج میں نئے اکاؤنٹس کی تعداد بڑھے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ
2026-09-15
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے 15 ستمبر کیلیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کردیا جس کا اطلاق رات 12 بجے سے کل کیلیے ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 380 روپے 24 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 409 روپے 42 پیسے کی سطح پر آگئی۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے ریٹ کے تناسب سے کیا جاتا ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی بیرل کی قیمت گزشتہ روز مزید بڑھی ہے۔
ٹریڈ فسیلی ٹیشن بورڈ کا قیام، برآمدات کیلیے اہم پیش رفت
2026-09-14
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے وزیراعظم کی سربراہی میں ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کا فیصلہ پاکستان میں برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کیلیے اہم قدم قراردیا گیا ہے۔ بورڈسے توقع ہے کہ وہ سرحد پار تجارت سے متعلق ریگولیٹری مسائل کے حل، تجارتی سپلائی چین میں بہتری اور اصلاحات پر پیش رفت کی نگرانی کیلیے مؤثر نظام وضع کرے گا۔ پاکستان دنیاکی کم تجارت کرنیوالی معیشتوں میں شامل ہے، جہاں اشیا اور خدمات کی تجارت مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 27 فیصد ہے،جبکہ عالمی اوسط 56 فیصد سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق برآمدی ترقی کے ماڈل کو کامیاب بنانے کیلیے پاکستان کو عالمی معیشت کے ساتھ اپنا انضمام نمایاں طور پر بڑھاناہوگا۔ تجارت کی راہ میں طویل عرصے سے دو بڑی پالیسی رکاوٹیں موجود رہی ہیں،جن میں ایک تحفظ پسندانہ ٹیرف نظام ہے۔ حکومت نے جون 2025 میں پانچ سالہ ٹیرف اصلاحاتی پروگرام منظورکرکے اس رکاوٹ کودورکرنے کی جانب اہم پیش رفت کی، تاہم اصلاحات کو مکمل نافذکرنے میں مختلف مفاداتی گروہوں کی جانب سے مزاحمت چیلنج ہے۔ دوسری اہم رکاوٹ سرحد پرسامان کی نقل وحرکت کی لاگت اور پیچیدگی ہے۔ ٹیرف میں کمی کے باوجوددرآمدکنندگان اوربرآمدکنندگان کو مختلف ضوابط، اداروں،معائنوں، دستاویزات اور منظوریوں کے پیچیدہ نظام کاسامناہے،جس کے باعث غیر ٹیرف اقدامات اور انتظامی رکاوٹیں تجارت کومتاثرکررہی ہیں۔ پاکستان سنگل ونڈو اور بندرگاہوں کی جدیدکاری کے ذریعے سرخ فیتے میں کمی کے باوجودکنٹینرزکے ڈویل ٹائم میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور یہ اب بھی تقریباً 10روز ہے، بھارت میں کنٹینرڈویل ٹائم 6 روز سے کم ہوکر 2 روز اورکینیامیں 6 سے 3 روز تک آچکاہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو تین اہم مسائل پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ پہلا مسئلہ کسٹمزکا روایتی کنٹرول پر مبنی نظام ہے۔ پاکستان میں 50 فیصدسے بھی کم کنٹینرزگرین چینل کے ذریعے کلیئر ہوتے ہیں، جبکہ جدیدکسٹمز انتظامیہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مددسے جہاز کی آمد سے قبل ہی خطرات کاجائزہ لے کر زیادہ ترکم خطرے والی کھیپ کوکم سے کم مداخلت کے ساتھ کلیئرکرتی ہے۔ عرب امارات میں مبینہ طور پر 80 فیصد سے زیادہ کھیپ کو آمدسے قبل کلیئرنس حاصل ہوجاتی ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ دوسرامسئلہ پرانے قوانین اور ضوابط کا تسلسل ہے۔ پاکستان کادعویٰ ہے کہ اس نے عالمی تجارتی تنظیم کے ٹریڈفسیلیٹیشن معاہدے کے 97 فیصدسے زیادہ وعدے پورے کردیے ہیں، تاہم عملی طور پر ان اقدامات کابڑاحصہ صرف کاغذی تعمیل تک محدوددکھائی دیتاہے۔ کسٹمزویلیوایشن کانظام بھی ایک اہم مسئلہ قراردیاگیا، نتیجتاًکسٹمز ویلیوایشن تنازعات اور مقدمات کااہم سبب بن گئی ہے،جس سے سامان کی کلیئرنس میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔ تیسرامسئلہ کلیٔرنس کے عمل میں شامل متعددسرکاری ادارے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف اداروں کو ڈیجیٹل بناناکافی نہیں، داخلی طریقہ کار اورکنٹرولزکو بھی سنگل ونڈوکے ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرناہوگا۔
بائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان
2026-09-14
اسلام آباد: وزیراعظم نے عوام کو پیٹرول کی قیمت میں ریلیف دیتے ہوئے بائیک، رکشا، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑیوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا اعلان کردیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا عوام پر بوجھ بڑھنے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر خصوصی ریلفف اسکیم کا اجرا کردیا۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو پورا احساس ہے، مشکل کی اس گھڑی میں ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ موٹرسائیکل، رکشا، چنگچی اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے خصوصی اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے، خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشا، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے والوں کے لیے پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائےگا۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ موٹر سائیکل، رکشا اور چنگچی سمیت دو پہیوں اور تین پہییوں والی سواریوں پر ماہانہ بیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف دیا جائے گا، اسی طرح چھوٹی گاڑیوں یعنی 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ تیس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں اسکا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان میں بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان، اسکا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق اس خصوصی ریلیف اسکیم کی رجسٹریشن کا اجراء آج سے کر دیا گیا ہے، جس کے طریقہ کار کو آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا، اسکیم میں رجسٹریشن کے لیے موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کی معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے تعاون پر صوبوں کے شکرگزار ہیں۔
شرح سود بڑھے گی یا برقرار رہے گی؟ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
2026-09-14
کراچی: ملک میں شرح سود کے تعین کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آج شرح سود کا جائزہ لے گی، جبکہ اگست میں افراط زر دہرے ہندسے تک بڑھنے کے بعد پالیسی ریٹ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور افراط زر کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد کمیٹی آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کرے گی۔ گزشتہ جائزوں کے دوران پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی شرح پر برقرار رکھا گیا تھا، تاہم اگست میں افراط زر دہرے ہندسے تک بڑھنے کے بعد شرح سود میں اضافے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا اضافہ، مجموعی حجم 23 ارب سے تجاوز
2026-09-11
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی حجم بڑھ کر 23 ارب 71 کروڑ 58 لاکھ ڈالر ہوگیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق غیرملکی کمرشل قرضوں کی وصولی کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، سرکاری ذخائر 18 ارب 23 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 23 ارب 71 کروڑ 58 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ مرکزی بینک کے پاس اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر 18 ارب 32 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، کمرشل بینکوں کی تحویل میں 5 ارب 38 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 4 ستمبر 2026کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ ذخائر ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 18 ارب 32 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے اضافے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں یہ اضافہ حکومت پاکستان کے کمرشل قرضوں کی وصولی کی بدولت ہوا۔
