ن لیگ کا اپوزیشن میں بیٹھنے

2026-06-13
وزیراعظم شہبازشریف نے اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔ اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں، مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں حکومت سازی کےمعاملےپرپیپلزپارٹی کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنےکا فیصلہ کیا ہے، ہمارے منتخب اراکین پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کیلئے ووٹ دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری روایات اور اقدارکومقدم رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ عزت احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے۔ وزیراعظم کی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، گورنر اور ڈپٹی اسپیکر مسلم لیگ ن کا ہوگا: بلاول دوسری جانب پی پی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وزیراعظم کے گلگت بلتستان میں حکومت سازی سے متعلق بیان پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جی بی میں اکثریت کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تسلسل ہے، وزیراعظم کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اتفاق رائے کے نتیجے میں گورنر جی بی اور ڈپٹی اسپیکر مسلم لیگ ن کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت میں تمام صلاحتیں بروئے کار لائے گی۔
تنخواہ دار طبقے کے 4 سلیبس
2026-06-13
تنخواہ دار طبقے کے 4 سلیبس پر ٹیکس میں کمی کردی گئی، آپ کی تنخواہ سے کتنا ٹیکس کٹے گا، یہ جاننے کے لیے نیچے دیا گیا انکم ٹیکس کیلکولیٹر استعمال کریں۔
کوئی کچھ بھی کہتا رہے
2026-06-13
اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہماری مشاورت یا رائےکے بغیر ہی گورنر سندھ کو تبدیل کیاگیا۔ جیو نیوزکے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیرداخلہ محسن نقوی سے خالد مقبول صدیقی کی ملاقات ہوئی جس کےاختتام پرمحسن نقوی اورخالد مقبول اکٹھےکابینہ اجلاس میں شرکت کےلیے نکلے۔ اس موقع پر صحافیوں نے خالد مقبول سے سوال کیا کہ ایم کیو ایم مطالبات اورگورنر سندھ کی تبدیلی پر وزیراعظم یا وزیرداخلہ سے بات ہوئی؟ اس پر خالد مقبول نے کہا کہ ہماری مشاورت یا رائےکے بغیر ہی گورنرکوتبدیل کیاگیا۔ صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ کے اپنے ساتھی آپ پر تحفظات کااظہار کررہے ہیں کیا مسئلہ ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے مسئلہ نہیں، اگرمیں نے کچھ فیصلہ کیا تو وہ اہم ہوگا۔
یہ بجٹ ریلیف، عوامی فلاح
2026-06-13
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور قوم کی دعاؤں سے ہم نے معاشی استحکام حاصل کیا اور معاشی استحکام کی بدولت آج ہم نے بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ بجٹ اجلاس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں پاکستان کے ہر شہری کا مشکل ترین حالات میں صبر و تحمل کے مظاہرے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا عوام نے مشکلات کا سامنا کیا، ملکی معاشی استحکام کیلئے بھرپورکردار ادا کیا، وعدہ کیا تھا معاشی استحکام حاصل ہونےکے بعد اسکے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچائیں گے، الحمدللہ، اب خوشحالی کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا مشکل دور کے بعد جس بہتری، ریلیف کا وعدہ کیا اسکا آغاز ہوچکا ہے، یہ بجٹ ریلیف کا بجٹ ہے، عوامی فلاح کا بجٹ ہے، یہ بجٹ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنےکا بجٹ ہے، یہ برآمدات میں اضافے، زرعی ترقی، صنعتوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی ترقی کا بجٹ ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ اس بجٹ کا بنیادی مقصد یہ ہےکہ معیشت کی مضبوطی کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں۔
بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں
2026-06-13
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نےکہا کہ بھارت نے پاکستان پر گزشتہ سال حملہ کیا لیکن شکست کھائی، بھارت کو اپنی شکست ہضم نہیں ہو رہی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا بھارت اب آپریشن سندور ٹو کی بات کر رہا ہے، بھارت چاہتا ہےکہ پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے کہا بھارت نے پاکستان پر گزشتہ سال حملہ کیا لیکن شکست کھائی، بھارت کو اپنی شکست ہضم نہیں ہو رہی۔ بلاول بھٹو نے بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ چیلنجز کے ماحول میں بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں، سب سے بڑا چیلنج پاکستان کی سکیورٹی کے لحاظ سے تھا۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بجٹ، جی بی انتخابات اور کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ بلاول بھٹو نےکہا ابتدائی فیصلہ تھاکہ تحفظات دور کیے جانے تک اجلاس میں شرکت مناسب نہیں، اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ نے بجٹ اجلاس میں شرکت کی درخواست کی، اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ تحفظات فوری دور کیے جائیں گے۔
ن لیگ کا اپوزیشن میں بیٹھنے
2026-06-13
وزیراعظم شہبازشریف نے اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔ اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں، مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں حکومت سازی کےمعاملےپرپیپلزپارٹی کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنےکا فیصلہ کیا ہے، ہمارے منتخب اراکین پیپلزپارٹی کو حکومت بنانے کیلئے ووٹ دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری روایات اور اقدارکومقدم رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ عزت احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے۔ وزیراعظم کی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، گورنر اور ڈپٹی اسپیکر مسلم لیگ ن کا ہوگا: بلاول دوسری جانب پی پی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے بیان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وزیراعظم کے گلگت بلتستان میں حکومت سازی سے متعلق بیان پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جی بی میں اکثریت کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تسلسل ہے، وزیراعظم کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اتفاق رائے کے نتیجے میں گورنر جی بی اور ڈپٹی اسپیکر مسلم لیگ ن کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت میں تمام صلاحتیں بروئے کار لائے گی۔
ایران امریکا امن معاہدے کے متن
2026-06-13
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایران امریکا امن معاہدے کے متن پر متفقہ حتمی فیصلہ طے پاگیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی غلط معلومات کی مہم سے آگاہ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیےفریقین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، امن اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کے متن پر حتمی اتفاق طے پا گیا۔
ایران جنگ کے آغاز سے اب تک
2026-06-12
ایران جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش سے 150کے قریب ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ عرب میڈیا کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کمبوڈیا میں ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمبوڈیا میں فروری میں پیٹرول کی قیمت 1.11 ڈالر تھی جوکہ مارچ میں 67.81 فیصد اضافے سے 1.32 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے میں پاکستان کا نمبر چھٹا ہے۔ پاکستان میں فروری میں قیمتیں 0.92 فیصد تھی جب کے مارچ میں یہ 24.49 فیصد کے اضافے سے 1.15 ڈالر ہوگئی۔
اپوزیشن جماعتوں کا بجٹ سیشن
2026-06-12
اپوزیشن جماعتوں نےکل بجٹ سیشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں راجہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اجلاس میں کل ہونے والے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا جائےگا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی رہائی کا مطالبہ ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور ملاقات نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ آج اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے بھی کہا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود 34 ہفتے سے ملاقات نہیں کرائی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی اس متعلق رولنگ جاری کریں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا اگر بانی اس ایوان کے رکن ہوتے تو پروڈکشن آرڈر جاری کردیتے، 3 بار حکومت اپوزیشن کو ایک میز پر بٹھایا مگر آپ لوگ نہیں آتے۔ میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا یہ عوام دوست بجٹ نہیں ہوگا، پہلے ہی مہنگائی زیادہ ہے ، عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، وزیراعظم کا بھی کام ہے پارلیمنٹ آئيں لوگوں کی باتیں سنیں اور جواب دیں، یہ اگر حقیقی جمہوری حکومت ہوتی تو پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کرتی۔
ناراض ارکان سے رابطہ نہ کریں
2026-06-12
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ناراض ارکان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل روکنےکا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی اعلامیہ کے مطابق تحریک انصاف خیبر پختونخوا نے پارلیمانی کمیٹی کو نئی ہدایت جاری کردی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو کہا گیا ہےکہ ناراض ارکان سے رابطہ نہ کریں، پارٹی معاملات میڈیا پر اٹھانے والے اور قیادت پر دباؤ ڈالنے والے پارٹی ارکان سے رابطہ نہ کیا جائے، جن ارکان اسمبلی کو کوئی شکایات یا مسائل درپیش ہیں انہیں سنا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پارٹی اعلامیہ کو پارٹی کے اندر ڈکٹیٹر شپ قرار دے دیا۔ علی امین کا پارٹی کے پارلیمانی واٹس ایپ گروپ میں آڈیو مسیج جیونیوز کو موصول ہوا ہے جس میں علی امین کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ان کے دور میں بھی پارٹی کے صوبائی صدور نے ان کی حکومت کے خلاف باتیں کی، پارٹی سے اختلاف رکھنے والے اراکین کو اعلامیہ کے ذریعے دھمکیاں نہ دی جائیں، ماضی میں ایسی باتوں پر کبھی اعلامیے جاری نہيں ہوئے۔ علی امین کا کہنا تھا کہ وہ مفت مشورہ دے رہے ہیں کہ ناراض اراکین کے تحفظات دور کیے جائيں، ڈکٹیٹر شپ والا رویہ معاملات مزید خراب کرےگا۔ دوسری جانب مشتاق غنی کا بھی کہنا ہےکہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہيں کی صرف یہ جرم کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا نام لیا۔ ادریس خٹک نے بھی کہا کہ نوٹیفکیشن سے نظر آرہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے، پارٹی کےقائدین نہیں چاہتےکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائیں، جو بھی بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائےگا، اس کا یہی انجام ہوگا، کبھی نوٹس ملیں گے،کھبی پارٹی سے باہر نکالنے کی دھمکیاں ملیں گی۔ ادریس خٹک کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی بانی پی ٹی آئی کی ہے، صرف ایک بانی پی ٹی آئی کو ہی جانتے ہیں، باقی کوئی بانی پی ٹی آئی بننےکی کوشش نہ کریں، ہم بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے، یہ جرم بار بارکرتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا
2026-06-12
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پارٹی اعلامیہ کو پارٹی کے اندر ڈکٹیٹر شپ قرار دے دیا ۔ علی امین کا پارٹی کے پارلیمانی واٹس ایپ گروپ میں آڈیو میسج جیو نیوز کو موصول ہوگیا جس میں علی امین کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ان کے دور میں بھی پارٹی کے صوبائی صدور نے ان کی حکومت کے خلاف باتیں کیں۔ آڈیو میسج میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پارٹی سے اختلاف رکھنے والے ارکان کو اعلامیے کے ذریعے دھمکیاں نہ دی جائیں، ماضي میں ایسی باتوں پر کبھی اعلامیے جاری نہيں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مفت مشورہ دے رہے ہیں کہ ناراض ارکان کے تحفظات دور کیے جائيں ، ڈکٹیٹر شپ والا رویہ معاملات مزید خراب کرے گا۔ دوسری جانب مشتاق غنی کا بھی کہنا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہيں کی صرف یہ جرم کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا نام لیا۔ ادریس خٹک نے کہا کہ نوٹی فکیشن سے نظر آ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ناراض ارکان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل روکنےکا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
