یوکرین کیلئے 7 کروڑ یورو کا ناقص اسلحہ اسکینڈل، ایسٹونیا کے وزیر دفاع مستعفی    space    ایران پر امریکا کا معاشی شکنجہ مزید سخت، یورپی یونین بھی مہم میں شامل ہوگئی    space    لاہور کا آرمی میوزیم دفاعِ وطن کی مکمل تاریخ کا عکاس    space    یوم دفاع وشہدا؛ پاک فوج،ایف سی اور کے پی پولیس ملک وقوم کی حفاظت کیلیے پُرعزم    space    وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے امیدوار اولارا اوتونو کی ملاقات    space    2ماہ میں تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر ہوگیا    space    پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، متنوع اقسام اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ    space   

سینیٹ میں پمز سانحے پر شدید بحث، ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور


2026-08-28

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں پمز سانحے پر شدید بحث سامنے آئی، جس میں واقعے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا، جبکہ ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور کی گئی۔ سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ آفیسر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے معمول کی کارروائی معطل کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر سینیٹر شیری رحمان نے تحریک پیش کی۔ بعد ازاں سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کردی اور پمز سانحہ پر بحث شروع کردی۔ سینیٹ میں سانحہ پمز پر بحث کے لیے وقفہ سوالات بھی معطل کردیا گیا، جس کی تحریک شیری رحمان نے پیش کی۔ اجلاس میں حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2026 واپس لے لیا۔ بل واپس لینے کی تحریک وزیر آئی ٹی کی جگہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے پیش کی۔ سینیٹر علی ظفر نے پمز واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے واقعے کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی ذمہ داری ہر اس شخص پر ہے جو بجٹ پاس کرنے میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے بجٹ پر کٹ کا غریب آدمی کی صحت پر اثر پڑنے کی نشاندہی کی تھی۔ سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ معاملے پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے۔ کمیٹی میں 50 فیصد حکومتی اور 50 فیصد اپوزیشن ارکان ہونے چاہییں، جبکہ کمیٹی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ایس او پیز بنائے۔ علی ظفر نے کہا کہ کمیٹی کو اختیار دیا جائے کہ کسی بھی ادارے کو اپنی مدد کے لیے بلا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے اظہار خیال کرتے ہوئے سی ایم ایچ کے نظام کو پمز میں بھی فالو کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ میں سپاہی سے جنرل تک کا علاج ہوتا ہے اور وہاں ایسے واقعات کی کبھی شکایات نہیں آئیں۔ انہوں نے پمز سانحہ کو بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا المیہ نہیں تھا، ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ روز المیہ ہوتا ہے، لوگ روتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں، ایسے المیے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں بھی بنتی ہیں، تحقیقات بھی ہوتی ہیں اور سزا جزا بھی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ پرویز رشید نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ سرکاری تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلخانہ کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا۔ سرکار سے تنخواہ لینے والوں کے نجی اسپتال سے علاج پر پابندی لگائی جائے۔ ایسا قانون بنادیا جائے تو دنوں میں اسپتال عالمی معیار کے ہوجائیں گے۔ انہوں نے سرکار سے تنخواہ لینے والوں پر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی پابندی اور ان کے بچوں کو سرکاری اسکولز میں لازمی داخل کرنے کا قانون بنانے کی تجویز بھی دی۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے پمز سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 ہزار ارب روپے کا قومی بجٹ تھا لیکن پمز نہیں چلا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 صوبے نہیں چلا سکتے، 25 بنا دیے تو کیا حشر ہوگا؟ سینیٹ میں پمز سانحہ پر بحث کے دوران فلک ناز چترالی نے کہا کہ وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے دن پمز گئیں تو سیکیورٹی گارڈز نے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ فلک ناز چترالی نے کہا کہ بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دیے گئے اور کہا گیا کہ کسی کو بتانا نہیں اور یہاں سے چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو اسپتال سنبھالے نہیں جاتے اور یہ اچھل اچھل کر کہتے ہیں کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ فلک ناز چترالی نے وزیر صحت اور حکومت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر بانی پی ٹی آئی کو اسی اسپتال لے جایا گیا تھا۔ یہ جال بانی پی ٹی آئی کے لیے بچھایا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی کو پمز لانا سیکیورٹی رسک ہے۔ فلک ناز چترالی کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے ارکان اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے احتجاج کیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پہلے طے کرلیں کہ سیاست پر بات کرنی ہے یا پمز واقعے پر۔ انہوں نے کہا کہ پمز واقعے پر بات کے بجائے آخر میں یہ چور کو لے آئے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سب سے زیادہ عوام کا خادم وزیر ہوتا ہے، ہم عوام کے نوکر ہیں اور عوام شہنشاہیوں سے تھک چکے ہیں۔ عوام کہتے ہیں ہمیں سہولت چاہیے ، لوگ ایوانوں سے لوگ ناامید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سانحے پر تحقیقات کیلئے ہاؤس کمیٹی کا مطالبہ کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ جو کمیٹیاں بنی ہیں، ہمیں ان پر کوئی اعتماد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات نہ ہوئیں تو استعفے مانگیں گےان کا کہنا تھا کہ 14 بچوں کی مائیں رو رہی ہیں ۔ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے۔ ہر اسپتال میں عملہ صبح 6 بجے موجود ہوتا ہے، مگر وہاں عملہ نہیں تھا۔ پتہ کریں عملہ کہاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساری زندگی اے سی میں بیٹھتے ہیں، کسی نے اے سی میں چنگاری دیکھی ہے، سسٹم کام ہی نہیں کررہے۔ شیری رحمان نے سوال کیا کہ جولائی میں ہوسٹل میں آگ لگی تھی، بتایا جائے اس کا کیا بنا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات نہ ہوئی تو وہ یہ ایوان نہیں چلنے دیں گی۔ سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس سے مختلف ہیں ۔ وہاں کی انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کررہی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ صرف سیکیورٹی کو الزام دینے سے کام نہیں چلے گا۔ سی ڈی اے نے جو فائر سیفٹی انتظامات کا کہا تھا، وہ کیوں نہیں ہوئے؟ بتایا جائے ہنگامی راستے کیوں بند تھے۔ انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی بنانے اور اسے 40 دن کا وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے جو شاہد خان کی قیادت میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری کمیٹی وزیراعظم نے ڈاکٹر کیانی کی سربراہی میں بنائی ہے۔ حکومت سانحے پر رنجیدہ بھی ہے اور سنجیدہ بھی ہے۔ مولانا عطاء الرحمان نے پمز میں ہونے والے سانحے کو لمحہ فکر قرار دیتے ہوئے ذمہ دار لوگوں کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ معمولی نہیں ہے۔ دیگر ممالک میں یہ واقعات نہیں ہوتے، سانحے کے ذمہ دار بھی جانتے ہیں کہ کچھ دیر بات ہوگی اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا، اس کے ذمہ دار کہاں ہیں؟ پمز کی متاثرہ مائیں رو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی کمیٹی بنائی جائے اسے ڈیڈ لائن دی جائے۔ حکومت اس وقت ایک کٹھ پتلی ہے اور اس کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتوں کے ایما پر ان کا ایجنڈا پورا کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ ایک جوڑے کو چار پانچ سال بعد اولاد ملی اور وہ بھی سانحے میں جاں بحق ہوگیا۔ اگر یہ واقعہ قصداً اس لیے کیا گیا کہ ہم اس میں مصروف ہوجائیں اور وہ اپنا کام کرتے رہیں تو معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز نبی اکرم کی ناموس پر حملے ہورہے ہیں، یہاں قادیانیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، اصل ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ اس ایشو کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ولیکا اسپتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل استعمال شدہ سرنجیں استعمال کرنے سے 70 سے زائد بچے ایڈز کا شکار ہوگئے تھے۔ اگر اس واقعے پر کچھ کرلیتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا۔ خالدہ عطیب نے کہا کہ بچوں کے وارڈ کو تالا لگادیا گیا تھا اور آدھا گھنٹہ چابی ڈھونڈنے میں لگ گیا، جس سے وارڈ بند رہا۔ چابی تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگا اور بچے دم گھٹنے سے فوت ہوئے۔ انہوں نے وارڈ کی انچارج اور ڈیوٹی پر موجود نرسز کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ خالدہ عطیب نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں متاثرہ بچے روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سندھ حکومت نے ان بچوں کے علاج کی ذمہ داری اٹھائی اور اس واقعے پر کسی نے استعفا دیا؟ سینیٹر دلاور حسین نے پمز کے انتظامی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے ای ڈی نے اپنے نیچے ایسے لوگ لگائے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ جاپان کے ادارے جائیکا نے بھاری فنڈنگ کرکے ایک منصوبہ دیا، لیکن جائیکا کے تعاون سے شروع ہونے والے منصوبے میں آپریشن بھی شروع نہیں ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ای ڈی نے وہاں باقاعدہ ایک دکانداری لگا رکھی ہے۔ جو ڈاکٹر منظور نظر لیبارٹریوں کے ٹیسٹ نہیں لکھتا، اسے کھڈے لگا دیا جاتا ہے۔ اس سانحے کا ذمہ دار وزیر نہیں بلکہ موجودہ ای ڈی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پمز اسپتال کے ای ڈی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ کے کیسز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پارلیمنٹیرینز نے اس ای ڈی کے خلاف بات کی، اس کے باوجود اسے نہیں ہٹایا جاسکا۔ ای ڈی کو وزیراعظم بھی نہیں ہٹا سکے، سوال یہ ہے کہ نااہل آدمی کو کس نے لگایا تھا۔ اتنے بڑے المیے کے بعد بھی اس نااہل شخص کو نہیں ہٹایا جاسکا۔ انہوں نے سب سے پہلے ای ڈی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس شخص کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں۔ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بچوں کا قتل ہے۔ اس پر سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگر پمز میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ قتل کی سازش ہے۔ انہوں نے سینیٹر پرویز رشید کی تائید بھی کی کہ حکومت پاکستان سے تنخواہ لینے والے کسی شخص کو نجی اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید بچوں کے والدین کو پریشرائز کیا جارہا ہے کہ وہ نہ بولیں۔ بعد ازاں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے ایوان میں خطاب سے پہلے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ پہلے ہمیں بات کرنے کا موقع دیں، پھر وزیر کی بات سنیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہیں جواب دینے کا کوئی شوق نہیں، وہ بیٹھ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ اندوہناک واقعہ تھا اور اس کی کوئی توجیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کمیٹی بنانے کی حمایت کی تاہم کہا کہ اس پر وقت کی قید نہ لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 4 لاکھ بچے مررہے ہیں اور ملک میں روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں۔ اموات میں دنیا میں سب سے بڑا نمبر ہمارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ نظام گل سڑچکا ہے، 2 برے لوگوں میں ایک کم برے شخص کو لگانا ہوتا ہے، جبکہ ہر کوئی کہتا ہے کہ کسی کا برا شخص ہٹا کر میرا برا آدمی لگادیں۔ مصطفیٰ کمال نے ایوان کو یقین دلایا کہ کسی ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزارتوں کے لیے ہم اپنی قبر خراب نہیں کریں گے۔ پورے ہیلتھ کیئر نظام کو ٹھیک کرنا ہے، پھر کوئی ایم این اے یا سینیٹر کسی ڈاکٹر کے لیے فون نہ کرے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سب کے بندے لگے ہوئے ہیں یہاں پر۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بچے کو بچایا گیا ہے اور اسے اسٹاف نے بچایا ہے۔ اس دوران سینیٹر شیری رحمان نے پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کردی۔ شیری رحمان نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یہ کمیٹی تشکیل دیں۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔

طلاق یافتہ بیوی کا قتل؛ سابق شوہر اور دیور کو عمر قید کی سزا

2026-09-18

پشاور: صوابی کی سیشن کورٹ نے طلاق یافتہ بیوی کے قتل کیس میں نامزد سابق شوہر اور اسکے بھائی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن مبارک زیب خان نے سماعت کی، جرم ثابت ہونے پر عدالت نے دونوں بھائیوں کو عمر قید کی سزاء سنا دی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ مقتولہ کے ورثاء کو دینے کا حکم دیا۔ پراسیکیوشن نے دلائل دیے کہ ملزم الحاف دین نے بھائی فرید الدین سے ملکر اپنی طلاق یافتہ بیوی مسمات رشیدہ بی بی سکنہ جلبئی کو دیور کے گھر میں قتل کیا تھا، ملزم الحاف الدین نے قتل سے تین ماہ پہلے بیوی کو طلاق دی تھی اور ملزم الحاف طلاق یافتہ بیوی کو دوسری شادی سے روک رہا تھا۔ پراسیکیوشن نے دلائل میں بتایا کہ ملزمان کی فائرنگ سے زخمی خاتون نے پولیس کو اسپتال میں بیان ریکارڈ کروایا تھا، واقعہ 11 ستمبر 2023 کو تورڈھیر صوابی میں پیش آیا تھا۔ واقعے کا ٹرائل مکمل ہونے اور جرم ثابت ہونے پر عدالت نے دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

سعودی سلامتی پر سمجھوتا ناممکن؛ پاکستان دفاع کیلیے ہرحد پار کرنے کو تیارہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

2026-09-18

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سعودی سلامتی پر سمجھوتا کرنا ممکن نہیں، مملکت اور حرمین شریفین کے دفاع کیلیے پاکستان ہرحد پار کرنے کو تیارہے۔ عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ہر قسم کی قربانی دینے اور کسی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے حوالے سے پاکستانی عزم غیر متزلزل ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ ترجمان پاک فوج نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، سیاسی اور عسکری تعلقات کو نا قابلِ شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی سکیورٹی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دو طرفہ دفاعی تعلقات اور معاہدوں کی بنیاد پر دونوں ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کیلیے کوشاں ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک غیر ملکی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں مکہ معاہدے کے تناظر میں کسی ممکنہ حملے کے ردعمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ دفاعی حکمت عملی کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے، کیونکہ سکیورٹی اور فوجی کارروائیوں کی تفصیلات ہمیشہ خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے کئی معاہدے موجود ہیں جن کے تحت سکیورٹی معاملات پر مشاورت جاری رہتی ہے، تاہم بروقت فیصلے اور جوابی کارروائی کا اختیار متعلقہ تینوں ممالک کے پاس ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا غیر متزلزل مؤقف نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار قوت کے طور پر پاکستان کے کردار کو بھی واضح کرتا ہے۔ دفاعی معاہدوں کی رازداری برقرار رکھنا اسٹریٹجک خود مختاری کے اصولوں کے عین مطابق ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

حرمین کے دفاع اور تحفظ کیلیے پاکستان کا بچہ بچہ جان دینے کو تیار ہے، مولانا فضل الرحمان

2026-09-18

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یمن سے ایک گروہ اٹھ کر سعودی عرب پر حملہ آور ہے، سعودی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کے دفاع اور تحفظ کیلیے اپنی جانیں دینے کو تیار ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شاہراہ قائدین پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوٙئے کہا کہ اس تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔ 52 سال قبل قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر خود کو احمدی اور لاہوری قرار دینے والوں کو غیر مسلم قرار دیا، اس طرح قومی اسمبلی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔ 6 ستمبر کو ملک کی دفاعی سرحدوں کا تحفظ ہوا تھا، 7 ستمبر کو نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔ نئی زبانیں سیکھیں انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی سرحدوں، نظریہ اور دینی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اٹھائے جانے والے مسائل کچھ اور ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے، میں عالمی قوتوں اور پاکستان کی مقتدرہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں جو سبق پڑھانا چاہتے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں، ہم آپ کے خود ساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو خوب جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، تمہارا باپ بھی نہ مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی کو بننے سے روک سکتا ہے، یہ نظریاتی اور فکری جنگ ہے، یہ جنگ انگریز بھی ہار گیا تھا آج اس کے ایجنٹ بھی ہار جائیں گے۔ علما، مدرسہ، جمعیت علمائے اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ یہ سب ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ ایران اور امریکہ میں صلح کرا دے، آج یمن سے ایک گروہ اٹھا ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہے، ہم سعودی عرب کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہے۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور ایران میں اور اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، اب سعودی عرب کے خلاف کچھ قوتوں کو ابھارا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مقدمہ بہاولپور سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک، جب تک ہم زندہ ہیں قادیانیوں کو مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قادیانی آج بھی سازشوں میں مصروف ہیں۔ آج کچھ خواتین نے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں بیٹھ کر تحفظ ختم نبوت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا، کیا یہ دہشت گردی نہیں۔ قادیانیوں کی سرپرستی میں ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اکابر کے وقت سے جدوجہد کر رہے ہیں، بندوق چھوڑ کر جمہوریت کا راستہ اپنایا۔ ہماری پگڑیاں اس لیے ہیں کہ سر اونچا رہے اور سینہ تان کر جدوجہد کرتے رہیں۔ ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا امن تباہ ہو چکا ہے، کے پی کے اور بلوچستان جل رہا ہے، سندھ میں ڈاکو راج ہے، بلوچستان میں حالات خراب ہیں، کوئی محفوظ نہیں۔ ریاست ماں ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں ریاست ماں بنے ڈائن نہ بنے۔ ہمارے کچھ دوست مہنگائی کے خلاف دھرنے دیتے ہیں، حکومت سے مذاکرات کرتے ہیں اور مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے، عوام ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں آپ یہ دھرنے بند کر دیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لوگ احتجاج کر کے تھک چکے ہیں۔ حکومت صرف صدر اور مقتدرہ کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھاندلی والے الیکشن نہیں مانتے، شفاف الیکشن دو اور عوام کو فیصلہ کرنے دو، میں عام پاکستانی کے مسائل کے لیے جنگ کر رہا ہوں، اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔ سود کے خلاف جنگ کریں، قانون سازی کے بعد اس پر عمل درآمد کریں۔ ہم غلامی نہیں کریں گے۔ آپ ایک ادارہ ہے میں آپ کا احترام کرتا ہوں، سیاست نہ کریں اور نہ مداخلت کریں۔عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔ 15 اکتوبر کو ملتان میں کانفرنس ہوگی۔

پاکستان اور لبنان کا دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

2026-09-15

اسلام آباد: پاکستان اور لبنان کے مابین دہشت گردی، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار نے آج وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ ملاقات میں سیکیورٹی تعاون، دہشتگردی، منشیات، غیر قانونی امیگریشن، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان پولیس اکیڈمیز اور تربیتی پروگرامز کے لیے اشتراک کار بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی، جبکہ علاقائی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں دونوں وزارت داخلہ کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کے لیے ایم او یو پر جلد دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوطرفہ کوآرڈینیشن بہتر بنانے کے لیے فوکل پرسنز بھی مقرر کیے جائیں گے۔ دونوں جانب سے دہشت گردوں اور ڈرگ مافیا کی سرکوبی اور سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے انٹیلیجنس شیئرنگ پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں انسداد منشیات کے شعبے میں ایم او یو پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جبکہ دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور لبنان کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس کے حامل افراد کو ویزہ فری انٹری کی سہولت فراہم کرنے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لبنانی ہم منصب سے کہا کہ امید ہے ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر ملک ہے اور لبنان مشترکہ مفادات کے شعبوں، خصوصاً داخلی سیکیورٹی میں تعاون کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ لبنانی وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ملاقات میں وزیر مملکت طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اے این ایف، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا اور ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن بھی موجود تھے۔ چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، اسپیشل سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔

وزیراعظم کا معاشی ترقی اور برآمدات بڑھانے کیلیے بڑے اقدامات کا حکم

2026-09-15

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معاشی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے بڑے اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔ ملکی برآمدات بڑھانے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا، جس میں انہوں نے ملکی برآمدات میں اضافے کو معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روایتی شعبوں کے ساتھ مزید شعبوں کو بھی عالمی منڈیوں میں برآمدات کے لیے تیار کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تجارت کو متنوع بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ شعبوں اور صنعتوں کو برآمدی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار عالمی تقاضوں کے مطابق بنانے، کوالٹی اشورنس کا نظام مؤثر کرنے اور بین الاقوامی معیار و ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے برآمدات میں ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قدر اور مسابقت دونوں میں اضافہ ہوگا۔ شہباز شریف نے برآمدی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں دور کرنے اور برآمدی عمل کو مزید آسان، تیز اور شفاف بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اس موقع پر اجلاس کو برآمدات کے فروغ کے لیے منظور شدہ اسٹرٹیجک روڈ میپ پر عملدرآمد کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جبکہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدی شعبوں میں تنوع، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور کاروباری سہولت کاری سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں برآمدی شعبوں کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ عالمی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے کے لیے متعدد دوست ممالک سے فری ٹریڈ ایگریمنٹس اور رعایتی نرخوں پر تجارت کے معاہدوں کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی ہارٹیکلچرل مصنوعات کو برآمدات میں شامل کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ بریفنگ کے مطابق پاکستانی سرجیکل اور میڈیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی ہسپتالوں کے ٹینڈرز اور پروکیورمنٹ میں پاکستانی ایکسپورٹرز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی کمپنیوں کو پاکستانی مصنوعات سے روشناس کرانے کے لیے ٹیکسپو (TEXPO)، ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ منرلز شو، فوڈ اینڈ ایگریکلچر (FoodAg) اور دیگر شعبوں سے متعلق نمائشیں ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کی جارہی ہیں۔ علاوہ ازیں برآمدات میں جدت کو فروغ دینے کے لیے انٹیلیکچوئل پراپرٹی قوانین کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور ای ڈی ایف کی جانب سے کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ اور محمد اورنگزیب شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں مشیر وزیراعظم ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

مکہ معاہدے میں ہم نے امن کے لیے اضافی ذمہ داری اٹھائی ہیں، عاصم افتخار

2026-09-14

نیویارک: پاکستان کے نئے سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت پاکستان اضافی ذمہ داری سنبھال رہا ہے ہمارا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کا قیام اور تنازعات کا پرامن حل ہے۔ نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تشویشناک طور پر منفی سمت میں جارہی ہے پاکستان اس حقیقت سے آگاہ ہے اور سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں اسے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ سیکرٹری خارجہ کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ مسئلے کا حل پرامن طریقے سے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ فوری جنگ بندی ہو کشیدگی میں کمی آئے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چارٹر کا بنیادی مقصد بھی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مکہ معاہدے میں تینوں ممالک شامل ہیں اور اس معاہدے کے تحت پاکستان اضافی ذمہ داری قبول کررہا ہے۔ ایران اور امریکا کے تنازع کے دوران پاکستان ان ممالک میں سرفہرست رہا جنہوں نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کردار ادا کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطین اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ اقوام متحدہ عالمی امن کے

نادرا میں ویکسی نیشن کی مد میں ہزاروں روپے زیادہ وصول کیے جانے کا انکشاف

2026-09-14

مختلف نادرا سہولت سینٹرز پر عمرہ زائرین سے ویکسی نیشن فیس کی مد میں مقررہ رقم سے مبینہ طور پر ہزاروں روپے اضافی وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے. تفصیلات کے مطابق متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ عمرہ ادائیگی کے لیے درکار ویکسی نیشن اور متعلقہ دستاویزات کے حصول کے دوران ان سے ایسی اضافی رقوم طلب کی جا رہی ہیں جن کی واضح تفصیلات یا سرکاری رسید فراہم نہیں کی جاتی۔ شہریوں کے مطابق بیرونِ ملک سفر کی تیاری کے دوران جب وہ نادرا سہولت سینٹرز سے متعلقہ سہولت حاصل کرنے کے لیے پہنچتے ہیں تو انہیں مختلف مدات میں اضافی فیس بتائی جاتی ہے۔ بعض زائرین نے الزام عائد کیا ہے کہ مقررہ سرکاری فیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث عمرہ زائرین، خصوصاً بزرگ شہریوں اور خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاک آئی ڈی ایپ کی تحت انفلوئنزا ویکسی نیشن کی فیس 1,720 روپے جبکہ گردن توڑ بخار 2785 ہے جو 4505 بنتے ہیں. لیکن نادرا سینٹرز میں ویکسینز کی مد میں 7 ہزار لیے جارہے ہیں. متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نادرا سہولت سینٹرز پر ویکسی نیشن سمیت تمام متعلقہ خدمات کی سرکاری فیس نمایاں طور پر آویزاں کریں تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ انہیں کس مد میں کتنی رقم ادا کرنی ہے۔ شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ ہر ادائیگی کے عوض باقاعدہ سرکاری رسید فراہم کی جانی چاہیے اور اگر کسی اضافی سروس یا سہولت کے لیے الگ فیس مقرر ہے تو اس کی تفصیلات بھی واضح کی جائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مبینہ طور پر زائد رقم وصول کرنے کی شکایات کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عمرہ زائرین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ حج و عمرہ سیزن کے دوران شہریوں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کے لیے فیسوں اور خدمات کے نظام کی مؤثر نگرانی کی جائے اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا جائے۔

سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ آج منظور ہونے کا امکان

2026-09-14

کراچی: سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 آج منظور ہونے کا امکان ہے، جبکہ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے مجوزہ ترمیمی بل پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔ سندھ اسمبلی کی 12 رکنی خصوصی کمیٹی اپنی رپورٹ آج جمع کروائے گی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ترمیمی بل پر سخت اعتراضات ہیں۔ ایم کیو ایم ارکان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اپوزیشن ارکان کے مطابق ان کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا، جبکہ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی مخالفت کی ہے۔ مجوزہ بل کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اختیارات اور ذمہ داریاں وضع کی جائیں گی، جبکہ بلدیاتی کونسلوں اور صوبائی محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی بھی تجویز ہے۔ تجویز کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا عمل کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل شروع کرنا لازمی ہوگا۔ نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش نمائندہ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام جاری رکھے گا۔ یونین کونسلز اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق شقیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد دو تہائی اکثریت سے منظور ہوسکے گی۔ مجوزہ ترمیم کے تحت ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ کونسل کا کنوینر مقرر کیا جائے گا۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں اضافہ، عوام کی واضح رائے سامنے آگئی

2026-09-11

پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی کیلئے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے بحث تیز ہوگئی ہے جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اس اقدام کی کھل کر حمایت کردی ہے۔ سنو ایف ایم کے ایک ملک گیر سروے کے مطابق 75.52 فیصد پاکستانیوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جبکہ 72.48 فیصد افراد نے اسے مسائل کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ سروے میں مجموعی طور پر 4 ہزار 18 افراد نے شرکت کی، جن میں پنجاب سے 40.49 فیصد، سندھ سے 35.52 فیصد، خیبرپختونخوا سے 14.09 فیصد اور بلوچستان سے 2 فیصد افراد شامل تھے۔ نئے صوبوں کی تعداد کے تعین کے حوالے سے 40 فیصد سے زائد شرکاء نے رائے دی کہ اس کا فیصلہ ماہرین کی مشاورت سے کیا جانا چاہیے۔ اعداد و شمار کے مطابق 26.40 فیصد شرکاء نے 24 نئے صوبوں، 21.95 فیصد نے 12 صوبوں جبکہ 11.45 فیصد نے 6 نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جس سے زیادہ صوبوں کے قیام کا رجحان نمایاں نظر آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے نتائج واضح کرتے ہیں کہ عوام کی بڑی تعداد نئے صوبوں کو انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے حل کیلئے ضروری سمجھتی ہے۔ دوسری جانب جنوبی خیبرپختونخوا کے شہری بھی نئے صوبوں کے قیام کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں کے عوام نے ایک الگ صوبے کے قیام کیلئے آواز بلند کردی ہے۔ شہریوں کے مطابق جنوبی خیبرپختونخوا کی سرائیکی آبادی کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ انتظامی امور بہتر ہوسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صحت اور تعلیم کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگوں کو ملتان، پشاور اور اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیرہ اسماعیل خان کو الگ صوبہ بنایا جائے تو یہاں فنڈز کی فراہمی بہتر ہوگی، ہسپتالوں کی حالت میں بہتری آئے گی اور سیکیورٹی مسائل بھی حل ہوسکیں گے۔ ان کے مطابق صوبوں کی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے تاکہ عوام کو سرکاری اداروں تک آسان رسائی حاصل ہوسکے۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 78 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے

2026-09-11

کراچی: بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ یوم وفات کے موقع پر مزار قائد پر اعلیٰ سرکاری حکام سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد حاضری دے کر بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ روانہ ہوئے جہاں 1896 میں بیرسٹری مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آئے۔ اپنی قانونی قابلیت اور اصول پسندی کے باعث وہ جلد برصغیر کے ممتاز قانون دانوں میں شمار ہونے لگے۔ وطن واپسی کے بعد قائداعظم نے عملی سیاست کا آغاز کیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہیں برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مفادات کے حوالے سے کانگریس کی پالیسیوں پر تحفظات پیدا ہوئے۔ قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور ایک عرصے تک کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان سیاسی تعاون کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔ تاہم کانگریس کی پالیسیوں سے اختلافات بڑھنے کے بعد انہوں نے 1920 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی اور مسلم لیگ کی قیادت کے ذریعے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے جدوجہد تیز کردی۔ 1937 میں مولانا مظہرالدین کی جانب سے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ کا لقب دیا گیا۔ ان کی مدبرانہ قیادت، سیاسی جدوجہد اور آئینی جدوجہد کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے نے عملی شکل اختیار کی اور 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ وہ ایک مضبوط، منظم اور جمہوری پاکستان کی تعمیر کے خواہاں تھے تاہم علالت نے انہیں زیادہ عرصہ کام کرنے کا موقع نہ دیا۔ قائداعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 کو وفات پاگئے اور یوں قوم اپنے عظیم رہنما سے محروم ہوگئی۔ ان کی وفات کو 78 برس گزرنے کے باوجود پاکستانی قوم ہر سال ان کے یوم وفات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ مزار قائد پر ہونے والی تقریبات اور ملک بھر میں منعقد ہونے والے پروگرام اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ قائداعظم کی جدوجہد، قیادت اور پاکستان کے قیام میں ان کا کردار آج بھی قومی تاریخ کا بنیادی باب ہے۔